سر رہ گزر۔۔۔۔

August 28, 2018
 

اچھے برے فیصلے صرف 100 دن میں

جب شام ہوتی ہے تو ریڑھی والا اپنے اچھے برے پھل کی قیمت یکدم گرا کر آواز لگاتا ہے ہر مال 20روپے کلو، اور غریب عوام جوق در جوق اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں، ایسے میں کوئی کوالٹی نہیں صرف مقدار دیکھتا ہے سستا ریٹ دیکھتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ پھل جو 100دن میں نہیں بک سکتا 100 منٹ میں ختم ہو جاتا ہے۔ ریڑھی والا خوشی خوشی گھر جاتا ہے، غریب لوگ جو اکثر نادان ہوتے ہیں ریڑھی والے کے اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں دیر نہیں لگاتے، سو روزہ ترقی پروگرام کی کامیابی کے لئے بھی وہ شام کا انتظار کریں گے کیونکہ وہ اس بات کے عادی ہیں کہ؎

صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے

عمر یونہی تمام ہوتی ہے

بعض لوگ مثبت دکھا کر منفی مارتے ہیں ہم اس کے الٹ چلتے ہیں اور اوئے بھی نہیں کہتے، خبر یہ ہے کہ تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے فرمایا ہے 100ڈیز پلان کے دوران ہونے والے اچھے بُرے فیصلے عوامی مفاد میں ہوں گے یہاں یہ شریعت نافذ ہے کہ؎

سو سو گناہ کئے عوامی زور پر

شام کو ریڑھی خالی جیب بھری لے گئے

ہم بے ٹکٹ سیاستدان ہیں فیصلہ سڑک پر ہی سنا دیتے ہیں، اور فیصلہ لکھنے کے لئے کوئی لمبی چوڑی سوچ بچار بھی نہیں کرتے، خاص تجزیئے بالعموم غلط ثابت ہوتے ہیں عام سیدھے سادے سوچے سمجھے بغیر کئے گئے تجزیئے سچ ثابت ہوتے ہیں، تحریک انصاف میں مرکز انصاف سے لے کر رموز خسروی کا ہر مرکز دراصل ایک ہی مرکز پر پانی پیتا ہے، سیدھے لفظوں میں پوری جماعت کا ایک امام ہے باقی وضو کرتے رہتے ہیں، ایک سیاسی بلکہ سنیاسی دانشور کے مطابق تو تھا جس کا انتظار وہ شاہکار آ گیا، ہماری 70سالہ تاریخ یوں تو شاہکاروں سے بھری پڑی ہے، مگر ہر ایک وکھری ٹائپ کا ہے، نہیں بدلتے تو عوام نہیں بدلتے کیونکہ وہ شاہکار نہیں، بیروزگار ہیں کیونکہ بیکار ہیں بس انہیں شاہکار جمع کرنے کا شوق ہے، بعض اوقات بندہ 100رکعت میں جنت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر 100رکعت پڑھنے کی سکت نہیں رکھتا ایسے میں ہمیں نیت پر گزارہ کرنا پڑتا ہے۔

٭٭٭٭

ریلوے اجلاس کی کہانی افسروں کی زبانی

حکم حاکم مرگ مفاجات ہوتا ہے اس لئے تعمیل کے سوا چارا نہیں ہوتا، ورنہ حضرت شیخ ریلویز کے تو ہرگز طلب گار نہ تھے، اب اگر یہ ’’ہنڈی ہنڈائی‘‘ وزارت مل ہی گئی ہے تو ٹلی بجاتے رہیں گے تاکہ پتہ چلے کہ محکمہ چل رہا ہے۔ شیخ صاحب ہنسنے ہنسانے والے انسان ہیں ریلوے افسران بلاوجہ ان کی ڈانٹ ڈپٹ سے تنگ آ گئے اور کہہ دیا کہ ٹرینیں چلیں گی ہم نہیں چل سکتے اور ایک بڑے ریلوے بیورو کریٹ تو 2 سال کی چھٹی پر چلے گئے شاید انہیں اندازہ ہو گیا ہو کہ 2سال بعد تحریک رہے گی یا انصاف، بہرحال ہم اتنا جانتے ہیں کہ شیخ رشیدوفاقی وزیر ریلوے کہیں کا غصہ کہیں نکال گئے، یہ غصے یوں ہی نکلتے رہیں گے، مگر وزیراعظم پاکستان کا پروگرام نہیں رکے گا، انہوں نے اس ناقابل اصلاح ملک کی اصلاح کے لئے اللہ سے وزارت عظمیٰ مانگی تھی، وہ مل گئی، اب اللہ بھی مانیٹر کرے گا کہ اس کی نعمت کو کیسے استعمال کیا، اصلاح ہوئی کہ صلاح مشورہ ہی کرتے رہے، ورنہ ممنون حسین جہاں بھی ہوں گے نوشتہ آسمان پڑھ کر سنا دیں گے، ہم خبر تو بھول ہی گئے کہ شیخ رشید ریلوے اجلاس کی کہانی باہر آنے پر افسران پر برس پڑے، ریلوے افسران کو چاہئے تھا کہ براہ راست ان کی تعریف کرتے اپنے افسروں کی تعریف پر مبنی رضیہ بٹ کا ناول نہ سناتے، پہلا اجلاس ہی باہر آ گیا تو یہ اچھا شگون ہے شیخ صاحب اندر کب تھے کہ اندر کی باتیں باہر آتیں، خواجہ سعد رفیق کی ایک بات تو شیخ صاحب کو بھی تسلیم کرنا ہو گی کہ انہوں نے ریلوے میں بڑی جان ماری، ورنہ بطور صاحب تو اسے بلوری بنا کر چلے گئے تھے، اب تک حالت یہ ہے کہ؎

ریلوے کی خاک میں شعلہ ہے نہ چنگاری

عمران خان سے وفاداری کا صلہ مل تو گیا ہے مزید تو اب ان کے لئے ’’سُلا‘‘ ہی رہ گئی ہے۔

٭٭٭٭

ریلوے کے 120دن

....Oدہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کامیابی کے معترف جان مکین چل بسے۔

اسی لئے تو چل بسے۔

....Oمہاتیر محمد:ٹرمپ کا بحیثیت امریکی صدر دوبارہ انتخاب مشکل ہے۔

آپ کے منہ میں گھی شکر۔

....O جواد ظریف:امریکا ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ چھیڑ رہا ہے۔

نفسیاتی مریض ایسا ہی کرتے ہیں۔

....Oشیخ رشید120:دن میں ریلوے کو اپنے پائوں پر کھڑا کر دیں گے۔

کیا اس کے پہیئے کوئی اتار کر لے گیا ہے؟ ہم شیخ صاحب کے ساتھ ہیں، وہ ٹرینوں کو ایسا بنا دیں کہ ٹکٹ بس سے کم اور مزا جہاز کا۔

....Oپرویز الٰہی:موجودہ حکومت سانحہ ماڈل ٹائون کے قاتلوں کا حساب ضرور لے گی۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی کی پہلی رولنگ حق بات سے شروع ہوئی، خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ مظلوم کی آہ بے اثر نہیں ہوتی۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں