نیا پاکستان

August 12, 2018
 

میں اِس وقت اسلام آباد میں ہوں ۔موسم بہت اچھا ہے ،امید کے درختوں پر پھول کھل اٹھےہیں ۔رستے میں رکی ہوئی بہار چل پڑی ہے ۔چہرے مسکراہٹوں سے بھرپور ہیں ۔آنکھوں میں چمک ہے ۔بنی گالہ کے قریب فواد چوہدری اور میں موجود ہیں ۔اُن سے نئے پاکستان کے خدو خال پر گفت و شنید جاری ہے ۔وہ کہہ رہے ہیں ۔’عمران خان کونئے پاکستان کےلئے صرف پچیس ارب ڈالر کی ضرورت ہےاور اِس رقم کا بندوبست ہوچکا ہے ۔اسلامی ترقیاتی بینک پاکستان کو چار ارب ڈالر اور سعودی اسلامی بینک دو ارب ڈالر دینے کےلئے عمران خان کی حکومت کا انتظار کر رہے ہیں ۔تمام کاغذی کارروائی مکمل کرلی گئی ہے ۔آ ئی ایم ایف کی طرف سے بھی بارہ ارب ڈالر کے پیکیج پر مذاکرات کی دعوت مل چکی ہے ۔مذاکرات ستمبر کے پہلے ہفتے میںشروع ہو سکتے ہیں ۔چین بھی پاکستانی معیشت کو سنبھالا دینے کےلئے تقریباً بارہ ارب ڈالر کی پاکستان میں فوری سرمایہ کاری پر غور کر رہا ہے ۔اوورسیز پاکستانیوں سے بھی تقریباً دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے ۔یوں تقریباً بتیس ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری کا امکان ہے ۔اگرپاکستانی معیشت میں فوری طور پر بیس ارب ڈالر کی رقم شامل ہو گئی تو ڈالر کی قیمت جو اس وقت ایک سو چوبیس روپے ہے وہ ساٹھ روپے پر آجائے گی اور بیرونی قرضے آدھے ہوجائیں گے کیونکہ قرضے تو ڈالر کی قیمت کے ساتھ بڑھتے ہیں ۔اور پھروہ دوسو ارب ڈالر جو پاکستانیوں کا سوئز بینکوں میں پڑا ہے اگر موجودہ حکومت اس رقم کو واپس لانے میں کامیاب ہو گئی تو وہ تمام خواب جو عمران خان نے دیکھے ہیں انہیں تعبیر مل جائے گی ۔انہیں پورا یقین ہے کہ عمران خان مہنگائی کے دیو کوفوری طور پر کنٹرول کرلیں گے ۔اس مقصد کےلئے انہوں نے جو اسد عمر جیسی اہل شخصیت کا انتخاب کیا ہے وہ ضروران کی توقعات پر پورا اترے گی۔


اگرچہ فواد چوہدری کےپاس بہت سی خبریں تھیں ۔میرے ساتھ شیئر بھی کیں مگر لکھنے کی اجازت نہیں دی کہ ہر خبر اپنے وقت پر سامنے آئے ۔خبریں تو امجد علی خان کے پاس بھی بہت تھیں ۔امجد علی خان اور میں گزشتہ دو روز سے بہت ملول ہیں ہمار ے بہت پیارےدوست الطاف ملک کی ناگہانی وفات نے ہمیں بہت اداس کر رکھا ہے ۔جب ہم اُ س کا جنازہ پڑھنے خوشاب گئے تو دل بہلانے کےلئے ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے ۔بہت سی باتیں ایسی ہوئیں جنہیں آپ کے ساتھ شیئر کرناچاہتا ہوں مگر امجد علی خان نے فواد چوہدری کی طرح یہی کہا کہ خبر اگر وقت سے پہلے باہر آجائے تو مسائل جنم لینے لگتے ہیں ۔میں نے امجد علی خان کو یاد دلایا کہ ایک بار میں نے تم سے پوچھا تھا کہ عمران خان کا یہ ’’نیا پاکستان ‘‘ کیا چیز ہے ۔ تو تم نے کہا تھا’’عمران خان کے نئے پاکستان میں ہر پیدا ہونے والا بچہ ،پیدائش کے بعد حکومت کی ذمہ داری قرار پائے گا۔اس کیلئے اس کے والدین کو باقاعدہ ہر ہفتے اس کے اخراجات کی رقم ملے گی ۔اس کی تعلیم اس کی صحت کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی ۔چاہے وہ امیر کاہو یا غریب کا بچہ۔ہر وہ شخص جس کے پاس روزگار نہیں ہوگا اسے اُس وقت تک بے روزگاری الائونس ملے گا جب تک اسے روزگار نہیں مل جاتا ۔وہ تمام عورتیں اور مردجن کی عمر 65سال سے زیادہ ہوجائے گی انہیں پنشن ملے گی چاہے زندگی میں کبھی انہوں نے نوکری کی ہو یا نہ کی ہو ۔ ہر وہ آدمی جس کے پاس گھر نہیں ہوگا حکومت اسے کرائے پر گھر فراہم کرے گی اور اس وقت تک اس کا کرایہ خود ادا کرے گی جب تک وہ کرایہ ادا کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔ہیلتھ کی سہولتیں تمام لوگوں کیلئے مفت ہوں گی۔


نئے پاکستان میں ہر شخص جو کام کرتا ہوگا وہ ضرور ٹیکس ادا کرے گا وگرنہ حکومت زبردستی ٹیکس لے گی ۔ ٹیکس کی شرح آمدن کے ساتھ بڑھتی جائے گی مثال کے طور پر سال میں دو لاکھ روپے کمانے والے پر بیس فیصد ٹیکس ہوگا دو لاکھ سے لے کر پچاس لاکھ کمانے والے پر چالیس فیصد ٹیکس ہوگا اور اس سے زیادہ کمانے والے کو ساٹھ فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ ہر شخص کامکمل ڈیٹا کمپیوٹرائزڈ ہوگا۔کوئی شخص اپنی آمدنی چھپا نہیں سکے گا اور آمدنی چھپانے پر جرمانے کے ساتھ قید بامشقت کی سزا بھی ملے گی ۔ کوئی بڑا آدمی ہو یا چھوٹا سب کیلئے انصاف برابر ہوگا۔عدالتیں ہر شخص کو مکمل انصاف فراہم کریں گی۔ مقدمہ لڑنے کیلئے اگر کسی کے پاس رقم نہیں ہوگی تو اسے وکیل حکومت فراہم کرے گی۔‘‘کیا اس خواب کی تعبیر ہماری آنکھیں دیکھنے والی ہیں تو امجد علی خان نے کہا ۔ ’’ ضرور دیکھیں گی مگر بتدریج ۔ غم کی رات ختم ہوچکی ہے صبح کا تارہ دمک رہا ہے ۔وہ جسے عمران خان کہتے ہیں۔


بے شک جہاں غم کے نوحے گونجتے ہیں وہیں شادیانے بھی سنائی دیتے ہیں اور شادیانے بجانے کا دن بھی دروازے پر کھڑا ہے یعنی چودہ اگست آنے کو ہے ۔جشن ِ آزادی کی تیاریاں جاری ہیں ۔ وہ سامنے پاکستانی پرچموں کی بہار لگی ہوئی ہے ۔شاید جشن ِ آزادی کی جھنڈیاں بک رہی ہیں ۔انجم خیالی نے کہا تھا۔


سنبھال رکھی ہیںدامن کی دھجیاںمیں نے


اگست آیا تو پھر جھنڈیاں بنائوں گا


فواد چوہدری اور میں بھی دامن کی دھجیوں سے جھنڈیاں بناتے ہیں ۔مولانا فضل الرحمن بھی زیر بحث آئے۔ کیسے کیسے لوگ جی کو جلانے کےلئے پاکستان میں موجود ہیں ۔بہت دکھ ہوا جب انہوں نے اپنے اجداد کی روایات کی پاس داری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک آزاد ریاست نہیں ہے ۔ یہ ایک اسلامی اور جمہوری ریاست بھی نہیں ہے اس لئے ہم چودہ آگست کو یومِ آزادی نہیں منائیں گے ۔واضح ترین مطلب یہی ہوا کہ ہم چودہ کی بجائے پندرہ اگست کو جشن ِآزادی منائیں گے مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جہاں پندرہ اگست کو یوم آزادی منائی جاتی ہے کیاوہ اسلامی جمہوری ملک ہے؟


مکمل خبر پڑھیں