اُردو ادب اور عیدِ قُرباں

August 19, 2018
 

عربی زبان میں ’’اضحیٰ‘‘قُربانی یا قُربانی کا دن اور ’’اُضحیہ‘‘قُربانی کا جانور(معنیٰ بہ مطابق فیروز اللّغات)بیان کیے جاتے ہیں۔’’صاحبِ مہذّب اللغات‘‘ نے تحریر کیا ہے’’ عام طور پر زبانوں پر عید الاضحیٰ ہے، اسی کو بقر عید بھی کہتے ہیں۔‘‘ مسلمانوں کے لیے خوشیوں کے دو بڑے تہواروں میں سے اوّل ’’عید الفطر‘‘ ہے کہ جسے برّصغیر میں روایتی طور پر ’’میٹھی عید‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ غالباً اسے یہ نام میٹھے پکوانوں، خصوصاً شِیر خُرمے کے سبب دیا گیا ہے۔ فی الوقت ہم قُربانی کی مذہبی، شرعی یا لغوی حیثیت پر بات کرنے کی بجائے اس کی ادبی حیثیت کا جائزہ لیںگے اور اس مختصر تحریر کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ اُردو ادب میں اس تہوار کے سلسلے میں کیا کچھ کہا گیا ہے۔ اس ذیل میں پہلے اس تہوار پر نثری اقتباسات اور پھر اس کے شاعرانہ تذکرے پر ایک نظر ڈالی جا رہی ہے، جس میں اساتذہ کے وہ اشعار پیش کیے جائیں گے، جن میں قُربانی کا مفہوم ظاہر یا پوشیدہ ہو گا۔

تو آئیے، ابتدا دو نثر پاروںسے کرتے ہیں۔ پہلا اقتباس، اُردو ادب کی چند بہترین خود نوشتوں میں سے ایک’’ یادوں کی برات‘‘ سے لیا گیا ہے، جس کے مصنّف، جوشؔ ملیح آبادی ہیں۔ جب کہ دوسرا اقتباس، اُردو تنقید کے قدآور نام، اختر حسین رائے پوری کی اہلیہ، حمیدہ اختر کی ’’ہم سفر‘‘ سے لیا گیا ہے۔ دیکھیے کہ ان تحریروں میں تہوار کیسے دِکھائی دیتے ہیں۔ جوشؔ ملیح آبادی اپنی خود نوشت’’یادوں کی برات‘‘ میں’’بقرعید‘‘ کے عنوان سے تحریر کرتے ہیں’’ ہر چند جہاں تک کہ زبان کے چٹخارے کا تعلق ہے، یہ تہوار بڑا ہی لذیذ ہوتا ہے اور، ہم کو، ان کی ماؤں کے سامنے ذبح ہونے والے ،حلوانوں کی ،چوکور،بوٹیوںکا پلاؤ،خوب گلے ہوئے گوشت،سفوف کی حد تک پسے ہوئے ،بوٹیوںکے سیخ کباب اور انگاروں پر بُھنی ہوئی رانیں کھلاتا ہے۔ مگر کیا کروں، جب یہ ساری چیزیں دسترخوان پر آتی تھیں، تو زبان کے مزوں کے تصوّر پر، آنکھوں کی دیکھی لاشوں کا منظر غالب آ جاتا تھا اور میری آنکھیں نَم ناک ہو کر رہ جاتی تھیں۔‘‘

بیگم اختر حسین رائے پوری اپنی کتاب’’ہم سفر‘‘ میں بیان کرتی ہیں’’ پندرہ دن پہلے امّاں دو تھان لٹّھے کے، جو چالیس گز کے ہوتے اور دو تھان مَلمل کے منگا کر ہم بہنوں کے آگے ڈال دیتیں کہ لو، اب اس میں سے عید کے جوڑے سب کے اور اپنے سی لو۔ پہلے تو جناب ہم سارے نوکروں اور اُن کے بچّوں اور بیویوں کے سیتے۔ پھر اپنے بھائیوں کے، بہنوں کے، پھر اپنی باری آتی۔ اتنی ڈھیروں سلائیاں شاموں اور راتوں کو کرتے۔ امّاں کو ہم پر ترس تو نہ آتا، مگر ترس کھا کر ہمارے بھائی لوگ مشین پر سے ہم کو ہٹا کر خود سیدھی والی سلائیوں پر مشین چلانے لگتے۔ عید، بقرعید میں ہمارے مَلمل کے چُنے ہوئے دوپٹوں پر بس ایک پتلا سا گوٹا ٹک جاتا اور وہی لٹّھے کا غرارہ یا تنگ پاجاما اور مَلمل کے کُرتے۔ بس ہو گئے عید کے جوڑے۔ تخت پر بس کپڑے ہی تو حساب سے جما کر رکھنا ہیں۔ پہلے ابّا، پھر اماں کی ساری۔ پھر عُمر کے لحاظ سے باقی سب کے جوڑے۔ ابّا اور لڑکوں کے جوڑوں پر نماز کی ٹوپیاں، موزے اور رومال۔ ہر ایک کے جوڑے کے سامنے اس کے جوتے اور چپلیں۔

