کِچن اور شیڈو کیبنیٹس

August 15, 2018
 

ملک میں نئی حکومت کی تشکیل کے مختلف مراحل طے کیے جارہے ہیں۔ جمہوری روایات کے مطابق ہر حکومت ملک کا انتظام چلانے اور اپنی جماعت کے منشور پر عمل درآمد کرنے کے لیے سرکاری کابینہ تشکیل دیتی ہے۔ کابینہ ایک ٹیم کے طور پر کام کرتی ہے اور صدر یا وزیر اعظم کو مختلف امورپرمشورےبھی دیتی ہے۔تاہم پاکستان سمیت مختلف ممالک میں مخالفین حکومت پریہ الزام لگاتےہیں کہ وہ ملک کے اہم امور کے بارے میں فیصلہ کرنے کے مرحلے میں صرف چنیدہ شخصیات سے صلاح ومشورہ کرتی اوران ہی کی مدد سے کسی فیصلےپر پہنچتی ہے۔سیاسی اصطلا ح میں ایسی چنیدہ شخصیات کو’’کچن کیبنٹ‘‘کہاجاتاہے ۔ دوسری جانب بہت سے جمہوری ممالک میں یہ روایت ہے کہ حزبِ مخالف شیڈو کیبنٹ (تمثیلی کابینہ )تشکیل د یتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کچن اور شیڈو کیبنٹ کیا ہوتی ہیں، یہ کیوں تشکیل دی جاتی ہیں،کیا ان کی کوئی باقائدہ حیثیت ہوتی ہے اور ان کی تاریخ کیا ہے؟ ذیل میں ہم نے ان ہی سوالات کے جواب جاننے کی کوشش کی ہے۔

کچن کیبنٹ کی اصطلاح کی تاریخ

کچن کیبنٹ کی اصطلاح کے منظر ِعام پر آنے کی معروف تاریخ کے بارے میں امریکا میں 1831 ء میں پہلا سراغ ملتا ہے۔ دراصل اس برس بینک آف دی یونائٹیڈ اسٹیٹس کے صدر، نکولس بائیڈل نے امریکاکے صد ر کے مشیروں کو ایک خط لکھا تھا جس میں یہ شکوہ کیا گیا تھا کہ کچن کیبنٹ، پارلر(یعنی سرکاری کابینہ )پرغالب آ ر ہی ہے۔تاہم یہ اصطلاح پہلی مرتبہ 13مارچ 1832ء کو اخبارات اور جرائد میں شایع ہوئی تھی۔ اس تاریخ کو مِسی سِپی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جارج پنڈیکسٹر کا ایک اخبار میں مضمون شایع ہوا تھا جس میں انہوں نے امریکا کی جانب سے سلطنتِ برطانیہ کے لیے مقرر کیے جانے والے وزیر وان بارین کی تقرری کے خلاف دیے جانے والے اپنے ووٹ کا دفاع کیا تھا۔ آج کچن کیبنٹ کی اصطلاح نہ صرف امریکابلکہ برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، بھارت، اسرائیل وغیرہ میں کافی استعمال کی جاتی ہے۔

امریکا میںاینڈریو جیکسن سے آغاز

عام طور سے یہ اصطلاح قابلِ اعتماد دوستوںاور ساتھیوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ سیاست میں یہ بالخصوص صدر یا وزیر اعظم کے غیر سرکاری مشیروں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو انہیں مختلف امور پر مشورے دیتے ہیں یا ایسے مشوروں میں شامل رہتے ہیں۔امریکا میں سیاسی معنوں میں یہ اصطلاح سب سے پہلے1831 ء میں صدر اینڈریو جیکسن کے زمانے میں ان کے مخالفین کی جانب سے استعمال کی گئی تھی۔ مخالفین نے الزام لگایا تھا کہ جیکسن سرکاری کابینہ کے متوازی اپنے غیر سرکاری مشیروں کی کابینہ سے مسلسل مشورے کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جیکسن اپنے غیر سرکاری مشیروں سے وائٹ ہاؤس کے باورچی خانے میں ملا کرتے تھے، لہذا اس مناسبت سے اسے کچن کیبنٹ کا نام دیا گیا۔جیکسن نے اپنے پہلے دورِ صدارت کے وسط میں کابینہ کے آٹھ میں سے پانچ اراکین کو برطرف کردیا تھا۔ دراصل نائب صدر، جان سی کیلہن کے ساتھ ان کے تعلقات ختم ہوگئےتھےاور انہوں نے کیلہن کے اتحادی اراکین کو کابینہ سے فارغ کر دیا تھا۔ فارغ ہونے والوں میں ان کے اپنے حمایتی اور وزیرِ داخلہ مارٹن وان برین اور وزیرِ جنگ جان ایٹن بھی شامل تھے۔ تاہم بعد میں جیکسن نے وان برین کو واشنگٹن میں وزیر برائے سلطنتِ برطانیہ مقرر کردیا تھا۔

جیکسن کی کچن کیبنٹ میں ان کے طویل عرصے تک سیاسی اتحادی رہنے والے مارٹن وان برین، فرانسِس پریسٹن بلیئر (واشنگٹن پوسٹ کے مدیر) ،اموس کینڈل ( صحافی اور صدر کے تقریر نگار) ،ولیم بی لیوس، اینڈریو جیکسن ڈونلسن،جان اورٹن اور ان کے نئے اٹارنی جنر ل ، راجر بی ٹینی شامل تھے۔ ان میں سے بلیئر اور کینڈل کا تعلق چوں کہ صحافت سے تھا لہذا حریف اخبارات ان دونوں پر بالخصوص زیادہ تنقید کرتے تھے۔ لیوس 1812 ء کی جنگ کے دوران کوارٹر ماسٹر کی حیثیت سے جیکسن کی ماتحتی میں کام کرچکے تھے۔اینڈریو ڈونلسن، جیکسن کے لے پالک بیٹے اور پرائیویٹ سیکریٹری تھے اور اوورٹن جیکسن کے دوست اور 1790 ء کی دہائی سے ان کے کاروباری شراکت دار تھے۔ تاہم 1831 ء میں سرکاری کابینہ کو دوبارہ منظّم کرنے کے بعد جیکسن نے اپنی کچن کیبنٹ ختم کردی تھی۔

امریکی صدور کا کچن کیبنٹ پر انحصار

دو اور امریکی صدور، لنڈن بی جانسن اور جان ایف کینیڈی بھی اس حوالے سے شہرت رکھتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ کلارک کلِفورڈ امریکا کے وزیر دفاع بننے سے قبل ہی ان دونوں کی کچن کیبنٹ کے رکن تھے۔ رابرٹ کینیڈی امریکا کی تاریخ کی ایسی منفرد شخصیت تھے جو صدر(یعنی ان کے بھائی،جان ایف کینیڈی)کی کچن کیبنٹ کے رکن ہونے کے ساتھ امریکا کے اٹارنی جنرل بھی تھے۔ رونالڈ ریگن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی کچن کیبنٹ میں ان کے وہ اتحادی اور دوست شامل تھے جن کا تعلق کیلی فورنیا سے تھا۔ دس تا بارہ کاروباری افراد پر مشتمل یہ گروہ آزاد کاروباری نظام کا سخت مخالف اور قدامت پرستانہ فکر کا حامل تھا۔ ان کی کچن کیبنٹ میں الفریڈبلومنگ ڈیل، ارل برین، جسٹن وِٹلوک ڈارٹ، ولیم فرینچ اسمتھ،چارلس وِک، ولیم اے ولسن، گاڑیوں کے ڈیلر، ہومز ٹٹل، شراب کے بڑے تاجر،جوزف کُورز، لوہے کے بڑے تاجر اور مخیرشخصیت ارل جارجینسن وغیرہ شامل تھے۔

ان ہی افراد نے اس زمانے میں کئی تھنک ٹینکس اور پالیسی انسٹی ٹیوٹس بھی قائم کیے تھے جن میں سے ایک عالمی شہرت یافتہ ادارہ، ہیری ٹیج فاؤنڈیشن بھی ہے۔دیگر امریکی صدور ابراہام لنکن، تھیوڈور روزویلٹ، وُڈرو ولسن، آئزن ہاور، جان ایف کینیڈی، رچرڈ نکسن اور رونالڈ ریگن نے بھی اس حوالے سے کافی شہرت پائی۔ کہا جاتا ہے کہ ابراہام لنکن نے آزادی کا اعلان اپنی کچن کیبنٹ سے مشورے کے بعد کیا تھا اور اس بارے میں سرکاری کابینہ کی امنگوں کو پسِ پشت ڈال دیا تھا۔وُڈ رو ولسن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جنگِ عظیم اوّل سے متعلق اہم فیصلے کچن کیبنٹ کی مشاورت سے کرتے تھے ۔روزویلٹ1930ء کی دہائی کی کساد بازاری اور جنگِ عظیم دوم سے متعلق فیصلوں کے ضمن میں اپنی کچن کیبنٹ پر انحصار کرتے تھے۔

امریکی صدر رونالڈ ریگن کی کچن کیبنٹ میں گرین وِل، جنوبی کیرولینا، سے تعلق رکھنے والے ممتاز صنعت کار، ولیم اے رو، ممتاز صنعت کار جوزف کُورز،کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے ممتاز قانون داں ایڈون میز تھری (جو ریگن کی حکومت کے دوران اٹارنی جنرل بھی رہے) گاڑیوںکی خرید و فروخت کے بڑے کاروبار کے مالک ہومز ٹٹل، ویسٹ کوسٹ سے تعلق رکھنے والے ممتاز قانون داں ولیم فرینچ، ممتاز صنعت کار جسٹن ڈارٹ،رئیل اسٹیٹ کی دنیا کی بڑی کاروباری شخصیت ولیم اے ولسن اور ولیم فرینچ اسمتھ شامل تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان ہی لوگوں نے 1981 ء میں ریگن کو کابینہ کی تشکیل میں مدد دی تھی۔ جارج بش کی کچن کیبنٹ صرف ایک رکنی تھی۔ کہا جاتا ہے اسے وائٹ ہاؤس کے سخت گیر عملے کی حمایت حاصل تھی اور وہ خفیہ طریقے سے کام کرتی تھی۔ یہ کچن کیبنٹ صرف نائب صدر، ڈک چینی پر مشتمل تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے پسِ منظر میں رہ کر دراصل ڈک چینی ہی بش حکومت کی پالیسیز بناتے تھے۔

برطانیہ میں تاریخ

برطانیہ کی پالیسی سازی کے شعبے میں یہ اصطلاح وزیرِ اعظم،ہیرلڈ ولسن کے ادوارِ حکومت (1964ء تا1970ء اور 1974ء تا 1976ء) میں ان کے اندرونی حلقے کی نشان دہی کرنےکےلیے استعمال کی جاتی تھی۔ اس حلقے میں ان کے قریبی دوست اور سیاسی اتحادی،مثلا مارسیا ولیمز،لیڈی فاکینڈر،جارج وِگ،جو ہینز اور برنارڈ ڈونوگ شامل تھے۔ اسی طرح ایک اور برطانوی وزیر اعظم، ٹونی بلیئر کے دور میں یہ اصطلاح روایتی ڈیمو کریٹک کیبنٹ کے ڈھانچے کو ایک جانب کردیے جانے کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی کیوں کہ وہ غیر منتخب مشیروں اور اتحادیوں کے ایک قریبی حلقے پر بہت زیادہ انحصار کرتے تھے۔ ان کے بارے میں تو یہ تک مشہورہے کہ انہوں نے اپنی کابینہ بنانے کے لیے بھی اپنے مشیرِ خاص،اینڈریو ایڈوِنس سے مشورہ کیا تھا۔

عراق کی جنگ میں برطانیہ کے کردار کے بارے میں 2003 ء میں دارالعوام کی ایک کمیٹی نے تحقیقات کی تھیں۔ اس کمیٹی میں بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بلیئر حکومت میں عالمی ترقیات کے وزیر رہنے والے،کلیر شارٹ نے الزام لگایا تھا کہ بلیئرکے مٹھی بھرغیر منتخب مشیروں کا عراق کے بارے میں حکومت کی حکمت عملی بنانے کے ضمن میں غلبہ تھا۔اس موقعے پر کلیر شارٹ نے بلیئر کی کچن کیبنٹ کے اراکین کے نام بتائے تھے ۔ان میں بلیئر کے چیف آف اسٹاف ،جوناتھن پاول، ان کے ڈائریکٹر آف کمیونی کیشن، الیسٹیئرکیمپ بیل،پولیٹیکل سیکریٹری،لیڈی مورگن اور خارجہ امورکے مشیر،ڈیوڈ میننگ شامل تھے۔ کلیئر نے اپنے عہدے سے مستعفی ہوتے وقت ایوان میں جو تقریر کی تھی اس میں انہوں نے کہا تھا کہ ٹونی بلیئر کے دوسرے دورِ حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وزیرِ اعظم کے ہاتھوں میں اختیارات کا ارتکاز ہوگیا ہے،وہ چند خاص مشیروں سے نجی طورپر مل کر فیصلے کرتے ہیں اور اہم فیصلوں کے ضمن میں وزیرِ اعظم باقاعدہ مشاورت نہیں کرتے۔

برطانیہ میں عموما کچن کیبنٹ کے اراکین اپنی اس حیثیت کو پارلیمانی کیریئر میں اسپرنگ بورڈ کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ وہاں کچن کیبنٹ کے لیے ’’نمبر دس کی مشین‘‘ کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے۔واضح رہے کہ برطانوی وزیر اعظم کی سرکاری رہایش گاہ کو دس ڈاؤننگ اسٹریٹ کہا جاتا ہے، لہذا اس نسبت سے وزیر اعظم کی طرف اشارہ کرنے کے لیے دس کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

آسٹریلیا اور بھارت کی مثالیں

آسٹریلیا کے سابق وزیر اعظم کِیون رُڈ کی بھی ایک کچن کیبنٹ تھی جس میں وین سان، جولیا گیلارڈ اور وزیر خزانہ لندسے ٹینر شامل تھے۔کہا جاتا ہے کہ ان کے وزارتِ عظمی سے ہاتھ دھونے کا ایک سبب ان کی کچن کیبنٹ بھی تھی۔ بھارت میں چند برس قبل اگرچہ وزیر اعظم کا عہدہ ڈاکٹر من موہن سنگھ کے پاس تھا، لیکن کہا جاتا ہے کہ ملک کی تقدیر کے فیصلے حکم راں جماعت کی سربراہ، سونیا گاندھی اور نیشنل ایڈوائزری کونسل کے نام سے قائم ایک سرکاری ڈھانچا کرتاتھاجسے وہاں کے ذرایع ابلاغ اور عوام من موہن سنگھ کی کچن کیبنٹ قرار دیتے تھے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم گولڈا مائرکا باورچی خانہ اور سیاست

اسرائیل میں کچن کیبنٹ کی اصطلاح ان سینیئر سرکاری حکام یا غیر سرکاری مشیروں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو سیکیورٹی کیبنٹ کو مشورے دیتے ہیں۔ لہذا باالفاظ دیگر اسے اندرونی سیکیورٹی کیبنٹ کہا جاسکتا ہے جو سیکیورٹی کیبنٹ کے ساتھ کام کرتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسرائیل میں اس کا آغاز وزیرِ اعظم گولڈا مائر کے زمانے میں باورچی خانے میں ہونے والی سرگرمیوں سے ہوا۔ ان کا یہ طریقہ تھا کہ وہ شبّت (یہودیوں کا آرام کا دن،جو ہفتے کا ساتواں دن ہوتا ہے)کی صبح صلاح و مشورے کے لیے مذکورہ افراد کو اپنے گھر پر مدعو کرتی تھیں تاکہ اگلے روز ہونے والے کابینہ کے اجلاس کے لیے تیاری کرسکیں۔ اس موقعے پر وہ اپنے ہاتھ سے بنایا ہوا کیک باورچی خانے کی میز پر شرکاء کو پیش کرتی تھیں اور اس دوران گفتگو کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ اسی وجہ سے انہیں ’’گولڈا کچن‘‘ کا خطاب دیا گیا تھا۔ ان کی کچن کیبنٹ کے اجلاس میں عموما موشے دایان،ایغال الون، یسرائیل غلیلی اوریاکوف شمشن شپیرا کے ساتھ کئی ایسے سینئر سرکاری حکام شرکت کیا کرتے جن کی موقعے کی مناسبت سے ضرورت ہوتی تھی۔گولڈا مائر کے سیاسی مخالفین اس مشق کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے تھے کہ وزیرِ اعظم کا یہ عمل سرکاری ڈھانچے کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

نیتن یاہو بھی پیچھے نہیں رہے

ایک اور اسرائیلی وزیر اعظم،بنجمن نیتن یاہو نے بھی اپنے پہلے دور میں کچن کیبنٹ بنائی تھی جس میں ان کے علاوہ وزیر خارجہ، ڈیوڈ لیوی اور اسحاق مردیخائی شامل تھے۔ لیکن1997ء میں جب ایریل شیرون کو وزیرِ خزانہ کے عہدے کے لیے نام زد کیا گیا تو انہوں نے اسے قبول کرنے کے لیے یہ شرط عائد کی تھی کہ انہیں وزیر اعظم کی کچن کیبنٹ کا بھی حصہ بنایا جائے۔ ان کا یہ مطالبہ قبول کرلیا گیا اور ڈیوڈ لیوی کچن کیبنٹ سے باہر ہوگئے تھے۔اس نو تشکیل شدہ کچن کیبنٹ کی سرگرمیاں 1998 ء میں شروع ہوئیں تو اس میں نیتن یاہو، مردیخائی، شیرون اور صنعت، تجارت اور محنت کے وزیر نیتن شرنسکی شرکت کیا کرتے تھے۔ تاہم جنوری1999ء میں کابینہ میں ردوبدل کے بعد نیتن یاہو نے اعلان کیا تھا کہ کچن کیبنٹ ختم کردی گئی ہے اور اس کی جگہ وزراء کی ٹیم نے لے لی ہے۔ نیتن یاہوکے دوسرے دورِ حکومت میں ان کی کچن کیبنٹ چنیدہ وزراء پر مشتمل تھی۔اب ان کی کچن کیبنٹ میں وزیر خزانہ یائر لپد، وزیر دفاع موشے یالون، وزیر انصاف زپی لیون اور صنعت، تجارت اور محنت کے وزیر نفتالی بینیٹ شامل بتائے جاتے تھے۔

کچن کیبنٹ کی ہیئتِ ترکیبی

چوں کہ کچن کیبنٹ کی کوئی سرکاری یا باقاعدہ حیثیت نہیں ہوتی اس لیے اس کے بارے میں دنیا بھر میں کوئی طے شدہ ضابطے یا اصول مقرر نہیں ہیں۔ مغربی ممالک میں عموما کچن کیبنٹ میں صدر یا وزیر اعظم کے چیف آف اسٹاف، مختلف شعبوں کے لیے حکمت عملی تیار کرنے والے اہم ترین افراد، امورِ خارجہ اور شعبہ تعلقات اور ابلاغ کے بارے میں مشیران شامل ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں دوسرے درجے میں تھنک ٹینکس اور صنعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد آتے ہیں۔ تاہم ان کی تعداد عمومادس سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ان میں سے زیادہ تر مشیرِ خاص یا پھر سرکاری ملازم ہوتے ہیں۔ ان میں سے وہ افراد جنہیں سیاسی کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ان کی درج بالا حیثیت نہیں ہوتی اور وہ صدر یا وزیر اعظم کی پارٹی کے ملازم ہوتے ہیں۔

اعتراضات

کچن کیبنٹ پر اعتراض کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے صدر یا وزیر اعظم اپنے سرکاری مشیروں اور حکّام سے کٹ جاتا ہے اور اعلی انتظامی عہدے داروں کے درمیان غیر ضروری تنازعات اور تقسیم ہوجاتی ہے۔ مثلا امریکی صدر نکسن پر الزام تھا کہ وہ اپنے وزیر خارجہ، ولیم پی راجرزکے بجائےاپنے مشیر، ہینری کسنجر کو زیادہ اہمیت دیتے تھے، لہذا راجرز نے اس مسئلے پر استعفی دے دیا تھا۔

برین ٹرسٹ

مغرب میں کچن کیبنٹ کی طرز پر ایک اور اصطلاح ’’برین ٹرسٹ‘‘ کی استعمال کی جاتی ہے۔ اسے بھی کچن کیبنٹ، قریبی دوستوں کے حلقے اور تھنک ٹینک کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکا کے سابق صدر فرینکلن روزویلٹ کا ایک برین ٹرسٹ تھا۔ یہ اصطلاح 1899ء میں امریکا میںایجاد ہوئی تھی۔ اس وقت وہاںغیر قانونی اجارہ داریوں کے خلاف حکومت کی جانب سے تیز رفتارکارروائیاں جاری تھیں۔ ایسے میں اوہایو سے نکلنے والے اخبار، ڈیلی اسٹار نے اپنے ایک مضمون میں یہ اصطلاح استعمال کی تھی۔ لیکن اس وقت تک اس اصطلاح کا اطلاق صدر کے مشیروں کی ٹیم پر نہیںہوتاتھا۔تاآنکہ1932ءمیںروزویلٹ انتخابا ت میں جیت کر صدر بنے۔وہ اپنے پیش رو، وُڈ رو ولسن کے دانش وردوستوں کے قریبی حلقے سے بہت متاثر تھے جو انہیں سرکاری حکمت عملیوں کے بارے میں مشورے دیتے تھے۔ واضح رہے کہ ولسن نے پہلی جنگِ عظیم کے اختتام پر 1917 ء میں امن مذاکرات کے بارے میں مشورے دینے کے لیے مشیروں کا ایک حلقہ بنایا تھا۔ ولسن کی تقلید میں روزویلٹ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران صلاح و مشورے کے لیے مشیروں کا ایک بہت قریبی حلقہ تشکیل دیا تھا۔ نیویارک ٹائمز سے تعلق رکھنے والا رپو ر ٹر ، جیمز کیرین وہ پہلا شخص تھا جس نے روزویلٹ کی اس ٹیم کو ’’برینز ٹرسٹ‘‘ کا نام دیا تھا۔ یہ اصطلاح بعد ازاں وہاں قومی سطح پر استعمال ہونے لگی تھی،تاہم اسے مختصر کرکے برین ٹرسٹ کردیا گیا تھا۔ اس گروپ میں ابتدائی طورپر ایڈولف اے برلے جونیر، ریمنڈ مولے، ریکس فورڈ گائے ٹگ ویل اور کولمبیا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے تین پروفیسرز شامل تھے۔ صدر منتخب ہونے کے بعد روز ویلٹ نے اس حلقے کو کافی وسعت دے دی تھی ۔

تمثیلی کابینہ

جمہوری نظام ِ حکومت میں ایک اصطلاح ’’شیڈو کیبنٹ‘‘ (تمثیلی کابینہ )کی بھی استعمال کی جاتی ہے۔ یہ دراصل سرکاری کابینہ کی تمثیل ، پرچھائیں یا عکس ہوتی ہے اور اسے پارلیمان میں موجود حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بناتی ہے۔اسے بنانےکےدوبنیادی مقاصد ہوتے ہیں۔ اوّل یہ کہ زندگی کے ہر شعبے سے متعلق حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھی جاسکے ۔ دوم یہ کہ ہر متعلقہ وزارت کے لیے تجاویز دی جاسکیں اور اگر کوئی ہنگامی صورت حال پیدا ہوتو حزبِ اختلاف فوری طورپر حکومت کی زمام سنبھال کر کاروبارِ مملکت چلاسکے۔ اس مشق کی وجہ سے اراکینِ پارلیمان کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ انہیں متعلقہ وزارتیںچلانے کا کسی حد تک تجربہ ہوجاتا ہے اور وہ متعلقہ وزارتوں کے معاملات اور مسائل سے ہمہ وقت باخبر رہتے ہیں۔

آئینی حیثیت اور سہولتیں

ترقی یافتہ ممالک میں باقاعدہ طور پر بننے والی شیڈو کیبنٹ کو حکومت آئین کے مطابق ہر طرح کی ضروری سہولتیں فراہم کرنے کی پابند ہوتی ہے اور اس کابینہ کے اراکین کو آئینی اور قانونی طور پر یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی وزارت سے کسی بھی سرکاری معاملے میں معلومات طلب کرسکتے ہیں جو انہیںجلد از جلد فراہم کردی جاتی ہے۔ یہ کابینہ عام طور سے قائدِ حزبِ اختلاف کی قیادت میں بنائی جاتی ہے اور اس میں حزبِ اختلاف کے سینیئر اراکین شامل ہوتے ہیں۔ اس کابینہ کے ہر رکن کو سرکاری وزیر کی طرح کوئی مخصوص محکمہ دیا جاتا اورجب حزبِ اختلاف حکومت میں آتی ہے تو عموما تمثیلی کابینہ کے اراکین ہی سرکاری کابینہ میں شامل کیے جاتے ہیں۔ لہذا وہ فوری طور پر فرائض انجام دینے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں۔ زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک میں تمثیلی کابینہ کے اراکین کو شیڈو منسٹر کہا جاتا ہے۔تاہم کینیڈا میں ان کے لیے عام طور سے اپوزیشن کرِیٹک (حزبِ اختلاف کے ناقد) اور بر طانیہ کے دارالامراء میں اسپوکس پرسن کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے ۔ آسٹریلیا میں دیگر جماعتیں بالعموم اور آسٹریلین لیبر پارٹی بالخصوص تمثیلی کابینہ کے اراکین کا انتخاب قرعہ اندازی کے ذریعے کرتی ہے اور پھر ہر رکن کو کوئی شعبہ دیا جاتا ہے۔

تمثیلی کابینہ اوربرطانیہ

برطانیہ میں تمثیلی کابینہ کی تاریخ انیسویں صدی کے نصف سے شروع ہوتی ہے اور یہ اس وقت سے برطانیہ کے غیر تحریری آئین کا حصہ ہے۔تاریخ کے مطابق برطانیہ کی لیبر پارٹی کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی روایت 1923ء سے ہے۔روایت کے مطابق یہ کمیٹی دارالعوام کے حزبِ اختلاف کے بارہ اراکین پر مشتمل ہوتی ہے اور ہر پارلیمانی سیشن کے آغاز پر نومبر میں اجلاس منعقد کرتی ہے۔ اس کمیٹی میں بر بنائے عہدہ چھ مزید افراد شامل ہوتے ہیں، یعنی قائد اور نائب قائدِ حزبِ اختلاف، دارالعوام میں پارٹی کا چیف وہپ، لیبر پارٹی کے اتحادیوں کا قائد اور اتحادیوں کا چیف وہپ ۔ اس طرح لیبر پارٹی کی تمثیلی کابینہ کُل اٹھارہ اراکین پر مشتمل ہوتی تھی۔ تاہم سر ایلک ڈگلس نے فروری 1965ء میں جو تمثیلی کابینہ بنائی وہ 21 افراد پر مشتمل تھی ۔اس کے علاوہ اس میں اگلی نشستوں پر بیٹھنے والے 36 ترجمان اور دس وہپس بھی شامل تھے۔ واضح رہے کہ وہاں اس بارے میں کنزرویٹیو، لیبر اور لبرل جماعتوں کے اصول مختلف رہے ہیں۔1836ء میں سر رابرٹ پیل وہاں حزبِ اختلاف کے قائد تھے۔ وہ اکثرحزبِ اختلاف کے ممتاز اراکین کے ساتھ اجلاس منعقد کیا کرتے تھے۔ برطانیہ کی سیاسی تاریخ میں اسے حزبِ اختلاف کی جانب سے منظّم انداز میں مشاورت کی ابتدائی مثال قرار دیا جاتا ہے۔ اس سے قبل لارڈ جان رسل نے ایک کمیٹی قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی جو تمثیلی کابینہ سے ملتی جلتی شکل تھی۔ بعد ازاں آلتھروپ نے بھی کچھ ایسی ہی تجویز پیش کی تھی۔ تمثیلی کابینہ سے ملتے جلتے اجلاس کی روداد پہلی مرتبہ 1856 ء میں ملتی ہے۔ پھر 1963ء میں پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی روداد اور اس میں کی جانے والی رائے شماری کی تفصیل ملتی ہے۔برطانیہ میںحزبِ اختلاف باقاعدہ طور پرتمثیلی کابینہ بناتی ہے ۔

مختلف ممالک کا جائزہ

مختلف ممالک میں تمثیلی کابینہ کے اراکین اور ان کے شعبوں کا چناؤ مختلف طریقوں سے ہوتا ہے۔کہیں قائد حزب اختلاف اکیلے یہ کام کرتا ہے،کہیں اس کے لیے مشاورت ضروری ہوتی ہے اور کہیں اس کے لیے بعض شرائط و ضوابط کو مد نظر رکھنا ضروری تصوّر کیا جاتا ہے۔ انگلستان،کینیڈا،نیوزی لینڈ،آسٹریلیا وغیرہ میں باقاعدہ طور پر تمثیلی کابینہ بنائی جاتی ہیں۔ آسٹریلیا میں 2012 ء میں لبرل/ نیشنل کولیشن نے ٹونی ایبٹ کی سربراہی میں، نیو ساؤتھ ویلز میں آسٹریلین لیبر پارٹی نے جون رابرٹ سن کی سربراہی میں،بہاماس میں پروگریسیو لبرل پارٹی نے پیری کرسٹی کی سربراہی میں،کینیڈا میں اکتالیسویں پارلیمان میں نیو ڈیمو کریٹک پارٹی نے تھامس مُل کیئر کی سربراہی میں، اونٹاریو میں چالیسویں قانون ساز اسمبلی میں پروگریسیو کنزرویٹیو پارٹی آف کینیڈا نے ٹم ہڈک کی سربراہی میں، فرانس میں یونین فار اے پاپولر مومنٹ نے جین فرانکوئس کوپ کی سربراہی میں، آئر لینڈ میں فائنا فائل نے مائیکل مارٹن کی سربراہی میں، اسرائیل میں قدما پارٹی نے زپی لیونی کی سربراہی میں، اٹلی میں والٹر ویلٹرونی کی سربراہی میں، جاپان میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے سداکازو تانی گاکا کی سربراہی میں،لتھوینیا میں آندرے کوبیلیس کی سربراہی میں، ملائیشیا میں پکاتان رکیت نے انور ابراہیم کی سربراہی میں، نیوزی لینڈ میں نیوزی لینڈ لیبر پارٹی نے ڈیوڈ شیرر کی سربراہی میں، پولینڈ میں لا اینڈ جسٹس پارٹی نے جروسلا کازنسکی کی سربراہی میں،سلووینیا میں ایکسپرٹ کونسل آف سلووینین ڈیمو کریٹک پارٹی، سالومن آئی لینڈ میں ڈیموکریٹک پارٹی اور اس کے اتحادیوں کی قیادت میں، جنوبی افریقا میں ڈیموکریٹک الائنس نے لندیوی مازی بوکو کی قیادت میں، تھائی لینڈ میں ڈیموکریٹک پارٹی نے ابھیشت وجے جیوا کی قیادت میں، انگلستان میں لیبر پارٹی نے ایڈورڈ ملی بینڈ کی قیادت میں،اسکاٹ لینڈ میں اسکاٹش کنزرویٹیو پارٹی نے جوہن لیمنٹ کی قیادت میں،ویلز میں ویلش کنزرویٹیو پارٹی نے اینڈریو آر ٹی ڈیوس کی قیادت میں شیڈو کیبنٹس بنائی تھیں۔بعض ممالک میں تیسری سیاسی جماعت (جو حکومت اور باقائدہ حزبِ اختلاف کا حصہ نہیں ہوتی) اپنی parliamentary front benches of critics (حکومت پر تنقید کرنے والے اراکین) کا انتخاب کرتی ہے۔ مثلا آئر لینڈ میں ایسی پارلیمانی جماعتیں عموما ٹیکنیکل گروپس بناتی ہیں۔

تمثیلی کابینہ اور اس کے شعبے

جن ممالک میں تمثیلی کابینہ بنانے کی روایت ہے وہاںبالکل سرکاری کابینہ کی طرح اس میں وقتا فوقتا تبدیلیاں بھی کی جاتی ہیں۔ کبھی کسی رکن کا محکمہ (وزارت) تبدیل کیا جاتا ہے اور کبھی کارکردگی بہتر نہ ہونے یا کسی اور وجہ سے شیڈو کیبنٹ کے اراکین تبدیل کردیے جاتے ہیں۔ ان ممالک میںتمثیلی کابینہ کتنی موثر ہوتی ہے؟ اس کا اندازہ ان کی تشکیل سے لگایا جاسکتا ہے۔ مثلا کینیڈا میں روایتی شعبوں کے ساتھ بین الحکومتی امور ، ماحو لیا ت ، سٹیزن شپ،امیگریشن اور وزارتِ کثیرالثقافت، فشریز، خواتین،پوسٹ سکینڈری ایجوکیشن، ایب اوریجنل امور، اطلاعات تک رسائی، اخلاقی اور خلوت کے امور، عوام کی حفاظت، سرکاری زبان، قومی دفاع، عسکری شعبے کے لیے خریداری، سیاحت اور چھوٹے کاروبار،امریکا اور قونصلر افیئرز، انسانی حقوق، پینشن، معذوروں کے مسائل، قومی محاصل،جمہوری اصلاحات،سائنس اور ٹیکنالوجی، صارفین کے حقوق، کینیڈا کے ورثے، کینیڈین ناردرن اکنامک ڈیولپمنٹ ایجنسی کے محکمے، ایمپلائمنٹ انشورنس، سی آر ٹی سی،کاپی رائٹ اور ڈیجیٹل ایشوز، حیاتیاتی تنوّع اور پارکس، وِیٹ بورڈ، بین الاقوامی تجارت وغیرہ کے شعبوں کے لیے بھی تمثیلی وزیر اور پارلیمانی سیکریٹریز بنائے جاتے ہیں۔ اسی طرح آسٹریلیا میں ایمپلائمنٹ اینڈ ورک پلیس ریلیشنز، تعلیم،تربیت اور اپرنٹس شپ،فنونِ لطیفہ، فیملیز،ہاؤسنگ اور انسانی خدمات، کلائمٹ ایکشن، ماحول اور ثقافتی ورثے، مسابقتی پالیسی اور صارفین کے امور، پیداوار اور آبادی، مالیات، ڈی ریگولیشن اینڈ ڈیٹ ریڈکشن، دفاعی سائنس ، ٹیکنالوجی اور متعلقہ افراد، بچوں کی نگہداشت اور ابتدائی عمر میں سیکھنے سمجھنے کے امور، مقامی ترقی اور روزگار، جامعات اور تحقیق، علاقائی رابطے، انصاف،کسٹمز اور سرحدی امور، معذوروں اوررضاکاروں کے امور کے لیے بھی تمثیلی وزیر اور پارلیمانی سیکریٹریز بنائے جاتے ہیں۔ تسمانیہ جیسے ملک میں بھی تمثیلی کابینہ بنانے کی روایت ہے۔ وہاں روایتی شعبوں کے ساتھ اقتصادی ترقی، سیاحت اور فنونِ لطیفہ، صحت، ثانوی صنعتیں اور پانی، ورک پلیس ریلیشنز، پولیس اینڈ ایمرجنسی سروسز، منصوبہ بندی، کمیونٹی ڈیولپمنٹ، چھوٹے کاروبار، کان کنی، میزبانی،ویٹرنزافیئرز، تعلیم اور مہارتوں، ایجادات، سائنس اور ٹیکنالوجی، انصاف، توانائی،ماحولیات، باغات اور ورثے، ماحولیاتی تبدیلیوں، دیرپا ذرایع نقل و حمل،جنگلات،تجارت،بنیادی ڈھانچے،لوکل گور نمنٹ ، روڈ سیفٹی، انسانی خدمات، بچوں، کاسٹ آف لیونگ اور صارفین کے حقوق کے محکموں کے لیے بھی تمثیلی اور نائب تمثیلی وزیر بنائے جاتے ہیں۔ یوگنڈا میں صدارتی اور آئینی امور،اطلاعات اور قومی رہنمائی، علاقائی امور، عوامی خدمات، لینڈ اینڈ فزیکل پلاننگ، پانی اور ماحولیات، کمیونی کیشن،آئی سی ٹی اور ٹیکنالوجی، بحالیات، ریلیف اور انتظامِِ تباہ کاری کے محکموں کے لیے بھی تمثیلی اور نائب تمثیلی وزیر بنائے جاتے ہیں۔ دل چسپ امر یہ ہے کہ ان میں سے کئی ممالک کی تمثیلی کابینہ کے تمام اراکین کے نام،پتے،ٹیلی فون نمبرز اور ان کے محکموں کی تفصیلات انٹرنیٹ پر بھی دست یاب ہوتی ہیں۔

ترقی یافتہ جمہوریتیں اور حزبِ اختلاف کی تیّاریاں

ترقی یافتہ جمہوریتوں میں حزبِ اختلاف کی تیّاریاں صرف تمثیلی کابینہ بنانے تک محدود نہیں رہتی ہیں بلکہ وہ ایوانِ زیریں اور ایوانِ بالا میں قائدِ ایوان،چیف وہپ اور ڈپٹی چیف وہپ کا بھی تقرر کرتی ہیں اور تمثیلی وزیر کے ساتھ نائب تمثیلی وزیر اور تمثیلی اٹارنی جنرل بھی بنائے جاتے ہیں۔کئی ممالک میں تمثیلی کابینہ کو حکومت کی جانب سے کچھ فنڈ بھی فراہم کیا جاتا ہے تا کہ وہ مختلف امور پر تحقیق کرسکے، عوام کی رائے لے سکے، مختلف وزارتوں اور محکموں میں اپنے دفاتر قائم کرسکے،حکومت اور وزیروں کی جانب سے مختلف منصوبوں اورحکمت عملیوں کی منظوری کا ناقدانہ طور پر جائزہ لے سکے۔ ملائیشیا میں آئینی اعتبار سے تمثیلی کابینہ کا کوئی تصوّر نہیں ہے،لیکن حزبِ اختلاف کے رہنما، انور ابراہیم نے اسے تشکیل دیاتھا۔ آئینی اور قانونی جواز نہ ہونے کی وجہ سے وہاں حکومت تمثیلی کابینہ کو کوئی فنڈ نہیں دیتی لہذا وہاں پاکتن اور اس کی اتحادی جماعتوں نے اپنے فنڈ سے تین تھنک ٹینکس قائم کیے تاکہ وہ اپنے اراکینِِ پارلیمان کو تحقیق وغیرہ کی سہولت فراہم کرسکیں۔

کینیا کی کچن کیبنٹ کی طاقت ور شخصیت

کینیا میں ایک شخصیت ایسی ہے جو وہاں کی سیاست میں اتنا عمل دخل رکھتی ہے کہ اگر وہ ملک کے وزیرِاعظم سے یہ کہے کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑ کر گھر چلے جائیں تو وہ ایسا ہی کریں گے۔ محمد جعفر نامی یہ شخص کینیا کی کاروباری دنیا کا بہت بڑا نام ہے اور کئی صدور اور وزرائے اعظم کی کچن کیبنٹ کا حصہ رہا ہے۔ تاہم اب ان کا سیاسی اثر و رسوخ کچھ کم ہونے لگا ہے۔

وہاں کی ایسی دوسری شخصیت کا نام کیرولی اومندی ہے جو وزیرِ اعظم کے چیف آف اسٹاف رہے۔الود اووالو،سارہ ایلدرکِن،جیمز اورنگو، جانسٹن مُتھما، پیٹر متھوکو اور وزیر اعظم رائلا اوڈنگا کی اہلیہ،آئڈا اوڈنگا بھی کچن کیبنٹ کا حصہ رہ چکی ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں