ایشین گیمز! برتری کی جنگ شروع ہونے والی ہے

August 14, 2018
 

ساجد ذوالفقار

18ویں ایشیائی کھیلوں کا میلہ جنوب مشرقی ایشیا کے ملک ا نڈونیشیا میں سجے گا۔ 18؍اگست سے 2؍ستمبر تک جاری رہنے والے ایشین گیمز انڈونیشیا کے دو شہروں صدر مقام جکارتہ اور پالیمبینگ میں منعقد ہوں گے۔ ایشیاء کے 45ممالک کے 11300کھلاڑی 40مختلف کھیلوں کے 465ایونٹس میں حصّہ لیں گے۔ ایشیائی کھیلوں کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ملک کے دو شہروں میں کھیلوں کا انعقاد ہو رہا ہے۔ 1962کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ جکارتہ کھیلوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ اٹھارہویں ایشیائی کھیلوں کی افتتاحی و اختتامی تقاریب جکارتہ کے گلورابنگ کارنو کے مرکزی اسٹیڈیم میں منعقد ہوں گی۔ اٹھارہویں ایشین گیمز میں ای اسپورٹس اور کینوئنگ پولو پہلی بار کھیلوں کا حصّہ بن رہے ہیں۔ یہ ایونٹس آئندہ چار سال بعد 2022میں باقاعدہ میڈل ایونٹس کا درجہ حاصل کر لیں گے۔ کارنو مرکزی اسٹیڈیم میں ایتھلیٹکس کے تمام مقابلے ہوں گے۔ 18ویں ایشیائی گیمز ابتدائی طور پر ویتنام کے شہر ہینوئی کو مختص کئے گئے تھے کیونکہ اس شہر کے ساتھ سورابایا اور دبئی بھی امیدواروں میں شامل تھے۔ فائنل ووٹنگ کے بعد ہینوئی 29ووٹ کے ساتھ سرفہرست رہا تھا جبکہ سورا بویا نے 14ووٹ حاصل کئے تھے جبکہ دبئی نے ووٹنگ سے اپنے آپ کو باہر کر لیا تھا۔ تاہم مارچ 2014میں ویتنام کیلئے ان کھیلوں کا انعقاد مالی و انتظامی نقطۂ نظر سے ناممکن ہونے کی صورت میں ویتنام کھیلوں کی انتظامیہ نے کھیلوں کو منعقد کروانے سے معذرت کر لی۔ اس طرح ہینوئی کے 18ویں ایشین گیمز منعقد نہ کروانے کی صورت میں اولمپک کونسل آف ایشیاء نے انڈونیشیا، چین اور عرب امارات میں سے کسی ایک ملک کے شہر میں ان کھیلوں کے انعقاد کی تجویز دی۔ اس ضمن میں انڈونیشیا کو سب سے مضبوط امیدوار گردانا گیا۔ بالآخر 25؍جولائی 2014کو اولمپک کونسل آف ایشیا نے کویت کے صدر مقام کویت سٹی میں جکارتہ کو اٹھارہویں ایشیائی گیمز کیلئے منتخب کر لیا۔ جکارتہ کے ساتھ پالیمبینگ کو معاون میزبان شہر کیلئے چن لیا گیا۔ جکارتہ کو منتخب کرنے کی وجہ یہاں موجود کھیلوں کے تمام جملہ درکار جدید تیکنکی سہولیات کی دستیابی ہے۔

اولمپک کھیلوں کی طرز پر ایشین گیمز کا آغاز پہلی بار 1951میں بھارت کے صدر مقام نئی دہلی میں ہوا۔ اوّلین ایشین گیمز میں 6کھیلوں کے 16ایونٹس کے مقابلے پروگرام کا حصّہ تھے۔ 11ایشیائی ممالک کے 489کھلاڑیوں نے ان کھیلوں میں حصّہ لیا۔ آنے والے وقتوں میں ایشیائی کھیلوں میں ممالک اور کھلاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ ایشین گیمز کا انعقاد سب سے زیادہ تھائی لینڈ کے صدر مقام بینکاک میں ہوا ہے۔ بینکاک 1966اور 1970مسلسل دو بار اور 1978اور 1998کا میزبان رہ چکا ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی کوریا کے شہر سئیول 1986، لبنان 2002اور انچون 2014کے ایشین گیمز منعقد کروا چکے ہیں۔

18ویں ایشیائی کھیلوں کا موٹو ایشیا کی طاقت بہ طور علامت جکارتہ کے گلورابنگ کارنو اسٹیڈیم میں آویزاں کیا گیا ہے۔ جکارتہ ایشین گیمز کا ماسکوٹ بھن بھن ایک پرندہ ہے جو برڈ آف پیراڈائز بھی کہلاتا ہے جو حکمت عملی دوسرا ماسکوٹ ایٹنگ ہے جو ایک بیون ہرن ہے اور اسپیڈ کو ظاہر کرتا ہے۔ 18ویں ایشین کا تیسرا ماسکوٹ کاکا ہے جو ایک سینگ کا گینڈا ہے جو علامت ہے طاقت کی۔ 18ویں ایشین گیمز کی کوریج کیلئے دنیا بھر سے 2009کے لگ بھگ ذرائع ابلاغ کے نمائندے جکارتہ آئیں گے۔ 1300افراد نے رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کی ہیں۔اٹھارہویں ایشین گیمز میں شرکت کیلئے آنے والے کھلاڑیوں و آفیشلز کیلئے بنائی جانے والی بستی ایشین گیمز ولیج جکارتہ میں کیمایوران میں تعمیر کی گئی ہے۔ 10ہیکٹرز ایریا پر تیار کئے گئے اس ایشین گیمز ولیج میں 7424اپارٹمنٹس بنائے گئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 22272تک رہائشی سہولیات بڑھائی جا سکتی ہیں۔ ایشین گیمز ولیج میں اولمپک ولیج کی طرز کی تمام جدید سہولیات موجود ہیں۔ اٹھارہویں ایشیائی کھیلوں میں جن کھیلوں کے مقابلے ہوں گے ان میں ایتھلیٹکس، تیراکی، واٹر پولو، غوطہ خوری، آرٹسٹک تیراکی، تیر اندازی، بیڈمنٹن، بیس بال، سوفٹ بال، باسکٹ بال، برج بائولنگ، باکسنگ، کینوئنگ، سائیکلنگ، ایکوسٹرئین اسپورٹس، شمشیر زنی، ہاکی، فٹبال، گالف، جمناسٹکس، ہینڈبال، جیٹ اسکی، جوڈو، کبڈی، کراٹے، مارشل آرٹس، روئنگ، سیلنگ، والی بال، ٹینس، ٹیبل ٹینس، جدید پنیتھلون، پینیک شاٹ، رگبی، رولر اسپورٹس، سامبو، نشانہ بازی، اسکوائش، تائی کوانڈو، ٹرائتھلان، ویٹ لفٹنگ اور ریسلنگ شامل ہیں۔

نئی دہلی بھارت سے جکارتہ پہنچنے والی ایشین گیمز مشعل انڈونیشیا میں اپنے ریلے سفر میں ہے۔ یہ مشعل انڈونیشیا کے 54شہروں میں 18000کلومیٹرز کا فاصلہ مکمل کرتے ہوئے 18؍اگست کو جکارتہ کے گلورابنگ کارنو کے مرکزی اسٹیڈیم میں پہنچے گی جہاں اسی روز 18 ایشیائی کھیلوں کا باقاعدہ آغاز ہو گا۔ ایشین گیمز مشعل 15؍جولائی کو نئی دہلی (بھارت) کے دھیان چند نیشنل اسٹیڈیم میں ایک تقریب میں روشن کی گئی۔ یاد رہے پہلے ایشیائی گیمز 1951میں نئی دہلی میں منعقد ہوئے تھے۔ لندن اولمپک 2012کے باکسنگ میں برائونز میڈلسٹ اور 5بار عالمی چیمپئن اور گزشتہ ایشین ایشیائی گیمز چیمپئن میری کوم نے 18ویں ایشیائی گیمز کے پہلے رنز کا اعزاز حاصل کیا۔ اس کے علاوہ 30نمایاں کھلاڑیوں نے ایشین گیمز مشعل ریلے میں حصّہ لیا۔ انڈونیشیا کی طرف سے ان نامور بیڈمنٹن کھلاڑی بیوزی سوساتی نے ایشین گیمز مشعل کی سفیر کی حیثیت سے نمائندگی کی۔

اٹھارہویں ایشین گیمز میں پاکستان کے کھلاڑیوں اور آفیشلز پر مشتمل 245افراد کا دستہ شر کت کر رہا ہے۔ پاکستانی کھلاڑی یہاں 28مختلف کھیلوں میں حصّہ لیں گے۔ بری خبر یہ ہے کہ قومی پہلوان انعام بٹ زخمی ہونے کے باعث کھیلوں میں شامل نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ انعام نے کامن ویلتھ گیمز 2018میں پاکستان کیلئے واحد گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔ انہوں نے یہ بڑی کامیابی 86 کلوگرام ویٹ کیٹیگری میں حاصل کی تھی۔

پاکستان نے پہلی بار 1954کے دوسرے ایشین گیمز میں جو فلپائن کے صدر مقام منیلا میں منعقد ہوئے تھے، حصّہ لیا تھا۔ پاکستان نے اپنے اولین ایشین گیمز میں 5گولڈ میڈلز، 6سلور میڈلز اور 2برائونز میڈلز حاصل کئے۔ اس طرح مجموعی طور پر 13میڈلز کے ساتھ میڈل لسٹ پر پاکستان نے چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ یہاں پاکستان کے نامور ایتھلیٹ اور اسپرنٹر عبدالخالق نے 100میٹرز میں گولڈ میڈل حاصل کر کے ایشیا کے تیز ترین ایتھلیٹ کا اعزاز بھی حاصل کیا تھا۔ 1954سے 2014تک ہونے والے 16ایشیا ڈز میں پاکستان کی طرف سے سب سے نمایاں مجموعی کارکردگی 1962 کے چوتھے ایشین گیمز میں دیکھنے میں جہاں پاکستان نے 8گولڈ میڈلز 11سلور میڈلز اور 9برائونز میڈلز حاصل کئے تھے۔ مجموعی طور پر 28میڈلز کے ساتھ پاکستان دوسری بار چوتھے نمبر پر رہا۔ ایسی شاندار کارکردگی دوبارہ دیکھنے میں نہیں آئی۔ آنے والے گیمز میں پاکستانی کارکردگی کا گراف نیچے کی طرف جاتا رہا ہے۔ 1954سے 2014تک پاکستان نے 44 گولڈ، 63سلور اور 93برائونز میڈلز حاصل کئے ہیں۔ مجموعی طور پر میڈلز کی تعداد 200ہے۔ ایشیائی گیمز میں پاکستان مجموعی کارکردگی کے رینک میں 14ویں پوزیشن پر ہے۔ ایشین گیمز کے گزشتہ 17ایشیا ڈز میں مجموعی طور پر کارکردگی کا جائزہ لیا جائے اس میں چین سرفہرست ہے۔ چین نے گو کہ صرف 11ایشین گیمز میں حصّہ لیا ہے تاہم اپنی شاندار کارکردگی سے کئی ابتدائی ایشیا ڈز سے کھیلوں میں شامل ممالک کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سب سے آگے موجود ہے۔ چین واحد ملک ہے جس نے اپنے گولڈ میڈلز کی تعداد کو ایک ہزار سے بھی تجاوز کر لیا ہے۔ چین نے اب تک 1342گولڈ میڈلز 901سلور میڈلز اور 655برائونز میڈلز حاصل کئے ہیں۔ چین کے مجموعی میڈلز کی تعداد 2898ہے۔ مشرق بعید کا ملک جاپان تمغوں کی دوڑ میں دوسرے نمبر پر ہے۔ جاپان نے اب تک 17ایشیا ڈز میں شرکت کی ہے۔ ان کے مجموعی میڈلز کی تعداد 2858ہے ان میں957 گولڈ، 982سلور اور 912برائونز میڈلز حاصل کئے ہیں۔ میڈلز لسٹ پر تیسرے نمبر پر بھی ایک مشرق بعید کا ملک جنوبی کوریا ہے۔ جنوبی کوریا نے 16ایشین گیمز میں شرکت کر کے اب تک 696گولڈ، 605سلور اور 757برائونز میڈلز اپنے نام کئے ہیں۔ جنوبی کوریا کے مجموعی میڈلز کی تعداد 2058ہے۔ اس طرح ان تین ملکوں نے ایشین گیمز میں مجموعی میڈلز کی اب تک نصف تعداد حاصل کر لی ہے۔ دوسری طرف میڈلز حاصل کرنے والے 40ممالک ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں