سیاسی رزم آرائی نہیں، باہمی بزم آرائی!

August 26, 2018
 

منصور آفاق میرے بہت پرانے دوست ہیں، صف اول کے شاعر اور کالم نگار۔ میرے اور ان کے سیاسی نظریات کا کوئی سرا آپس میں نہیں ملتا۔ وہ عمران خان کے ایک جنونی قسم کے حامی ہیں اور پہلے دن سے انہوں نے اس ضمن میں اپنے قلم سے تلوار کا کام لیا، مجھے ان کے خیالات اور رویے سے کبھی اتفاق نہیں رہا اور میرے نظریات سے بھی ان کے اتفاق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، مگر اس کے باوجود ہماری دوستی میں فرق نہیں آیا، وہ اپنے راستے پر چلتے رہے اور میں اپنے راستے پر۔ اور میرے خیال میں پاکستان کے گلی کوچوں میں نفرت کا بیوپار گرم کرنےکے بجائے ایک دوسرے کے خیالات اور نظریات کو برداشت کرنے کا یہی ایک واحد طریقہ تھا۔ اگر گزشتہ چند برسوں میں قوم محض سیاسی اختلافات کی بنیاد پر ایک دوسرے کے خلاف دست بدست جنگ پر اتر آتی تو ہمارے پاکستان کا بھی وہی حال ہوتا جو دشمن نے دوسرے مسلم ممالک کا کر رکھا ہے۔ ہمیں ملک کو انتشار سے بچانے کے لئے باہمی تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت تھی جو کہیں نظر آئی اور کہیں نظر نہیں آئی، تاہم بدترین حالات پیدا نہیں ہوئے۔

میں نے کالم کے آغاز میں منصور آفاق اور اپنی نظریاتی دوری کے باوجود باہمی احترام کا ذکر بطور استعارہ کیا ہے۔ میں یہ کالم لکھنے پر اس لئے مجبور ہوگیا ہوں کہ کوئی طاقت قوم کو تقسیم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ نفرت انگیز پیغامات لکھنے والا شاید ایک ہی طبقہ ہے جس کی کڑیاں سرحد سے باہر ہیں، ہم وہ نفرت انگیز جملے ایک دوسرے کو بھیجتے رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی سیاسی جماعت کی خدمت کررہے ہیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت کی بقا ملک کی بقا کے ساتھ مشروط ہے، اگر عوام کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کردیا گیا تو پھر ہمار ا ملک عراق اور شام کی مانند ہو جائے گا۔ ہر طرف تباہی ہی تباہی۔ نہ ملک رہے گا اور نہ کوئی سیاسی جماعت۔ الیکشن سے پہلے تو پھر بھی اپنی جماعت کا پروپیگنڈہ کرنے اور تلخ نوائی کی گنجائش موجود تھی، اپنی جماعت کے حق میں لکھنے میں اب بھی کوئی حرج نہیں، لیکن تلخ نوائی بلکہ گالی گلوچ اور ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کرنے کی کوششیں سخت قابل مذمت ہیں، اب اگر ضرورت ہے تو یہ کہ اپوزیشن کے عمائدین ایک جگہ اکٹھے ہوں اور الیکشن میں جو دھاندلی ہوئی ہے، اس کے حوالے سے اپنے تحفظات قوم کے سامنے پیش کریں، اگر وہ احتجاج کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ بھی ان کا جمہوری حق ہے مگر اسے ایک حد میں رکھیں۔ دھرنا نہ دیں، راستے بند نہ کریں، اگر کوئی شرپسند فوج کے خلاف نعرہ بازی کرے تو اسے سختی سے روکیں، عدلیہ سے، الیکشن کمیشن سے، انصاف کے طلب گار ہوں، مگر ان اداروں کی حرمت کو بھی ضرور پیش نظر رکھیں۔ حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ اپوزیشن کے جائز مطالبات تسلیم کرے، کسی بات کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائے، یہی اس کے لئے مناسب ہے اور اسی سے انہیں حق حکمرانی ملنے کا جواز پیدا ہوگا۔

اب میں پھر اسی نکتے کی طرف آتا ہوں، جس نکتے سے میں نے اپنی بات کا آغاز کیا تھا اور وہ یہی کہ عوام اپنی جماعت سے وابستہ ضرور رہیں، مگر ذاتی دوستیوں اور پرانے تعلقات کو دائو پر نہ لگائیں بلکہ مسئلہ صرف ذاتی دوستیوں اور پرانے تعلق کا نہیں۔ براہ راست پاکستان کی بقا اور سلامتی کا ہے۔ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیں، ہم سب پاکستانی بھائی بھائی ہیں اور یہ اسپرٹ ہر حال میں قائم رہنا چاہئے۔ دشمن پاکستان اور امن اور استحکام نہیں چاہتا، اب دنیا میں حکومتیں اپنے دشمن کے خلاف فوج کشی نہیں کرتیں بلکہ یہ کام وہ خود اسی ملک کے عوام سے لیتی ہیں، وہ ایک دوسرے کے خلاف اتنی نفرت کو ہوا دے ڈالتی ہیں کہ ایک وقت آتا ہے جب وہاں خانہ جنگی شروع ہو جاتی ہے۔ دشمن اس خانہ جنگی کو ’’روکنے‘‘ کے لئے کسی ایک فریق کی حمایت میں وہاں اپنی فوج بھیج دیتا ہے جو بمباری سے پورے ملک کو ملبے کا ڈھیر بنا دیتی ہے۔ پھر ایک دوسرا ملک دوسرے فریق کی ’’حمایت‘‘ میں اپنی فوج بھیجتا ہے اور یوں رہی سہی کسر بھی نکال دیتا ہے۔اس کے بعد نہ کوئی سیاسی جماعت رہتی ہے اور نہ اس کا کوئی حامی یا مخالف۔ باقی جو بچتا ہے وہ بچوں اور عورتوں کی چیخ و پکار ہوتی ہے جو عمارتوں کے ملبے کے نیچے سے سنائی دیتی ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں، اس ضمن میں اپوزیشن سے زیادہ حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حالات کو بربادی کی طرف نہ جانے دے اور عوام اس حوالے سے اپنا فرض ادا کریں، کسی بھی سیاسی جماعت کی محبت میں کسی سے نفرت نہ کریں، ہمارا بچائو رزم آرائی میں نہیں، بزم آرائی میں ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں