ترکی کی مارکیٹس کو ہراساں کرنے کی امریکی اسٹاکس ڈوب گیا

August 20, 2018
 

پیٹر ویلز

وال اسٹریٹ چھ ہفتوں میں پہلی بار اپنے ہفتہ وار تیزی سے کمی کی جانب بڑ بڑھ رہی ہے جیسا کہ جمعہ کو ابھرتی ہوئی مارکیٹس میں بدترین فروخت میں اضافہ کے باعث اسٹاک گرگئے جس کے نتیجے میں امریکی خزانہ اور ڈالر کو بھاری فائدہ حاصل ہوا۔

جمعہ کو ترکی بے چینی کا اہم ذریعہ تھا جیسا کہ اس کرنسی ریکارڈ حد تک گرگئی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ترکی سے اسٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات پر ٹیرف میں اضافہ کریں گے، جس سے پہلے سے ہی عائد معاشی پابندیوں اور بدترین اقتصادی سورتحال میں اضافہ ہوا ہے ۔

دیگر ابھرتی مارکیٹوں میں اسٹاک اور کرنسیاں بھی دباؤ کے تحت ہیں۔ جو جزوی طور پرامریکی ڈالر کے 11 ماہ کی بلندی کی وجہ سے ہے جیسا کہ دیگر ابھرتی مارکیٹوں میں اسٹاک اور کرنسیاں بھی دباؤ کے تحت ہیں۔ جو جزوی طور پرامریکی ڈالر کے 11 ماہ کی بلندی کی وجہ سے ہے جیسا کہ ترکی کی ممکنہ ناکامی کو یورو روک لے۔

ایس اینڈ پی 500 جس نے صرف منگل کو خود کو جنوری کے ریکارڈ بلندی سے ایک فیصد کے نصف سے کم پوائنٹس پر پایا، جمعہ کو 30 جولائی سے 0.6 فی صد کا سب سے بڑے ڈراپ کا سامنا کرنا پڑا۔

0.3 فیصد توانائی کا واحد شعبہ اندھیرے میں ہے، جبکہ دفاعی جیسے صارفین کا خام مال 0.1 فیصد گرگیا اور پیلتھ کیئر 0.3 فیصد آئندہ بہترین تھے۔ترکی اور دیگر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں سے نمٹنے کے بارے میں خدشات کے باعث بینکنگ کے ذخائر کے ساتھ ساتھ دونوں کے 1.1 فیصد نیچے جانے سے سب سے ذیادہ خراب میٹریل اور مالیات تھے۔

ایک صف میں اپنے آٹھویں کامیاب سیشن کو چھونے کے ایک دن بعد ڈاؤ جونز 0.7 فیصد نیچے چلا گیا جبکہ نیسڈک کمپوزٹ 0.4 فیصد گرگیا۔

جمعہ کو سب سے بڑا فاتح امریکی ڈالر رہا۔96.423 سے ایک فیصد اوپر، سال کیلئے اپنی سب سے بڑی پیش رفت میں ڈی ایکس وائے انڈیکس وسط جون سے اپنی سب سے بڑا ایک روزہ فائدہ حاصل کررہا تھا۔ آج کے دن کے آغاز پر جولائی 2017 کے بعد سے انڈیکس پہلی بار 96 سے اوپر چلاگیا۔

خطرے سے متعلق ماحول نے سرمایہ کاروں کو سرکاری بانڈز کا انبار جمع کرتے دیکھا۔ امریکی خزانہ کے دس سالہ معیاری پر منافع 2.8714 فیصد کیلئے 6.4 بنیادی پوائنٹس کم تھی۔


مکمل خبر پڑھیں