شالا صدیاں تیکر وسّے، دم دم جیوے پاکستان

August 16, 2018
 

میری نسل کے لوگوں نے تقسیم سے قبل جبر کی داستانیں سنی ضرور ہیں مگر انھیں دِل میں اُتارنے اور روح سے محسوس کرنے سے گریز کیا۔ اپنی تاریخ کو ہم نے سرسری پڑھا، لفظوں کے عقب میں جھانک کر مناظر کو تخیل میں لانے کی زحمت ہی گوارا نہ کی اِس لئے ہم اُس درد سے بیگانہ رہے جو برصغیر کے محکوم لوگوں نے جھیلا۔ جب تک اپنے گزشتہ کل کی خبر نہ ہو آج کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے نہ آنے والے کل کی۔ ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ آج جس سرزمین پر ہم سر اونچا کر کے کھڑے ہیں اس کے لئے کئی نسلوں نے شبانہ روز جدو جہد کی، اذیتیں ، قید و بند کی مصیبتیں برداشت کیں، آزادی کو زندگی کا مقصد بنایا، اس پر تن من دھن نچھاور کیا تب منزل کے آثار نظر آئے۔ آزادی کی صبح کے دیدار کی خواہش لے کر سفر پر نکلنے والے غلامی کی سیاہ اور طویل رات میں آنکھوں کی لو کو جگنو کر کے چلتے رہے۔ رستے کی رکاوٹوں کو عبور کرتے طوفانوں کا مقابلہ کرتے آگے بڑھتے رہے۔ کِسی چٹان پر مسلسل پانی کا قطرہ شگاف ڈال سکتا ہے تو ایک قوم کی پوری صدی پر محیط کاوش جبر کی دیوار بھی توڑ سکتی ہے۔ انتھک محنت نے اندھیرے کی دیوار کے سینے میں شگاف کر کے سورج تک رسائی حاصل کی۔ پاکستان کو دنیا کے نقشے پر لانے کے لئے مسلح کاوشوں، جلاؤ گھیراؤ اور ظلم کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے دلیل، بحث اور ووٹ کا راستہ چُنا گیا۔


آزادی حاصل کرنے تک ہم ایک قوم تھے جو رنگ و نسل اور علاقوں کے تفاخر سے ماورا تھے۔ ان کی توجہ ایک نقطے پر مرکوز تھی، منزل تک پہنچنا ان کا شب و روز کا وظیفہ تھا کیوں کہ منزل پر ان کے سہانے خوابوں کی تعبیر موجود تھی۔ ایک وطن جو نظریے اور ووٹ کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ جس کے پاس دنیا کے عظیم قائد کا منشور تھا۔ وہ کئی برس بھٹکتی رہی اس لئے کہ منزل پر پہنچ کر اس نے لمبے عرصے کے لئے آرام کا پروگرام بنا لیا اور کچھ مخصوص افراد نے آزادی کے تمام ثمرات کو لپیٹنا شروع کر دیا۔ پھر قوم کے اندر تقسیم کا عمل شروع ہوا۔ لوگ مختلف گروہوں میں بٹتے ہوئے مرکز سے دور ہوتے گئے۔ وطن سے محبت کا جذبہ سرد پڑنے لگا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ قیام کے بعد استحکام وطن کے لئے اس سے زیادہ جدو جہد کی جاتی اور جن معاشی، سماجی اور معاشرتی برابری کی بنیادوں پر پاکستان بنایا گیا تھا انہیں مستحکم کیا جاتا۔


بہرحال خوشی کی بات یہ ہے کہ 70 سال کے بعد ہم اصل ڈگر کی طرف رواں ہو چکے ہیں۔ اِس بار چودہ اگست پر رنگا رنگی، چہل پہل، رونق اور خوشی کی لہر ہر سو نظر آئی۔ پہلی بار ایک میلے کا سماں نظر آیا۔ لوگوں نے ایک جنون، جذبے اور کچھ کرنے کے ارادے اور عزم کے ساتھ 14 اگست منایا۔ لاہور میں سڑکوں پر جو بھی گاڑی نظر آئی بچوں کو بڑی شان اور مان سے دمکتے چہروں کے ساتھ جھنڈا لہراتے دیکھا۔ ان کے چہروں پر جو تابناکی تھی وہ روشن مستقبل کی ضامن بنتی نظر آ رہی تھی۔ بچوں بڑوں نے جھنڈے کے رنگوں کا لباس پہنا اور وطن سے محبت کا ثبوت اپنے جذبے سے دیا۔ جھنڈے کا سبز رنگ دھرتی سے جڑا ہوا ہے۔ اس بار پاکستان کے مردو زن نے سبز جھنڈے کو اپنا آنچل اور پَگ بنا کر اس کے معتبر رتبے کو مانا اور دنیا کو بھی دکھایا کہ ہم ملک سے کتنی محبت کرتے ہیں اور اس کی خاطر تن من اور دھن کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔


لاہور میں ایک جشن کا سماں رہا۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ چیف سیکرٹری پنجاب اکبر درانی صاحب نے شہر کی اکثر بڑی تقریبات میں شرکت کر کے ان کی رونق کو دوبالا کیا اور بدلے ہوئے رجحان کا عملاً ثبوت دیا۔ امن و امان کی صورت حال اور جشن آزادی کی تقریبات کے عالیشان انتظامات ان کی خصوصی کاوشوں سے مثالی نظر آئے۔ وہ پاکستان جو ووٹ کی بنیادپر وجود میں آیا مسلسل تیسری بار ووٹ کی قوت سے جمہوریت کی رہگزر پر رواں دواں ہے۔ اب لوگوں پر بہت کچھ حقیقتیں عیاں ہو چکی ہیں۔ یہ ملک ہمارا تعارف ہے، ہماری پہچان ہے۔ ہم کہیں بھی ہوں، کسی بھی عہدے پر ہوں، کتنے ہی دولت مند ہوں، اگر یہ خوشحال اور نیک نام نہیں تو ہماری نیک نامی سوالیہ نشان بن جاتی ہے اس لئے اب لوگوں میں وطن کی سربلندی کی اُمنگ جاگ اٹھی ہے اور وہ کچھ بہتر کرنے کی لگن کو پروان چڑھاتے نظر آتے ہیں۔ نئی نسل ایک نئے عزم کے اتھ اپنی پہچان کو بہتر بنانے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ انہیں خبر ہے کہ کل ان کا ہے اور انہیں اسی ملک کے تعارف کے ساتھ آگے بڑھنا ہے اس لئے وہ ابھی سے متحرک ہیں۔ اصل بات جذبے کو متحرک کرنا ہی ہے کیوں کہ ہر فرد کے باطن میں وطن کی محبت جاگزیں ہے مگر ایک عرصہ وہ سوئی رہی ہے، اسے جگانے اور عمل کی طرف راغب کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری قوم میں اتنا دم خم ہے کہ وہ تمام چیلنجوں کا سامنا کر سکتی ہے اور ان پر قابو بھی پاسکتی ہے۔ ہمیں ملکوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی بجائے قوم کو اعتماد دلا کر اور سادگی اپنا کر تعمیر و ترقی کا سفر شروع کرنا ہو گا۔ نئی حکومت کو طبقاتی فرق کم کر کے جمہوریت کو بادشاہت سے آزاد کرانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس کے لئے پہلی قربانی یقینا بااثر طبقے کو ہی دینا ہو گی۔ گرتی ہوئی معیشت کے لئے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تا کہ رقم گردش کرتی رہے اور لوگ اسے ذخیرہ کر کے نہ بیٹھ جائیں نیز ملک سے باہر سرمایہ منتقل کرنے والوں کا راستہ روکنے کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ جب یہ یقین مستحکم ہو جائے گا کہ مخصوص طبقہ ملک کے وسائل کے ساتھ کھلواڑ نہیں کر رہا تو ہر فرد ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کی بھرپور جدوجہد کرے گا نیز وہ یاسیت اور مایوسی بھی ختم ہو جائے گی جو عمل کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ آئیے ہم سب اس پاک سرزمین کو سرسبز رکھنے کے لئے اپنی ذمہ داریہ پوری کرنے کے لئے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔ کچھ اشعار جو وطن کی تعمیر کے جذبے سے جڑے ہوئے ہیں اور جن کے عقب میں وطن کی کہانی کھڑی ہے۔


اک خواب وطن کا دیکھا اور تعبیر ہوئی


ہم قوم بنے اور آزادی تقدیر ہوئی


ہم پرچم پرچم لہرائے اس دھرتی پر


اور دھرتی چاند ستارے کی تصویر ہوئی


اُمید کئی نسلوں کی آنکھوں سے ہو کر


اس دِل تک پہنچی اور میری جاگیر ہوئی


پھر دھڑکن دھڑکن ہونے لگا اک جشن بپا


پھر میرے جنوں کی دنیا میں تشہیر ہوئی


پھر کالی رات کے آنگن میں اک شمع جلی


اور عزمِ نَو سے لرزاں ہر زنجیر ہوئی


ہر فرد ہوا جب رانجھا تو آزادی نے


پھر بیلے بیلے رقص کیا اور ہیر ہوئی


اک پاکستان بنایا ہم نے دھرتی پر


اک پاکستان کی دِل میں بھی تعمیر ہوئی


جب قطرہ قطرہ موتی برسے رحمت کے


تب لوحِ صدف پر آزادی تحریر ہوئی


یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ اگر ہم اپنی مٹی سے وفا نہیں کریں گے تو دنیا کی کوئی بھی زمین ہمیں قبول نہیں کرے گی، ہمیں مان نہیں دے گی، ہم وہاں اجنبی ہوں گے جب کہ یہاں ہم اس ملک کے وارث ہیں اور اپنائیت کا یہ رشتہ دل و جان میں سرخوشی بھر دیتا ہے۔ ایک دعا جو ہر وقت میرے لبوں پر رہتی ہے، میرے تخیل میں، میرے دل میں شمع کی طرح جلتی رہتی ہے۔


ایہدے نال اے میری عزت


ایہدے نال اے میری شان


شالا صدیاں تیکر وسّے


دم دم جیوے پاکستان


(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں