چین کا بینکوں کو برآمد کنندگان کیلئے قرض لینے کی حوصلہ افزائی کا حکم

August 27, 2018
 

بیجنگ: ٹام مچیل

چین کے بینکنگ ریگیولیٹرز نے بینکوں کو بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور برآمد کنندگان کو قرض دینے میں اضافے کا حکم دیا ہے جیسا کہ حکومت امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات کے نئے دور کے موقع پر اقتصادی اعتماد کو فروغ دینا چاہتی ہے۔

نائب ویزر تجارت وانگ شوان کی زیر سربراہی چین کے تجارتی مذاکرات کار بدھ کو شروع ہونے والے دو روزہ مذاکرات کے لئے واشنگٹن میں ہیں،یہ مبینہ دانشورانہ ملکیت کی چوری کیلئے گزشتہ ماہ چین کی برآمدات پر امریکا کی جانب سے تادیبی ٹیرف عائد کرنے کے بعد سے یہ پہلے مذاکرات ہیں۔

6 جولائی کو ٹیرف کے اعلان کے بعد سے چین کی کرنسی اور اسٹاک مارکیٹ کو زوال کا سامنا ہونا اقتصادی ترقی میں کمی اور دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ کے طویل مدتی اثرات کے بارے میں سرمایہ کاروں کے اضطراب کی عکاسی کرتا ہے۔

شنگھائی اور شینزین اسٹاک میں درج بڑٰی کمپنیوں کو ٹریک کرنے والا سی ایس آئی 300 بینچ مارک 15 فیصد سے زائد نیچے آگیا ہے۔

رینمنبی پربھی دباؤ بڑھ رہا ہے، جو اسی مدت کے دوران 15 اگست کو ڈالر کے مقابلے میں تقریبا 7 فیصد نیچے آکر 6.93 کم سطح پر آگئی۔ پیپلز بینک آف چائنا کے کرنسی کی کمی کیلئے سرمایہ کاروں کی صلاحیت پر پابندی کیلئے اقدامات متعارف کرانے سے کرنسی کسی حد تک دوبارہ مستحکم ہے۔

چین کی حکومت نے حال ہی میں کمزور ہوتی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے اقدامات کئے ہیں، لیکن غیر معمولی حوصلہ افزائی والے اقدامات متعارف کرانے سے روک دیا کیونکہ اس نے مالیاتی شعبے کے خطرے کو روکنے کیلئے مہم جاری رکھی۔

ہفتے کے اختتام پر جاری بیان میں چائنا بینک اور انشورنس ریگیولیٹری کمیشن نے ملک کے بینکوں جن میں سے زیادہ تر ریاستی ملکیت ہیں، پر زور دیا کہ انفراسٹرکچر کے منصوبوں اور عارضی مشکلات کا سامنا کرنے والی کمپنیوں کو سپورٹ کریں۔ریگیولیٹرز نے مزید کہا کہ مالیاتی اداروں کو ’مؤثر طریقے سے مستحکم روزگار کو فروغ دینے ، غیر ملکی تجارت اور سرمایہ کاری کو مستحکم ‘ کرنا چاہئے۔

حکومت اور مرکزی بینک کی پالیسیوں کی غلطیوں کی ایک سلسلے کے بعد ملک کے اسٹاک مارکیٹوں اور کرنسی کو ہلا کر کھ دینے کے بعد اگست 2016 سے سی ایس آئی 300 اس کی نچلی ترین سطح پر ہے۔

ایک سرمایہ کاری کی حکمت علی کے ماہر نے نام افشاء نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ 2015 اور 2016 میں چین کی حکومت کے مسائل خود ساختہ تھے۔ اس بار جن مسائل کا سامنا کرن اپڑا ہے وہ ملکی معاشی ماحول اور تجارتی ٹکراؤ کی وجہ سے ہے نہ کہ پالیسی کی غلطیاں ہیں۔

اب تک چین کی سالانہ برآمدات میں تقریبا 10 فیصد تادیبی ٹیرف کے ساتھ ہدف بنایا گیا ہے، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اکتوبر کے اختتام تک امریکا کو چین کی تمام برآمدات کے نصف پر ٹیکس نافذ کرنے کی دھمکی دی ہے۔

ہفتہ کو ایک ٹوئیٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارتا کہا کہ وہ چین پر دباؤ ڈالنا جاری رکھیں گے جیسا کہ انہوں نے روس کے ایجنٹوں کے اپنی صدارتی مہم کے مبینہ طور پر تعلق پر جاری تحقیقات پر حملہ کیا۔انہوں نے ٹوئیٹ کیا کہ تمام بیوقوف جو صرف روس پر متوجہ ہیں انہیں چین کی سمت پر بھی دیکھنا شروع کرنا چاہئے۔

چین کے پالیسی سازوں کے قریبی افراد نے کہا کہ مئی اور جون میں تجارتی مذاکرات کے حالیہ تین دور کی ناکامی کے بعد چین کو امریکا کے انڈر سیکرٹری خزانہ ڈیوڈ مالپاس کے ساتھ مسٹر وانگ کے رواں ہفتے مذاکرات کے لئے بہت کم توقعات ہیں۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ چینی حکام متفکر ہیں کیونکہ انہیں اس کھیل کا اختتام نظر نہیں آرہا۔

جبکہ کمزور رینمینبی چینی برآمدکنندگان پر امریکی ٹیرف کے اثرات کو نرم کرتا ہے، سینٹرل بینک کو خوف ہے کہ اگر ڈالر کے مقابلے میں کرنسی تیزی سے مسلسل نیچے جاتی رہی تو تجدید شدہ سرمائے کا ملک سے پرواز کرنے کا امکان ہے۔ چین کے زرمبادلہ کے ذخائر مسلس دوسرے ماہ جولائی میں 3.12 ٹریلین ڈالر تک بڑھ گئے ،اشارہ کیا کہ پیپلز بینک آف چائنا نے گزشتہ ماہ رینمینبی کی حمایت کے لئے مداخلت سے انکار کردیا۔


مکمل خبر پڑھیں