سسکتی مسکراتی زندگی کی تقریب پذیرائی

August 20, 2018
 

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ استاد بادشاہ نہیں ہوتا مگر بادشاہ بناتا ہے،کسی بھی انسان کی شخصیت میں اس کے والدین کے بعد کسی کے اثرات ہو سکتے ہیں تو وہ اس کے استاد کے ہوتے ہیں، رب کا پہلا حکم جو اپنے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے آیا وہ اقرا تھا یعنی پڑھیے۔ اس سے ہمیں تعلیم اور معلم کی اہمیت احساس ہوتا ہے۔

جناب پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ ایسی ہی ایک شخصیت ہیں ان کے لاکھوں شاگرد پوری دنیا میں میڈیا کی عملی تربیت کی بہترین مثال ہیں۔تین برس کی عمر میں والد کا سایہ اٹھ گیا اس کے باوجود ان کی سیلف میڈ شخصیت نے وہ کر دکھایا جو اکثر لوگ کئی زندگیاں گزار کے بھی نہیں کر سکتے۔

ان کی خود نوشت سوانح عمری’ 'سسکتی مسکراتی زندگی‘ کی ایوان اقبال میں ہونے والی تقریب پذیرائی میں ان کے احباب، ساتھیوں اور طالب علموں نے جو وطن عزیز کے آج معروف اینکرز، کالم نویس، صحافی اور استاد ہیں، انہوں نے ڈاکٹر صاحب کی شخصیت پر اظہار خیال کیا جس سے ان کی زندگی کے ایسے کئی گوشے بے نقاب ہوئے جو ہم نہیں جانتے تھے۔

ڈاکٹر مغیث کا نام گرامی جب بھی سنتے میں آتا ہے تو انتھک محنت، لگن، جستجو، توانائی، استقلال، ثابت قدمی، کردار کی پختگی اور پہاڑ ایسا عزم ذہن میں آتا ہے۔اس کتاب میں اُن کی زندگی کے تمام زیر و زبر، حالات اور واقعات کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر مغیث الدین کی تعلیمی زندگی سے لے کر بحیثیت معلم پنجاب یونیورسٹی میں خدمات، جامعہ پنجاب میں ہونے والے تلخ اور خوشگوار واقعات ، مختلف ملکی ، غیر ملکی مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات سے ملاقاتیں اور ان کے بارے میں تاثرات بھی کتاب کی زینت ہیں۔

کتاب میں ڈاکٹر مغیث کی زندگی کی متنوع پہلو بھی سامنے آتے ہیں وہ استاد بھی ہیں، وہ ماہر اباغ عامہ بھی ہیں۔ کبھی ان کا کردار تحریک ختم نبوت میں نظر آتا ہے تو کہیں وہ بنگلہ دیش نامنظور تحریک میں انتہائی متحرک ملتے ہیں، کبھی وہ امریکہ کی بہترین جامعات میں پاکستان کے بارے میں غلط تصورات پر مخالفین پر عقاب کی طرح جھپٹے ہیں تو کبھی ڈھاکہ میں پاکستان کا انتہائی جامعیت سے دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔سچ ہے ایسے دور میں ان ایسے ہیرے نایاب ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں