انسان ہی اپنا جاسوس

August 29, 2018
 

گزشتہ برس 13 نومبر 2017 کو ‘‘کولین پیچرفورک‘‘ نامی مجرم کو تیس برس قید کی سزا مکمل کر نے کے بعد رہا کردیا گیا۔ اسے پندرہ سالہ دو لڑکیوں کے ریپ کے بعد اُنہیں قتل کے جرم میں تیس برس قید کی سزا دی گئی تھی۔ کولین پیچر فورک کون ہے؟، اسے کیسے گرفتار کیا گیا ؟، پولیس اہل کاروں نے اس کیس کی تفتیش کیسے کی اور وہ مجرم تک کیسے پہنچے۔ یہ سب جاننے کے لیے پینتیس برس قبل، ماضی میں جھاکنا ہوگا۔

21 نومبر 1983ء کا ایک سرد دن تھا، جب برطانیہ کی ریاست ’’لیسسٹر شائر‘‘ کے گاؤں ’’نربوروغ‘‘ میں رہنے والی 15 سالہ ’’لینڈا مین‘‘سخت سردیوں کی دوپہر میں اپنی سہیلی سے ملنے گئی لیکن پھر کبھی واپس لوٹ کر گھر نہ آئی۔ وہ اپنی سہیلی کے گھر پہنچنے سے قبل ہی لاپتہ ہوگئی۔ ابھی لینڈا کی گم شدگی کو چوبیس گھنٹے ہی گزرے تھے کہ اس کے والدین کے پاس دل دہلا دینے والی وہ خبر آگئی، جس کا وہ تو کیا، دنیا کے کوئی بھی والدین کبھی تصور تک نہیں کرسکتے۔ تفتیش کاروں نے انہیں ’’بلیک پیڈ‘‘ نامی علاقے سے ملنے والی لاش کی پہچان کرنے کے لیے بلایا، جسے ریپ کے بعد بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر گلا گھونٹ کر جان سے مار دیا گیا تھا۔ بد قسمتی سے یہ لینڈا مین کی ہی لاش تھی۔ لاش کی شناخت کے بعد اس کے جسم سے ملنے والے خون کے نشانات کو اکھٹا کر کے محفوظ کر لیا گیا اور اس وقت تک دریافت ہونے والی فوریزک تیکنیک سے خون کے خلیوں کی جانج پڑتال کی گئی لیکن ناکافی تیکنیک کی وجہ سے لینڈا کے ساتھ ہونے والی زیادتی، قتل اور قاتل کے صرف 10 فی صد نتائج حاصل ہو سکے، جس کی بنیاد پر کوئی بھی نتیجہ اخذ کرنا یا کسی کو قاتل قرار دینا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا ہے۔ ٹھوس شواہد اور گواہ نہ ہونے کے سبب معصوم بچی کو انصاف ملنے سے قبل ہی اس کیس کی فائل بند کردی گئی اور لینڈا مین کا کیس سرد خانے کی نذر ہوگیا۔

لینڈا مین کے قتل کو تین برس گزرنے کے بعد اسی علااقے میں، اسی طرز کا ایک اور واقعہ رونما ہوا، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہوگئی۔ علاقہ مکینوں نے اپنی بچیوں کو گھروں تک محدود کر دیا۔ تفتیش کاروں پر دباؤ ڈالا جانے لگا کہ دونوں بچیوں کے قاتلوں کو جلد سے جلد گرفتار کر کے سزا دی جائے، تاکہ لوگوں کے سروں سے خوف کے کالے سائے چھٹ سکیں اور وہ بے خوف و خطر آزاد فضا میں سکون کا سانس لے سکیں۔ دونوں قتل کیسز میں مماثلت ہونے کے باوجود، تفتیش کاروں نے باقاعدہ نئے سرے سے اس قتل کیس کی تحقیقات کا آغاز کیا، لیکن جلد ہی وہ اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ ممکینہ طور پر دونوں قتل کیس میں ایک ہی شخص ملوث ہوسکتا ہے۔

یہ قتل پندرہ سالہ ’’ڈان ایشورتھ‘‘ کا تھا۔ ڈان کے قتل کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ، 31 جولائی 1986ء کو جلتی سہہ پہر تقریباً ساڑھے چار بجے کا وقت ہوگا، جب ڈان ایشورتھ نے اسکول سے واپس آنے کے بعد اپنی سہیلی کے گھر جانے کا ارادہ کیا، جو پاس کے گاؤں نربوروغ کے مضافات میں رہتی تھی، واضح رہے کہ ڈان ایشورتھ نربوروغ گاؤں سے چند میل کے فاصلے پر واقع چھوٹے سے گاؤں ’’اینڈربائے‘‘ میں رہتی تھی۔ اس نے پیدل ہی اپنی سہیلی کے گھر، ’’ٹین پاؤنڈ‘‘ نامی روڈ سے جانے کا فیصلہ کیا، ڈان عموماً اپنی سہیلی کے گھر جایا کرتی تھی، لیکن اس نے پہلی بار اس کے گھر جانے کے لیے دوسرے راستے کا انتخاب، شارٹ کٹ ہونے کی بنا پر کیا تھا۔ مگر وہ بھی لینڈا کی طرح سہیلی کے گھر جانے سے پہلے ہی لاپتہ ہوگئی۔ والدین نے تھانے میں رپورٹ درج کرائی۔ ابتداً پولیس اہلکار اس کیس کو اغواء برائے تاؤان کا کیس سمجھ کر اس کی تحقیقات اسی زاوئے سے کرتے رہے، بعدازاں جب ڈان کی گم شدگی کو دو دن گزر گئے اور تاؤان کے لیے کسی کا فون نہیں آیا تو پولیس نے ڈان ایشورتھ کی تلاش تیزی سے شروع کر دی، جلد ہی اس کی نعش نربوروغ کے نواحی علاقے میں واقع چھاڑیوں سے ملی۔ اسے بھی لینڈا کی طرح ریپ کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا تھا۔ اس کے جسم سے ملنے والے نشانات کی بنیاد پر ماہر علمِ امراض کے مطابق ڈان نے قتل سے قبل اپنے آپ کو بچانے کی بہت کوشش کی تھی، جب کہ تفتیش کاروں کے مطابق اس کیس کا طریقہ واردات تین برس قبل ہونے والے لینڈا مین کے قتل سے مشابہت رکھتا ہے، اسے بھی ریپ کے بعد اس کے اپنے ہی اسکارف سے گلا گھونٹ کر جان سے مارا گیا تھا، دونوں کیس میں کافی حد تک مشابہت ہونے کے سبب لینڈا مین قتل کیس کی فائل پر جمی گرد چھٹنے لگی تھی۔ طریقہ واردات میں مماثلت ہونے کی بناء پر، تفتیش کاروں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دونوں وارداتوں میں ایک ہی شخص ملوث ہوسکتا ہے۔ قاتل کے حوالے سے اندازہ لگایا گیا کہ، ممکنہ طور پر یہ کوئی سیریل کلر ہے، جو اس علاقے میں پندرہ سال کی بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا ہے۔ واضح رہے کہ دونوں قتل کیس کے جائے وقوعہ میں چند میل کا ہی فاصلہ تھا، نیز ڈان کے جسم سے ملنے والے شواہد کو لینڈا کی نعش کے پاس ملنے والے شواہد سے ملایا گیا، جس سے ان کے اندازے کو تقویت ملی کہ دونوں کا قاتل ایک ہی شخص ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے بعد تفتیش کاروں نے قاتل کی تلاش تیزی سے شروع کر دی اور اس کیس کو سیریل کلنگ قرار دیتے ہوئے اسی زاوئے سے دیکھا جانے لگا، اسی بناء پر علاقے میں لوگوں سے کہا گیا کہ، نربوروغ اور اس کے نواحی علاقوں میں پندرہ سال کی بچیوں کو اکیلا گھر سے نہ بھیجیں، ساتھ ہی میڈیا کی جانب سے قاتل کی گرفتاری کے حوالے سے پولیس اور مختلف اداروں پر زور ڈالا جانے لگا کہ، اگر آج ان بچیوں کے قاتل کو نہ پکڑا گیا تو کل کسی اور کی بچی کا بھی ریپ اور قتل ہو سکتا ہے، اخبارات میں اس حوالے سے مختلف مضامین شائع کیے گئے۔ تفتیش کاروں نے یہ موقف اختیار کیا کہ، قاتل اسی علاقے کا ہے، جو یہاں کے بارے میں اچھی طرح جانتا ہے اور کوئی ایسا شخص ہے جو، ان دونوں بچیوں کا قریبی یا جاننے والا ہے۔

ماہر جینیات ،ڈاکٹر الیک جیفریز

چھان بین کے بعد نربوروغ سے تعلق رکھنے والے ایک سترہ سالہ نوجوان ’’ریچرڈ بکلینڈ‘‘ کو گرفتار کیا گیا، جو ذہنی طور پر بیمار تھا، اسے پڑھائی میں بھی دشواری کا سامنا رہتا تھا۔ لیکن وہ نہ صرف ڈان کو اچھی طرح جانتا تھا بلکہ اس کے پاس اس کیس کے حوالے سے ایسی معلومات بھی تھیں، جو تفتیشی ذرائع نے ابھی تک عام نہیں کی تھیں۔ دوسری جانب ریچرڈ بکلینڈ نے تفتیش کے دوران ایک سے زائد بار اعتراف جرم کیا کہ اسی نے ڈان ایشورتھ کا قتل کیا ہے۔ اس کے اعتراف جرم کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے اس کا داخلہ منسوخ کر دیا۔ 10 اگست 1986ء کو اس پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے گرفتار کر کے اسی روز اسے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اس نے لینڈا مین کے قتل سے انکار کرتے ہوئے اسے جاننے، پہچانے سے بھی انکار کر دیا، جب کہ ڈان کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ، مجھے اس کا قتل کر کے کوئی شرمندگی یا افسوس نہیں ہے۔ لیکن تفتیشی اہلکار یہ جانتے تھے کہ، دونوں بچیوں کا قتل ایک ہی شخص نے کیا ہے، ایسے میں ریچرڈ کا ایک قتل کا اعتراف اور دوسرے سے انکار، نے تفتیشی اہکاروں کو کش مکش میں ڈال دیا، کہ آیا ریچرڈ جھوٹ بول رہا ہے کہ اس نے ایک قتل کیا ہے یا پھر اسی نے دونوں قتل کیے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریچرڈ جھوٹ کیوں بول رہا ہے، اگر اس نے قتل نہیں کیے تو الزام اپنے سر کیوں لیے رہا ہے، کیا وہ کسی کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے یا پھر دونوں قتل اسی نے کیے ہیں۔ تو پھر ایک کا اعتراف اور دوسرے سے انکار کیوں؟۔

تفتیشی اہلکاروں کے سامنے دو بڑے چیلنجز تھے۔ ایک اصل قاتل کو جلد سے جلد گرفتار کرنا اور ریچرڈ کے معمہ کی حقیقت جاننا۔ اسی اثناء میں برطانیہ کے ماہر جینیات ڈاکٹر ’’علیک جیفریز‘‘ نے یونیورسٹی آف لیسسٹر میں دورانِ تجربہ دریافت کیا کہ، کس طرح مختلف بیماریاں وراثتی طور پر نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں۔ انہوں نے انسانی خلیوں سے ڈی این اے کو علیحدہ کرکے انہیں فوٹوگرافک فلم سے منسلک کیا، جس سے ان کی خاص ترتیب کا عکس، انہیں حاصل ہوگیا۔ اس کے مشاہدے سے انہیں فوراً ہی معلوم ہوا گیا کہ، جن افراد کے خلیے تجربے کے لیے حاصل کیے گئے تھے، ان تمام خلیوں کے ڈٰی این اے کی ترتیب ایک دوسرے سے مختلف تھی، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ جس طرح انسانی انگلیوں کے ’’فنگر پرنٹ‘‘ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور کسی دو انسانوں کی انگلیوں کے نشانات ایک جیسے نہیں ہوسکتے، اسی طرح ہر انسان کا ڈی این اے بھی مختلف ہوتا ہے، جو کبھی بھی ایک دوسرے سے میل نہیں کھا سکتا۔ اس ٹیکنالوجی کو خونی رشتہ داروں کا تعین کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، اس حوالے سے انہوں نے 1986ء میں ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا۔ جس کے بعد انہوں نے کئی ایسے مختلف کیسز پر کام کیا، جن میں کئی بچوں کو برطانیوی شہریت دینے سے صرف اس لیے انکار کر دیا گیا تھا کہ، ان کے والدین کا تعلق برطانیہ سے نہیں تھا، بعدازاں علیک جیفریز نے انکشاف کیا کہ ان کی یہ تحقیق مختلف جرائم میں ملوث مجرموں کی شناخت میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

ابتداً ان کی بات پر یقین کرنا کچھ مشکل تھا، لیکن جب ریچرڈ بکلینڈ کا کیس سامنے آیا تو تفتیشی اہلکاروں نے اس کش مکش سے نکلنے کے لیے علیک جیفریز سے رابطہ کیا اور اس کیس میں ان سے تعاون کرنے کی درخواست کی تو وہ فوراً راضی ہوگئے اور انہوں نے بچیوں کی نعش سے ملنے والے شواہد اور ریچرڈ کے خون کے خلیوں کے نمونوں کا ٹیسٹ کیا، جس سے انکشاف ہوا کہ دونوں بچیوں کا قاتل ایک ہی شخص ہے، جس نے ریپ کے بعد گلا گھونٹ کر انہیں جان سے مار دیا۔ لیکن ریچرڈ وہ شخص نہیں ہے، وہ بے گناہ ہے اور نہ ہی وہ جائے وقوعہ پر موجود تھا۔ علیک کے انکشاف نے پولیس اہلکاروں کو حیران کر دیا کہ کوئی شخص کیوں بلاوجہ قتل کا الزام اپنے سر لے گا، اس لیے انہوں نے ماہر جینیات کی رپورٹ کو رد کرکے دوبارہ ٹیسٹ کرنے کا کہا، لیکن تین بار ٹیسٹ کے بعد بھی جب نتیجہ وہی نکلا تو ریچرڈ کو بے قصور قرار دے کر رہا کر دیا گیا۔ چوں کہ وہ اس دوران تین ماہ جیل میں قید تھا، جس کے باعث یونیورسٹی سے اس کا داخلہ منسوخ ہو گیا تھا، یہ ہی اس کا مقصد تھا۔ جس کے سبب وہ قتل کا الزام اپنے سر لینے کے لیے تیار ہوگیا تھا۔ اب ایک بار پھر پولیس اہلکار اصل قاتل کی شناخت کرنے میں لگ گئے۔ تفتیش کاروں نے ڈی این اے کی تیکنیک کو استعمال کرتے ہوئے اس کیس کو حل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ اس میں کافی وقت در کار تھا، انہوں نے نربوروغ اور نواحی علاقوں کے تمام حضرات کا خون ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا، جو 1953 سے 1970ء کے درمیان پیدا ہوئے، جو اس علاقے کے رہائشی تھے اور جو ملازمت کی غرض سے یہاں آئے، تمام حضرات کو بذریعہ خط رضاکارانہ طور پر طلب کیا گیا۔ اس کام کے لیے انہوں نے دو سینٹر قائم کیے، ایک مقامی اسکول میں اور ایک کونسل آفس میں، جہاں ہفتے میں تین دن، صبح اور شام کے اوقات میں خون کے نمونے حاصل کیے گئے۔ بعض حضرات نے ابتداً خون کے نمونے دینے سے انکار کیا لیکن پھر وہ کیس کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے راضی ہو گئے، اس طرح ایک سال بعد یعنی اگست 1987ء میں پولیس اصل قاتل ’’کولین پیچرفورک‘‘ اور اس کے ساتھی تک پہنچ گئی، جس کی مدد سے وہ خون کا نمونہ دینے سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ بعدازاں تفتشی اہلکاروں کے سامنے کولین پیچرفورک نے اقبالِ جرم کرلیا کہ اسی نے دونوں معصوم بچیوں کو ریپ کے بعد اُنہیں جان سے مار دیا تھا۔ جب کولین کو عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے اعتراف جرم کر لیا۔ عدالت نے اسے عمر قید کی سزا سنادی، اس وقت کے برطانوی قانون کے مطابق عمر قید کی مدت تیس برس تھی، جو گزشتہ سال نومبر میں مکمل ہونے پر اسے رہا کر دیا گیا۔

یہ کیس دو وجوہات کی وجہ سے دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ سائنس کی دنیا میں پہلی بار ڈی این اے جیسی نئی تیکنیک کی دریافت کے فوراً بعد اس کی مدد سے کیس حل کیا گیا اور دوسرا اتنے بڑے پیمانے پر خون کے نمونے حاصل کر کے قاتل تک رسائی ممکن بنائی۔

ڈی این اے کیا ہے؟

ڈی این اے یعنی (ڈی آکسی رائبو نیوکلیک ایسڈ)، انسانوں سمیت تمام جانداروں کے جسم میں پایا جانے والا وراثتی مادہ ہے۔ اس طبی اصطلاح کو ہم آسان الفاظ میں کچھ یوں بیان کرسکتے ہیں کہ انسانی جسم کی بنیادی اکائی، سیل یعنی خلیہ ہوتی ہے، یہ لاتعداد خلیات کا مجموعہ ہے۔ جسم کا ہر ایک خلیہ ایک مالیکیول پر مشتمل ہوتا ہے، ان خلیات کے مالیکیول کے درمیان میں نیوکلئیس پایا جاتا ہے، جس کے اندر ڈی این اے ہوتا ہے۔ قدرت کا کرشمہ ہے کہ اس دنیا میں، کسی ایک انسانی جسم کے تمام خلیوں میں ایک جیسا ہی ڈی این اے پایا جاتا ہے۔ مگر جڑواں بچوں کے سوائے اس دنیا میں ہر انسان کا ڈی این اے دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔ ہر انسان اپنے ڈی این اے کا 50 فی صد حصہ اپنی والدہ اور 50 فی صد اپنے والد سے وصول کرتا ہے۔ ان دونوں کے ڈی این اے کے مخصوص مرکب سے انسان کا اپنا ڈی این اے بنتا ہے، جو انسان کا اپنا مخصوص جینیاتی کوڈ ہے۔ اس کوڈ سے انسان کے بارے میں تمام معلومات حاصل ہوتی ہیں، مثلاً اس کی جنس، بالوں کا رنگ، ،آنکھوں کی ساخت، سونے کے اوقات، عمر اور جسمانی ساخت وغیرہ۔ اس کے علاوہ اسے کون کون سی بیماریاں لاحق ہیں، یہ بھی اس کے ڈی این اے سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔

ڈی این اے کی اہمیت

ڈی این اے ٹیسٹ ایک پیچیدہ اور وقت طلب عمل ہے، جس نے کریمنالوجی اور فرانزک سائنس کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اب ڈی این اے کو عدالتوں میں بطور شہادت تسلیم کیا جانے لگا ہے، جس کے بعد نہ صرف کئی درج مقدمات حل ہو رہے ہیں بلکہ کئی ایسے بے گناہ لوگ بھی جیلوں سے رہا ہو رہے ہیں جنہیں غلط تفتیش اور جھوٹے گواہوں کی مدد سے سزا دی گئی، مگر اب ڈی این اے کی مدد سے اصل مجرم گرفتار ہو جاتے ہیں۔

ڈی این اے ٹیسٹ کیسے کیا جاتا ہے؟

جس شخص کا ڈی این اے ٹیسٹ کرنا ہو، اس کا بال، خون، ہڈی، تھوک، گوشت اور یہاں تک کہ اس ٹوتھ برش سے بھی لیا جا سکتا ہے، جسے مطلوبہ شخص استعمال کرتا ہو یا ان میں سے کسی ایک چیز کا بھی نمونہ لیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ناگہانی آفت ،حادثے یا دہشتگردی کی صورت میں لاشوں کو ڈی این اے کی مدد سے شناخت کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے انسانی خلیے میں سے ڈی این اے الگ کیا جاتا ہے اور پھر پولیمیریز چین ری ایکشن نامی طریقے کی مدد سے اس ڈی این اے کی لاکھوں کاپیاں بنا لی جاتی ہیں۔ جن کی مدد سے ڈی این اے کی جانچ بہتر طریقے سے ہو سکتی ہے۔ جب کسی شخص کا ڈی این اے کیا جاتا ہے تو 15مختلف پہلوئوں سے جائزہ لینے کے بعد اتنے ہی نمبرز کا ایک بار کوڈ مرتب کیا جاتا ہے۔ جس طرح ہمارے موبائل فون نمبرمیں سات اعداد ہوتے ہیں، ممکن ہے ان میں سے کوئی چھ اعداد ایک دوسرے سے ملتے ہوں مگر ساتوں اعداد ایک جیسے نہیں ہو سکتے اسی طرح ہرشخص کا ڈی این اے مختلف ہوتا ہے۔ ڈی این اے کو جانچنے کے بعد ڈی این اے فنگر پرنٹ بنایا جاتا ہے۔ دو مختلف نمونوں کے ڈی این اے فنگر پرنٹ میں مماثلت دیکھ کر ان میں کسی تعلق کا تعین کیا جا سکتا ہے۔

حادثات کی صورت میں جب لاش کی شناخت بالکل نا ممکن ہو تب ڈی این کے ذریعے ہی شناخت کی جاتی ہے۔ ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد سے جانچا جاتا ہے کہ اس لاش کا ڈی این اے کس خاندان سے مل رہا ہے۔ ڈی این اے میں موجود جینیٹک کوڈ کے تقابلی جانچ سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ دو مختلف اشخاص میں کوئی خونی رشتہ ہے کہ نہیں، اسی لیے جھلسی ہوئی یا ناقابل شناخت لاشوں کے ڈی این اے نمونے لے کر دعویٰ دار، لواحقین کے نمونوں سے ملائے جاتے ہیں۔ اگر جینیٹک کوڈ ایک جیسے ہوں تو خونی رشتہ ثابت ہو جاتا ہے اور لاش لواحقین کے حوالے کر دی جاتی ہے۔ ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ابہام کی بالکل گنجائش نہیں ہوتی۔ پاکستان میں فرانزک لیب، فرانزک سائنس دان اور ماہر عملے کی کمی کے باعث اس ٹیسٹ کو انجام دینے میں کافی مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور اس کو مکمل ہونے میں ہفتہ بھی لگ جاتا ہے۔

ڈی این اے ٹیسٹ کیوں کیا جاتا ہے؟

ڈی این اے ٹیسٹ کے چند عام مقاصد درج ذیل ہیں۔

٭…ولدیت ثابت کرنے کے لیے

اگر یہ جاننا ہو کہ کسی انسان کے حقیقی والدین کون ہیں تو اس شخص کی ولدیت کا دعویٰ کرنے والوں کے ساتھ ڈی این اے میچ کر کے دیکھا جاتا ہے۔ اگر دونوں کے ڈی این اے میں مماثلت ہو تو ولدیت کا دعویٰ درست قرار پاتا ہے۔

٭… مجرم کی شناخت کے لیے

ڈی این اے کی مدد سے مجرم کی شناخت بھی آسانی سے کی جا سکتی ہے۔ اگر جائے وقوع سے مجرم کا بائیولوجیکل نمونہ ملے جائے تو اس کا ڈی این اے حاصل کر کے مکمل رپورٹ مرتب کی جاتی ہے۔ بعدازاںاس رپورٹ کو کیس میں نامزد ملزمان کے ڈی این اے سے میچ کرکے مجرم کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

٭… جین تھیراپی

اگر کسی خاندان میں کوئی مخصوص بیماری ہو تو وہ اپنے بچوں کی پیدائش سے پہلے ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد سے جان سکتے ہیں کہ ان کے بچے میں بھی یہ بیماری منتقل ہوسکتی ہے یا نہیں۔

٭… جینیٹک جینیالوجی

اگر کوئی اپنے آبائو اجداد کے متعلق معلومات حاصل کرنا چاہے تو وہ بھی ڈی این ٹیسٹ کے ذریعے ممکن ہے۔

پاکستان میں ڈی این اے کی مدد سے حل ہونے والے کیس

دنیا بھر میں وراثت، شناخت قتل اور جنسی زیادتی کے پیچیدہ ترین بعض مقدمات ڈی این اے کی مدد سے حل کئے گئے ہیں۔ مائیک ٹائی سن کے خلاف ریپ کا مقدمہ اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے حل کیا گیا، دنیا بھر کی طرح اب پاکستان میں بھی اس کے ذریعے کیسز حل کیے جا رہے ہیں۔ نیشنل فرانزک سائنس ایجنسی کے تحت پہلی قومی ڈی این اے لیبارٹری 2006ء میں اسلام آباد میں قائم کی گئی۔ جہاں پورے ملک سے لیے گئے ڈی این اے کے نمونے ٹیسٹ کے لیے بھیجے جاتے تھے۔ جس کی وجہ سے مجرم کی شناخت میں وقت درکار ہوتا تھا۔ مگر اب دیگر صوبوں میں بھی یہ سہولت میسر ہے، تاہم اس سلسلے میں نہایت احتیاط سے کام لیا جانا ضروری ہے، کیونکہ اکثر کیسز میں شواہد ضائع ہوجانے سے ملزمان بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

٭… جب میو اسپتال کی نرسری میں آگ لگی تو، جلی ہوئی ناقابل شناخت لاشوں کو ڈی این اے کی مدد سے شناخت کیا گیا تھا۔

٭… 2 مئی 2011 کو جب امریکا نے ایبٹ آباد میں آپریشن کر کے القاعدہ کے راہنما اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا تو عالمی سطح پر اس کی ہلاکت کی سائنسی اعتبار سے تصدیق کرنے کے لیے اس کی نعش سے حاصل ہونے والے نمونوں کے ڈی این اے کا موازنہ اس کے خاندان کے کئی افراد کے ڈی این اے سے کیا، جو میچ ہوگیا تھا۔

٭… 7 دسمبر 2016ء کو مسافر بردار طیارہ، گر کر تباہ ہو گیا، جس میں جنید جمشید سمیت کئی مسافر سوار تھے، تو لقمہ اجل بنے والوں کی شناخت بھی ایک بار پھر اسی ٹیکنالوجی کی مدد سے کی گئی۔ جب شناخت کا عمل مکمل ہوگیا، یعنی جب ڈی این اے میچ ہو گیا، تو لواحقین کے سپرد، ان کے پیاروں کی لاشیں کر دی گئیں۔

٭… 3 مئی 2016ء کو لاہور سے تعلق رکھنے والی قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی پر ہیلمٹ پہنے شخص نے مبینہ طور پر خنجر سے وار کر کے، قاتلانہ حملہ کیا بعدازاں ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت ہوا کہ ان پر حملہ کرنے والا ان کا ہم جماعت شاہ حسین تھا، جسے اقدام قتل کے جرم میں 7 سال قید کی سزا دی گئی تھی۔

٭… چند برس قبل ایک سرکاری آفسر کے تمام اہل خانہ کو قتل کر دیا گیا، بعدازاں تفتیش کے دوران جائے حادثہ سے ایک ٹیبل لیمپ ملا جو مقتولین میں سے کسی نے مرنے سے قبل قاتل کے سر پر مارا تھا، اس لیمپ پر ملنے والے خون کے دھبوں سے ڈی این اے حاصل کرکے اسے مشکوک افراد سے میچ کیا گیا تو یہ گتھی بھی سلجھ گئی اورقاتل پکڑے گئے۔

٭… رواں برس کے آغاز میں پیش آنے والا سانحہ , قصور، زینب قتل کیس بھی اسی تیکینک کی مدد سے حل ہوا اور عمران علی نقشبندی جو بچی کا قریبی جاننے والا تھا، اسے کیفر انجام تک پہنچایا گیا۔ اس کیس کے حل کے لیے تحقیقاتی اداروں نے ضلع کے کئی سو افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کیے اور پھر ان سے ڈی این اے پروفائل تیار کی گئی، جنہیں مقتول بچی کے جسم سے لیے گئے ڈی این اے نمونوں سے میچ کیا گیا جس سے ثابت ہوا کہ زینب سے زیادتی اور اسے موت کے گھاٹ اتارنے والا ملزم کون تھا، نیز ملزم کو دیگر سات وارداتوں میں بھی اسی ٹیسٹ کی بدولت ملوث قرار دیا گیا۔


مکمل خبر پڑھیں