’’قُربانی‘‘ فضیلت و اہمیت مسائل و شرعی احکام

August 17, 2018
 

قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویؐ میں سنّت ِ ابراہیمی قربانی کو دین کا بنیادی شعار قرار دیتے ہوئے اس کی فضیلت و اہمیت پر مفصّل روشنی ڈالی گئی ہے۔ارشادِ ربانی ہے: فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَر یعنی پس نماز پڑھو اپنے رب کے واسطے اور قربانی کرو۔’’قربانی‘‘ کا لفظ قربان سے نکلا ہے،عربی زبان میں قربانی اس عمل کو کہتے ہیں، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے ،خواہ ذبیحہ ہو یا صدقہ و خیرات، لیکن عرفِ عام میں یہ لفظ قربانی کے جانور کے ذبیحہ کے لیے بولا جاتا ہے ۔چناں چہ قرآن کریم میں یہ لفظ چند جگہ مستعمل ہوا ہے اور اکثر مواقع پرقربانی کے جانور کا ذبیحہ ہی مراد ہے ۔

رسول اکرم ﷺکا ارشادِ گرامی ہے: قربانی کے دن اللہ کو قربانی سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں، قیامت کے دن قربانی کا جانور سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ لایا جائے گا۔ نیز فرمایا: قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اﷲ تعالیٰ کے یہاں سندقبولیت حاصل کر لیتا ہے،اس لیے تم قربانی خوش دلی سے کیا کرو۔(ترمذی) قربانی کا بنیادی مقصد اپنے رب کے ہر حکم کے آگے سرتسلیم خم کردینا اور اہل ایمان میں جذبہ ایثار پیدا کرنا ہے۔قربانی کرنے والے شخص کی نیت یہ ہونی چاہیے کہ آج ہمارے رب نے جانور کی قربانی کا حکم دیا ہے تو ہم اسے بہ خوشی تسلیم کرتے ہیں اور کل اگر ہمارا رب ہماری جان کی قربانی مانگے گا تو ہمارے مالک وخالق کے نام پر یہ جان بھی قربان ہے۔ذیل میں قربانی کے بنیادی مسائل و احکام بیان کیے جاتے ہیں:۔

قربانی کے بنیادی مسائل و احکام

٭… قربانی ہر اس عاقل ،بالغ مقیم مسلمان مرد اور عورت پر واجب ہے جو نصاب کا مالک ہے یا اس کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنا سامان ہے جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے۔یعنی ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو، یا رہائش کے مکان سے زائد مکانات یا جائیداد وغیرہ ہوں یا ضرورت سے زائد گھریلو سامان ہو،جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو یا مال تجارت، شیئر ز وغیرہ ہوں تو اس پر قربانی کرنا لازم ہے۔(ردالمحتار، کتاب الاضحیۃ)

قربانی واجب ہونے کے لیے نصاب کے مال، رقم یا ضرورت سے زائد سامان پر سال گزرنا شرط نہیں ہے، اور تجارتی ہونا بھی شرط نہیں، اگر کوئی شخص ذی الحجہ کی بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے نصاب کا مالک ہوجائے تو اس پر بھی قربانی واجب ہے۔(فتاویٰ ہندیہ)٭… اگر کوئی قربانی کے تین دنوں میں سے آخری دن بھی کسی صورت سے نصاب کے برابر مال یا ضرورت سے زائد سامان کا مالک ہوجائے تو اس پر قربانی واجب ہے۔(ردالمحتار، کتاب الاضحیۃ)

٭… جس کے پاس رہائش کے مکان کے علاوہ زائد مکان موجود ہے، خواہ تجارت کے لیے ہو یا نہ ہو، ضروری مکان کے علاوہ پلاٹ/مکانات ہیں، ضروری سواری کے علاوہ دوسری گاڑیاں ہیں، تو یہ شخص صاحب نصاب ہے، اس پر قربانی واجب ہے۔(ہندیہ، کتاب الاضحیۃ)٭… تجارتی سامان خواہ کوئی بھی چیز ہو، اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو اس کے مالک پر قربانی واجب ہوگی۔(بدائع)

٭… جس پر صدقۂ فطر واجب ہے، اس پر عید کے دنوں میں قربانی کرنا بھی واجب ہے، اور اگر اتنا مال نہ ہو جتنے کے ہونے سے صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے تو اس پر قربانی واجب نہیں ہے، لیکن پھر بھی اگر قربانی کرے گا تو ثواب ملے گا۔(شامی)

٭… اگر عاقل بالغ مقیم عورت صاحب نصاب ہے، یا اس کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنی چیزیں ہیں کہ ان کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو ایسی عورت پر قربانی واجب ہے۔(ہندیہ، کتاب الاضحیۃ)

٭… قربانی کے ایام میں قربانی کا جانور ذبح کرکے قربانی کرنا ضروری ہے، اس کے بدلے رقم صدقہ کرنا، حج کرانا، کسی غریب کی امداد کردینا کافی نہیں۔(فتاویٰ ہندیہ) ان چیزوں کے کرنے سے الگ ثوب ملے گا، لیکن قربانی نہ کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔(فتاویٰ ہندیہ) قربانی کے ایام گزر جانے کی صورت میں قربانی کے ایک حصے کی قیمت کے برابر رقم صدقہ کردینا لازم ہوگا۔(ردالمختار)

٭… دیہات میں قربانی کا وقت : (جہاں جمعہ اور عیدین کی نماز واجب نہیںہے) وہاں صبح صادق طلوع ہونے کے بعد سے قربانی کرنا جائز ہے۔(ہندیہ)٭… شہر اور قصبات جہاں جمعہ اور عیدین کی نماز واجب ہے ،وہاں عید کی نماز سے پہلے قربانی کرنا درست نہیں ہے، نماز سے فارغ ہونے کے بعد قربانی کرے۔(فتح القدیر) اگر کسی نے عید کی نماز سے فارغ ہونے سے پہلے قربانی کی ہے تو اس کا اعتبار نہیں ہوگا،اس پر نماز کے بعد دوسری قربانی کرنا لازم ہوگی۔(فتاویٰ ہندیہ)

٭… پورے شہر میں کسی مسجد یا عیدگاہ میں عید کی نماز ہوگئی تو اس وقت قربانی کرنا جائز ہے، خود قربانی کرنے والے کا عید کی نماز سے فارغ ہونا شرط نہیں۔(فتاویٰ ہندیہ)اگر کسی وجہ سے عید کی نماز دسویں تاریخ کو نہیں پڑھی گئی تو اس روز زوال کے بعد جانور ذبح کرنا جائز ہوگا۔(فتاویٰ ہندیہ)

٭… قربانی کے جانور تین قسم کے ہیں:پہلی قسم: اونٹ نرو مادہ۔ دوسری قسم: بکرا، بکری، مینڈھا، بھیڑ، دنبہ نرو مادہ، تیسری قسم: گائے بھینس نرو مادہ۔(فتاویٰ ہندیہ)ان جانوروں کے علاوہ کسی اور جانور کی قربانی جائز نہیں، اور ان کے لئے بھی یہ شرط ہے کہ یہ وحشی نہ ہوں،بلکہ پالتو اور آدمیوں سے مانوس ہوں۔(بدائع) ٭… اگر باپ کی وفات ہوچکی ہے، اور اولاد ایک ساتھ رہ کر کاروبار کرتی ہے تو اگر ان کےمشترک مال یا جائیداد کو شرعی طور پر تقسیم کرنے کے حساب کے بعد ہر اولاد صاحب نصاب ہوجاتی ہے تو ہر ایک بالغ اولاد کو اپنے اپنے نام سے قربانی کرنا ضروری ہے، اگر کسی ایک بھائی کی طرف سے قربانی کی باقی بھائیوں کی طرف سے نہیں کی تو بقیہ بھائیوں کے ذمہ قربانی کا وجوب باقی رہ جائے گا۔(بدائع)

٭… میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے، اور میت کو ثواب ملے گا۔ حضرت علی ؓایک دنبہ اپنی طرف سے قربانی کرتے تھے اور ایک دنبہ نبی کریمﷺ کی طرف سے قربانی کرتے تھے۔(ردالمحتار)

٭… گائے، بیل بھینس اور اونٹ، اور اونٹنی میں سات حصے ہیں ،لہٰذا کسی بھی بڑے جانور میں سات افراد شریک ہو کر سات حصے قربانی کرسکتے ہیں، البتہ یہ شرط ہے کہ کسی شریک کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہ ہو، اور سب کی نیت قربانی یا عقیقہ کرنے کی ہو، گوشت کھانے یا لوگوں کو دکھانے کی نیت نہ ہو۔(بحر)

٭… اگرکسی پر قربانی واجب تھی، لیکن قربانی کے تینوں دن گزر گئے، اور اس نے قربانی نہیں کی تو ایک بکری یا بھیڑ کی قیمت خیرات کردے، اور اگر قربانی کا جانور خرید لیا اور کسی وجہ سے قربانی نہ کرسکا تو زندہ جانور صدقہ کردیا جائے، اور اگر مسئلے سے ناواقف ہونے کی وجہ سے بقر عید کے بعد اس جانور کو ذبح کر ڈالا تو غرباء پر اس کا گوشت تقسیم کردیا جائے، مال داروں کو نہ دیا جائے۔(شامی)اور اگر جانور ضائع ہوگیا اور قربانی نہ کرسکا، اور خریدنے والا اگر امیر ہے تو اس کے ذمہ اس کی قیمت کا صدقہ کردینا واجب ہے۔(درالمختار)

٭… اگر صاحب نصاب آدمی نے قربانی کے لئے جانور خریدا، اور جانور گم ہوگیا، اور اس نے قربانی کے لئے دوسرا جانور خریدا، قربانی کرنے سے پہلے گم شدہ جانور بھی مل گیا، اب اس کے پاس کل دو جانور ہوگئے، تو اس صورت میں دونوں جانوروں میں سے کسی ایک جانور کی قربانی کرنا واجب ہے، دونوں کی نہیں، البتہ دونوں جانوروں کی قربانی کردینا مستحب ہے۔(ردالمختار) لیکن اگر کسی فقیر نے ایسا کیا تو اس پر دونوں جانوروں کی قربانی کرنا واجب ہوگا، کیونکہ فقیر پر قربانی واجب نہیں تھی، قربانی کی نیت سے جانور خریدنے کی وجہ سے اس جانور کی قربانی واجب ہوگئی، جب دو جانور اس نیت سے خریدے تو دونوں جانوروں کی قربانی لازم ہوگی۔(البحر)

٭… قربانی کے لئے جانوروں کی عمریں متعین ہیں۔بکرا: ایک سال کا ہو۔(ہندیہ)گائے، بیل بھینس: دو سال کی۔(درالمختار)اونٹ: پانچ سال کا ہونا ضروری ہے،اگر مذکورہ جانوروں کی عمریں متعینہ عمر سے کم ہیں تو ان کی قربانی جائز نہیں ہوگی۔(درالمختار) اگر بھیڑ اور دنبہ چھ مہینے سے زیادہ اور ایک سال سے کم ہو ،مگر اتنا موٹا، تازہ فربہ ہوکہ سال بھر کا معلوم ہوتا ہو، اور سال بھر کے بھیڑ اور دنبوں میں اگر چھوڑ دیا جائے تو سال بھر سے کم کانہ معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی بھی جائز ہے، اور اگر چھ مہینے سے کم کا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں، خواہ وہ کتنا ہی موٹا تازہ ہو، اور یہ حکم ایک سال سے کم عمر کے صرف بھیڑ اور دنبے کے بارے میں ہے۔(البحر) جب کسی جانور کی عمر پوری ہونے کا یقین غالب ہوجائے تو اس کی قربانی کرنا درست ہے، ورنہ نہیں، اور اگر کوئی جانور دیکھنے میں پوری عمر کا معلوم ہوتا ہے، مگر یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ اس کی عمر ابھی پوری نہیں ہے تو اس کی قربانی درست نہیں ہے، (البتہ اس سے دنبہ اور بھیڑ مستثنیٰ ہے)۔(عالمگیری)