جو بھی لڑکے اور لڑکیاں، کزن اور دوستوں کے بچّے ہوتے، اُن سب کے جوڑے بھی۔ صبح سویرے ہر ایک اپنا اپنا جوڑا اٹھا لیتا۔ مرد اور لڑکے پہلے نہا کر کالی شیروانیاں پہن کر عید گاہ کے لیے روانہ ہوتے۔ ہم جلدی جلدی پہلے اندر اور باہر کے کھانوں کی میزوں پر طرح طرح کی نمکین اور میٹھی چیزیں لگا کر آخر میں سویّوں کے ڈونگے رکھ کر جلدی جلدی نہا دھو کر نیا جوڑا پہن کر تیار ہو جاتے۔اب ابّا اور سب بھائی لوگ عیدگاہ سے واپس آ کر عید ملتے۔ پھر ابّا ہم سب کو عیدی دیتے۔ دو، دو روپے اور اگر دادا ابّا آئے ہوتے، تو وہ چار آنے دیتے۔کوئی ایک بہن عطر کی شیشی لے کر سب کے عطر لگا دیتی۔ اگر بقر عید ہے، تو ابّا اور بھائی باہر جا کر قربانی کرتے۔ جب کلیجی گرما گرم بُھن کر میز پر آ جاتی، تو سب ناشتا کرتے۔‘‘

اب کچھ شاعرانہ بات ہو جائے۔ مسعود حسن رضوی ادیب نے شاعری کی اہمیت کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ایک مقام پر تحریر کیا ہے’’شاعری بے حس قوّتوں کو چونکاتی ہے۔ سوتے احساس کو جگاتی ہے۔ مُردہ جذبات کو جلاتی ہے۔ دِلوں کو گرماتی ہے۔ حوصلوں کو بڑھاتی ہے۔ مصیبت میں تسکین دیتی ہے۔ مشکل میں استقلال سِکھاتی ہے۔ بگڑے ہوئے اخلاق کو سنوارتی ہے اور گِری ہوئی قوموں کو ابھارتی ہے۔‘‘ ذرا اس معاملے میں مولانا عبدالمجید سالکؔ کی رائے بھی دیکھتے ہیں، جن کا کہنا ہے’’ پُرانے زمانے میں ذاتی کلچر کے تین لوازم سمجھے جاتے تھے۔ طب، خوش نویسی اور شاعری۔ کوئی شخص عالم اور شائستہ نہ سمجھا جاتا تھا، جب تک اس میں کسی نہ کسی حد تک یہ تینوں قابلیتیں نہ پائی جاتی ہوں۔‘‘گویا دونوں تعریفوں میں شاعری ایک کلیدی حیثیت کی حامل ہے۔اُردو ادب، بالخصوص شاعری میں شعراء نے’’ تلازماتِ شعری ‘‘ کے تحت سُنّتِ ابراہیمی کی پیروی میں جانور ذبح کرنے کے سلسلے میں ’’چُھری‘‘،’’خنجر‘‘،’’شمشیر‘‘(اونٹ کو نحر کرتے وقت شمشیر یا تلوار کا استعمال کیا جاتا ہے) ’’قُربانی‘‘، ’’سَر‘‘،گلا‘‘،’’گردن‘‘،’’ذبح‘‘،’’بسمل‘‘،دمِ نزع‘‘تڑپنا‘‘ اورچند دیگر الفاظ استعمال کیے ہیں۔شعری اصطلاح میں ’’تلازمہ‘‘ کا مطلب ایسے الفاظ کا استعمال ہے ،جو مضمون سے خاص نسبت رکھتے ہوں۔عید الاضحی کے سلسلے میں یہ شعر تو بہت مشہور ہے۔ ؎ یہ عجیب ماجرا ہے کہ بروزِ عیدِ قُرباں…وہی ذبح بھی کرے ہے،وہی لے ثواب اُلٹا(منسوب :انشا اللہ خاں انشاؔ)۔ میں عجب یہ رَسم دیکھی مجھے روزِ عیدِ قُرباں…وہی ذبح بھی کرے ہے،وہی لے ثواب اُلٹا(منسوب: غلام ہمدانی مصحفیؔ)۔شعر کا مفہوم اس خیال پر مبنی ہے کہ قُربانی کا جانور اپنے ذبح کیے جانے پر مُلول ہے اور یہ شکوہ کرتا نظر آتا ہے کہ جو مجھے ذبح کر رہا ہے، اُسے تو ثواب سے نوازا جا رہا ہے اور میں غریب جو ذبیحہ ہوں، کسی شمار میں نہیں ۔اس مشہور شعر کو دو اساتذۂ سخن، میر انشااللہ خاں انشاؔ اور مصحفیؔ سے منسوب کیا جاتا ہے۔اسی تسلسل میں ایک اور شعر بھی بہت مشہور ہے، جو کچھ یوں ہے۔؎ سر بوقتِ ذبح اپنا ،اُس کے زیرِ پائے ہے…یہ نصیب اللہ اکبر، لوٹنے کی جائے ہے(ذوقؔ) ۔ذوقؔ دہلوی جیسے مسلّم الثبوت استاد کا یہ شعر، اگرچہ براہِ راست عیدِ قُرباں سے متعلق نہیں اور کہا یہ جا رہا ہے کہ مُحب اپنے کو بہت خوش نصیب متصوّر کر رہا ہے کہ محبوب نے اُسے اپنی راہ کا کانٹا سمجھتے ہوئے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اُسے ذبح کرنے کے لیے اپنا پیر اُس پر رکھا ہے، مگر یہ مُحب کے لیے مقامِ آسودگی ہے۔ تاہم، ’’تلازماتِ شعری‘‘ اُسے کیفیتِ قُربانی کا حامل شعر بناتے ہیں۔ استاد ذوقؔ دہلوی کے مزید دو اشعار بھی اسی رنگ کی عکّاسی کرتے ہیں، یعنی’’تلازماتِ شعری‘‘کے تحت اُنھیں عیدِ قُرباں پر یوں محمول کیا جا سکتا ہے کہ’’تڑپنا‘‘،’’دمِ ذبح‘‘،آنکھ پِھر جانا‘‘،’’ گلے پر خنجر پِھرنا‘‘مخصوص منظر نامے کو اُجاگر کرتے نظر آتے ہیں، مگر شعری حیثیت کے تحت اشعار غزلیہ ہیں۔؎ ’’مَیں نہ تڑپا دمِ ذبح، تو یہ باعث تھا…کہ رہا مدِ نظر ،عشق کا آداب مجھے۔‘‘ ’’ پِھرتے ہی آنکھ کے، پھیریں گے گلے پر خنجر…ہو چکا آپ کا معلوم ہے، ایما ہم کو۔‘‘ البتہ ذوقؔ نے اس شعر میں براہِ راست عید الضحیٰ کا لفظ استعمال کیا ہے۔؎ عیدِ اضحیٰ تجھے ہر سال مبارک ہووے…تجھ پہ ہو سایۂ حق اور ترے سائے میں جہاں۔

امیرؔ مینائی کہنہ مشق شاعر اور داغؔ کے ہم عصر تھے۔ درج ذیل شعر اگرچہ براہِ راست عیدِ قُربانی کی عکّاسی کرتا نظر نہیں آتا، تاہم ’’پُتلیاں بدل جانا،’’دمِ نزع‘‘ اُسی تلازماتِ شعری کا حصّہ ہیں جو ایک مخصوص صورت کواُجاگر کرتے ہیں۔ شعر کا مفہوم یہ ہے کہ جب وقتِ آخر آتا ہے، تو آنکھوں کی پُتلیاں بھی ساتھ چھوڑ دیتی ہیں اور اجنبی بن جاتی ہیں۔اب اُن کا شعر پڑھیے۔ ؎ پُتلیاں بھی بدل گئیں دمِ نزع…قت پہ کوئی آشنا نہ ہوا۔بحرؔ کا درج ذیل شعر ’’چُھری‘‘،’’گلے‘‘،’’عید‘‘ کے الفاظ کے ساتھ اُسی منظر نامے کو اُجاگر کرتا نظر آتا ہے، جو قُربانی کے دن سے منسوب ہے اور جسے عیدِ الاضحیٰ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ہم عاشقوں سے رُتبہ عبادت کا پوچھیے…جس دَم چُھری گلے سے ملی،ہم نے عید کی۔اب خواجہ حیدر علی آتشؔ کا شعر پڑھیے اور دیکھیے کہ انہوں نے کیسے تلازماتِ شعری کو استعمال کرتے ہوئے قُربانی کے دن کی تصویر کھینچی ہے۔؎ بے چُھری کرتے ہیں کافر عاشقوں کو اپنے ذبح…جوہرِ قصّاب کسی طفلِ برہمن میں نہیں۔

’’چُھری پڑھنا‘‘ محاورہ ہے اور جس کا مطلب یہ ہے کہ مفعول پرسورۂ یٰس یا دُعائے ذبح پڑھی جائے۔اس لیے یہ شعر بھی اُسی مخصوص منظر نامے کی عکّاسی کرتا ہے ،جو عیدِ قُرباں سے منسوب ہے۔؎ عیاں ہے جنبشِ اُبرو سے ذ،بح کی نیّت…پڑھی چُھری ہے، کسے دیکھیے حلال کریں(مُنیرؔ) ۔اسیرؔ لکھنوی اور اُس کے نیچے قلقؔ دونوں کے اشعار مخصوص لفظیات کے استعمال کے ساتھ عیدِ قُربانی کا تصوّر لیے ہیں۔؎’’ قیامت ہے ،بندھی ہے ذبح کے دَم آنکھ پر پٹی…رہا دل میں تلاطم حسرتِ دیدارِ قاتل کا(اسیرؔ)۔‘‘ ’’ دیکھنا قسمت کی خوبی نیم جاں میں رہ گیا…ذبح کرنے کا نہ کچھ ڈھب تھا مرے جلّاد کو(قلقؔ)۔‘‘برقؔ کا یہ شعر تو واضح طور پر قُربانی کے ذبیحے سے تعلق رکھتا ہے، لہٰذا کسی تشریح کا متقاضی نہیں ہے۔؎ ’’ نہ پھیر گردنِ مجروح پر چُھری ظالم…زبانِ صبر و رضا گوسفند رکھتا ہے۔‘‘دیکھیے مرزا غالبؔ اس عنوان کو کیسے بیان کرتے ہیں ؎’’ شہادت تھی مری قسمت میں جو دی تھی یہ خُو مجھ کو…جہاں تلوار کو دیکھا جھکا دیتا تھا گردن کو۔‘‘ ’’شہادت‘‘،’’تلوار‘‘،’’گردن‘‘ کے تلازماتِ شعری کے ساتھ اس شعر کا اطلاق قُربانی کے گوسفند پر یوں نظر آتا ہے کہ وہ چُھری کو دیکھتے ہی گردن جھکا دیتا ہے۔ شعری مفہوم کے تحت غالبؔ بیان کرتے ہیں کہ جب آسمانوں پر تقدیر کے فیصلے لکھے جا رہے تھے، تو کاتبِ ازل نے میری قسمت کے خانے میں شہید تحریر کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیںمیں نے تلوار یا شمشیر دیکھی، اپنی گردن جھکا دی۔میر تقی میرؔ نے اس عنوان کو دوسرے رُخ سے بیان کیا ہے۔ اُن کا مشہور ترین شعر ہے ؎’’ زیرِ شمشیرِ ستم میرؔ تڑپنا کیسا…سر بھی تسلیمِ محبت میں ہلایا نہ گیا۔‘‘شعر کی لفظیات پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ تلازماتِ شعری اُسے پورے طور پر قُربانی سے منسوب کرتے نظر آ رہے ہیں،جیسے’شمشیر‘‘،’’ستم‘‘،’’تڑپنا‘‘،’’سر ہلانا‘‘۔تاہم اس شعر کا اصل اطلاق، واقعہ کربلا پر ہوتا ہے کہ جہاں نواسۂ رسولﷺ ،جگر گوشۂ علیؓ و بتولؓ، حسینؓ ابنِ علیؓ نے اسلام کو بچانے کے لیے اپنی جان اس طرح جانِ آفریں کے سُپرد کر دی کہ شمشیرِ ستم کے نیچے دمِ آخر لب پر پروردگار کی کبریائی اور یک تائی کا مسلسل اعلان تھا۔

شاید اسی بات کے تسلسل میں اقبالؔ نے بھی اپنا پُرتاثیر آہنگ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ دیکھیے، اپنے مشہور شعر میں وہ تلمیحات(تلمیح سے مُراد یہ ہے کہ شاعر اپنے کلام میں کسی قصّے یا واقعے کی طرف اشارہ کرے)کے استعمال کے ساتھ قربانی کا کیا اعلیٰ نتیجہ بتا رہے ہیں۔؎ غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم…نہایت اس کی حُسین ؓ،ابتدا ہے اسماعیلؑ۔یعنی میرؔ کی وہی بات کہ شمشیرِ ستم کے نیچے آ کر بھی نہ تڑپنا اس باعث تھا کہ جس معبود کی عبدیت میں تھے، اُسے اس طور تسلیم کیا تھا کہ کسی بھی مرحلے پر انکار تو کُجا، انکار کی صُوری حیثیت یعنی انکار میں سر ہلانے کا بھی تصوّر عُنقا تھا۔یہی کچھ اقبالؔ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ جس سچّے خواب کی بنیاد پر ایک باپ نے اپنے بیٹے کو راہِ خدا میں ہدیہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا، وہ دراصل پہلی منزل تھی اور اُس کی منزلِ کمال اُس وقت آئی، جب نواسۂ رسول ﷺ نے اپنا سر خالقِ حقیقی کی بارگاہ میں نذر کر دیا۔


مکمل خبر پڑھیں