44 سال بعد ایشین گیمز میں پاکستانی فٹ بال کی عمدہ کارکردگی

August 28, 2018
 

تین سال بعد پاکستان فٹ بال کی ایشین گیمز کے ساتھ عالمی فٹ بال میں واپسی خوشگوار قرار دی جارہی ہے۔ قومی ٹیم نے تین میچز میں سے صرف ایک میں کامیابی حاصل کی۔ یہ کامیابی اس حوالے سے یادگار ہے کہ اگر قومی ٹیم کا گول ایوریج بہتر ہوتا تو یہ ناک آئوٹ مرحلے میں پہنچنے میں کامیاب ہوجاتی لیکن بدقسمتی سے یو اے ای نے بہتر گول اوسط ہونے پر پاکستان کو ایونٹ سے آئوٹ کیا۔ گیمز میں 25ٹیموں نے شرکت کی اور رولز کے مطابق چھ گروپس میں سے 16 ٹیموں کو ناک آئوٹ مرحلے کیلئے کوالیفائی کرنا تھا۔ چھ گروپ سے دو ٹاپ ٹیمیں یعنی 12 ٹیمیں براہ راست ناک آئوٹ مرحلے میں پہنچیں اور ناک آئوٹ مرحلے کیلئے اگلی چار ٹیموں کا فیصلہ گروپ میں تیسری بہترین پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں میں سے ہونا تھا۔ تیسری پوزیشن پر جگہ بنانے کیلئے پاکستانی ٹیم بھی ناک آئوٹ مرحلے کیلئے امیدوار تھی لیکن لیگ کے آخری میچ میں متحدہ عرب امارات نے گول کے فرق سے پاکستان پر برتری حاصل کرتے ہوئے ناک آئوٹ مرحلے میں جگہ بنائی اور پاکستان ناک آئوٹ مرحلے میں پہنچنے سے محروم ہوا۔ پاکستانی ٹیم نے تین میچز میں تین پوائنٹس حاصل کئے۔ اس نے دو گول کئے اور آٹھ گول کھائے اس کا گولز کا فرق مائنس سکس رہا جبکہ یو اے ای کی ٹیم نے بھی دو میچوں میں شکست کھائی اور ایک جیتا اور تین پوائنٹس حاصل کئے۔ اس نے پانچ گول کئے اور چار گول کھائے اس کا گول کا فرق پلس ون رہا۔

پاکستانی ٹیم ایشین گیمز فٹ بال ایونٹ کے گروپ ڈی میں شامل تھی جس میں دیگر تین ٹیموں میں ویتنام، جاپان اور نیپال شامل تھیں۔ صدام حسین کی کپتانی میں تین سال بعد پہلے انٹرنیشنل ایونٹ کے پہلے میچ میں عالمی نمبر 102 ویت نام نے 201 نمبر پاکستان کو باسانی 3-0 کی شکست دی۔ میچ کا پہلا گول ویتنام مڈفیلڈر این گوئن کوانگ ہے نے کیا۔ پہلے ہاف کے اختتام سے قبل ویتنام کا دوسرا گول کپتان این گوئن وائن کوئٹ نے کرکے اپنی ٹیم کو 2-0 کی برتری دلا دی۔ پہلے ہاف کے اختتام پر ویتنام کو 2-0 کی برتری حاصل تھی۔ دوسرے ہاف میں بھی ویتنام کی ٹیم کھیل پر چھائی رہی اور کونگ پھونگ نے کرکے ٹیم کو 3-0 کی فتح دلائی جبکہ جاپان کے خلاف کھیلے گئے دوسرے میچ میں پاکستانی ٹیم کی کارکرگی پہلے میچ سے بھی زیادہ گئی گزری رہی جس میں جاپان نے پاکستان کو 4-0 سے زیر کیا۔ گروپ کے آخری میچ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی متاثر کن رہی جس میں اسٹرائیکر محمد بلال اور کپتان صدام حسین کی شاندار کارکردگی رہی۔ ان کے علاوہ دیگر کھلاڑیوں نے بھی کامیابی میں اپنا کردار ادا کیا۔ اس میچ میں پاکستان نے نیپال کو 2-1 کی شکست دیکر 44 سال بعد ایشین گیمز میں پہلی کامیابی سمیٹی اور ناک آئوٹ مرحلے میں کھیلنے کی موہوم سی امید پیدا کرلی تھی۔ فیفا رینکنگ میں 161 نمبر پر موجودنیپالی ٹیم کے خلاف پاکستان کی کارکردگی عمدہ رہی۔ بیسکاکی کے پیٹریاٹ فٹ بال اسٹیڈیم میں پاکستان اور نیپال کے درمیان کھیلے گئے میچ کا آغاز سنسنی خیز تھا۔ کھیل کے 12ویں منٹ میں پاکستان کے شہباز یونس نے اون گول کر کے نیپال کو برتری دلائی۔ گول کو برابر کرنے کیلئے پاکستانی کھلاڑیوں ہرممکن کوشش کی لیکن پہلے ہاف کے اختتام پر نیپال کو 1-0 کی برتری حاصل رہی۔ دوسرے ہاف کے آغاز سے ہی پاکستانی ٹیم نے مخالف ٹیم پر حملے کئے۔ بالاخر 54ویں منٹ میں پاکستان کے اسٹرائیکر محمد بلال نے خوبصورت گول کر کے مقابلہ ایک ایک سے برابر کر دیا۔ 72ویں منٹ میں پاکستانی کپتان صدام حسین نے پنالٹی کک پر گول کر کے اپنی ٹیم کی 2-1 کردی جو کھیل کے اختتام تک برقرار رہی۔ ایشین گیمز میں شرکت کے بعد وطن لوٹنے پر قومی فٹ بال ٹیم کا شاندار استقبال کیا گیا۔ لاہور ائیرپورٹ پر پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری لیفٹیننٹ کرنل (ر) احمد یار خان لودھی، جہانگیر خان لودھی، میاں رضوان علی اور دیگر موجود تھے۔

پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ فیصل صالح حیات ایشین گیمز میں ٹیم کی کارکردگی پر مطمئن ہیں ان کا کہنا ہے کہ پاکستان فٹ بال کی تین سالہ تباہی کے باوجود قومی ٹیم نے ایشین گیمز میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ تین سال قبل ہماری رینکنگ164 تھی لیکن اس وقت فٹ بال کھیلنے والے ممالک میں ہماری رینکنگ 200 سے بھی نیچے چلی گئی ہے۔ اس کے باوجود ٹیم میں منتخب کئے گئے باصلاحیت کھلاڑیوں نے ایشین گیمز میں جو کارکردگی دکھلائی ہے اس پر میں فخر کرتا ہوں میں ان کی کارکردگی سے مکمل طور پر مطمئن ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھاکہ ٹیم نے44 سال کامیابی حاصل کرکے ایشین گیمز کا ریکارڈ بھی بنایا ہے۔ یہ کامیابی ٹیم اجتماعی کارکردگی کا حصہ ہے۔ تین سال بعد پاکستان نے کسی انٹرنیشنل ایونٹ میں حصہ لیا ہے۔ اتنے بڑے عرصے بعد کسی بھی ایونٹ میں حصہ لینے والی دنیا کی بڑی بڑی ٹیمیں شکست کھا جاتی ہیں لیکن ہماری ٹیم نے دو میچز کے بعد ہی بڑی اور ریکارڈ ساز کامیابی حاصل کرکے اس بات کا نشاندہی کردی ہے کہ ٹیم میں باصلاحیت کھلاڑیوں کو ہی میرٹ کے ذریعے منتخب کیا گیا۔ انہوں نے تاریخی کامیابی پر کھلاڑیوں، ٹیم کوچز اور تمام پاکستانی قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے مستقبل میں کھلاڑیوں کی ٹریننگ کے لئے تمام ممکنہ وسائل مہیا کرنے کی یقین دہائی کرائی۔ صدر پی ایف ایف کوچز کو مبارکباد دی اور ہیڈ کوچ جوز نوگیرا کی کارکردگی کو بھی سراہا اور اگلا ہدف اگلے ماہ منعقد ہونے والی ساف چمپئین کو قرار دیا۔


مکمل خبر پڑھیں