٭… جو جانور اندھا، کانا، ایک آنکھ تہائی روشنی سےمحروم ہو، جس کا تہائی کان یا تہائی دُم کٹی ہوئی ہو، ایسا لنگڑا ہو کہ فقط تین ٹانگوں پر چلتا ہو چوتھی ٹانگ کا سہارا بھی نہ لے سکتا ہو، ایسا مریل ہو کہ ہڈیوں میں گودا ہی نہ ہو، جس کے پیدائشی طور پر کان ہی نہ ہوں ایسے جانوروں کی قربانی درست نہیں۔(بہشتی زیور) البتہ خصّی (بدھیا) جانور کی قربانی درست ہے۔(بہشتی زیور)لیکن اگر ذبح کے وقت تڑپنے، کو دنے سے جانورعیب دار ہوگیا تو کچھ مضائقہ نہیں۔(ہندیہ) اگر کسی مال دار صاحب نصاب آدمی نے قربانی کی نیت سے کوئی جانور خریدا، پھر وہ جانور عیب دار ہوگیا تو صاحب نصاب آدمی پر ضروری ہوگا کہ عیب دار جانور کی جگہ پر کسی بے عیب جانور کی قربانی کرے۔(شامی)اگر کسی فقیر آدمی نے قربانی کی نیت سے کوئی جانور خریدا، پھر وہ جانور عیب دار ہوگیا تو فقیر آدمی وہی عیب دار جانور کی قربانی کرے، یہ کافی ہے، فقیر کے لئے اس کی جگہ دوسرا جانورلےکر قربانی کرنا ضروری نہیں ہے۔(الہندیہ)اگر کسی نے قربانی کے لئے بے عیب جانور خریدا تھا، مگر بعد میں کوئی ایسا عیب و نقص پیدا ہوگیا جس کی وجہ سے قربانی درست نہ ہو ،تو اگر قربانی منت و نذر کی ہو تو اس کی جگہ بے عیب جانور کی قربانی ضروری ہے، خواہ وہ شخص امیر ہو یا غریب، اور اگر قربانی نذر و منت کی نہ ہو تو غریب کے لئے اس عیب دار جانور کی قربانی کردینا کافی ہے اور امیر پر اس کی جگہ دوسرے بے عیب جانور کی قربانی کرنا ضروری ہے۔(عالمگیری)

٭… اگر ایک گھر میں متعدد افراد ہیں اور سب صاحب نصاب ہیں، اور سب پر ایک ایک حصہ قربانی کرنا واجب ہے تو اس صورت میں گھر کے تمام افراد کی جانب سے ایک چھوٹے جانور کی قربانی کافی نہیں ہوگی،یا ایک فرد کی قربانی تمام افراد کے لئے کافی نہیں ہوگی۔(درالمختار)

٭… جانور کے گلے میں چار رَگیں ہوتی ہیں۔ ان میں سے تین رَگوں کا ذبح کرتے وقت کَٹ جانا لازمی اور ضروری ہے ورنہ اس کا گوشت کھانے کے لیے حرام ہوجائے گا۔(بہشتی زیور) چُھری انتہائی تیز دھار والی ہونی چاہیے ،تاکہ جانور کو کم سے کم تکلیف ہو۔(بہشتی زیور) ہرہر جانور کو ذبح کرتے وقت بسم اﷲ، اﷲ اکبر پڑھنا چاہیے اگر جان بوجھ کر نہ پڑھا تو جانور حرام ہوجائے گا۔(بہشتی زیور)گلے میں اُبھری ہڈّی کے قریب اتنی تیز اور دیر تک چھری چلانی چاہیے کہ چاروں یا کم از کم تین رَگیں کٹ جائیں اس وقت گردن کو علیحدہ نہیں کرنا چاہیے۔(بہشتی زیور)ذبح کرنے کے لیے جانور کو اذیت پہنچانا ناجائز ہے۔(بہشتی زیور) اگر ذبح کی تیاری میں کوئی عیب پیدا ہوگیا، مثلاً ٹانگ ٹوٹی، یا آنکھ خراب ہوگئی تو کوئی حرج نہیں، اس کی قربانی صحیح ہے۔(فتح)

٭… بہتر یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کرلئے جائیں، ایک حصہ اپنے گھر کے لیے دوسرا حصہ رشتے داروں اور دوست احباب کے لیے، اور تیسرا حصہ فقراء اور محتاجوںکے لیے ۔(ہندیہ)

٭… قربانی کی کھال جب تک موجود ہے، قربانی کرنے والے کو اس میں تین قسم کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ (1) خود استعمال کرنا۔ (2) کسی کو ہدیہ کے طور پر دینا۔ (3) فقراء و مساکین پر صدقہ کرنا اگر قربانی کا چمڑا (کھال) نقد رقم یا کسی چیز کے عوض فروخت کردیا تو اس صورت میں قیمت کی رقم صدقہ کردینا واجب ہوگا۔(فتاویٰ ہندیہ) قربانی کی کھال فروخت کرنے کے بعد اس کی قیمت اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ہے، اگر اپنے استعمال میں لائی گئی تو اس کا بدل صدقہ کرنا واجب ہے ورنہ قربانی کا ثواب پورا نہیں ملے گا۔(فتاویٰ بزازیہ)

٭… موجودہ دور میں اجتماعی قربانی کا رواج عام ہورہا ہے، اور بہت سارے ادارے یہ خدمت انجام دے رہے ہیں ،یہ جائز ہے، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ۔(فتاویٰ ہندیہ)اجتماعی قربانی میں ایک بات کا خاص طور پر خیال رکھنا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ جان بوجھ کر حرام آمدنی والے افراد کے ساتھ شرکت نہ ہو، ورنہ قربانی صحیح نہیں ہوگی۔ (ترمذی)اس لئے اجتماعی قربانی کا انتظام کرنے والے اداروں پر ضروری ہے کہ اس بات کا خیال رکھیں، اور اس کی آسان صورت یہ ہے کہ جہاں حصوں کی بکنگ ہوتی ہے، وہاں بڑے حروف میں یہ اعلان لکھ کر آویزاں کردیں ’’ حرام آمدنی والے مثلاً، سود، جواء، بینک، انشورنس، ڈاکہ اور چوری کی رقم والے افراد اجتماعی قربانی میں شرکت نہ کریں، ورنہ وہ خود ذمہ دار ہوں گے‘‘۔اجتماعی قربانی میں مشترکہ جانور کو ذبح کرنے سے پہلے جن سات شریکوں کی طرف سے یہ قربانی ہے، اس کا تعین اور ذبح کرتے وقت ان کی طرف سے قربانی کی نیت کرنا ضروری ہے، ورنہ تعین نہ ہونے کی وجہ سے قربانی صحیح نہیں ہوگی۔ (ردالمحتار)

٭… اگر اجتماعی قربانی میں قربانی کرنے کے بعد رقم بچ جائے تو بقیہ رقم واپس کرنا لازم ہوگا، رقم جمع کرنے والوں کی اجازت کے بغیر بچی ہوئی زائد رقم اجتماعی قربانی کرنے والوں کے لئے رکھنا جائز نہیں ہوگا۔ ہاں اجتماعی قربانی کرنے والے اجرت کے طور پر کچھ لینا چاہیں تو ابتداہی سے متعین کرکے لے سکتے ہیں بعد میں نہیں۔(فتاویٰ رحیمیہ)اللہ تعالیٰ تمام صاحب حیثیت مسلمانوں کو اخلاص نیت سے قربانی کا فریضہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)


مکمل خبر پڑھیں