اُردو کی اُستانی، مِس فائزہ

September 02, 2018
 

ملیح رنگت، درمیانہ قد کاٹھ، بولتی آنکھیں، سنجیدگی اور وقار کی بُکّل مارے، نَپے تُلے لفظوں میں گفتگو کرتی، ذہین، باصلاحیت، پہلی ہی نظر میں متاثر کر دینے والی شخصیت… یہ ہیں ہماری اُردو کی استانی، مس فائزہ۔ اتنی شُستہ اُردو بولتی ہیں کہ اگر اُنھیں’’ لکھنؤ کی شہہ زادی‘‘ کہا جائے، تو مبالغہ نہ ہوگا۔ اہلِ نظر ہیں، تبھی طالبات کی اُن چُھپی صلاحیتوں کو بھی پہچان لیتی ہیں، جن سے وہ خود بھی ناواقف ہوں۔ ان کی باتیں تاحیات ہماری رہنمائی کرتی رہیں گی۔ وہ کہتی ہیں’’ کھڑکیاں اور دروازے ہمیشہ کُھلے رکھیں، کیوں کہ اندھیروں میں رہنے والے مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نیز، اساتذہ اور والدین کی ڈانٹ کو اپنی بے عزّتی نہ سمجھیں، اگر ان کی باتوں کا بُرا منائیں گے، تو اُن سے دُور ہوجائیں گے۔‘‘

وہ ان خُوب صورت لوگوں میں سے ہیں، جن کی معتدل مزاجی، طبیعت کا ٹھہراؤ، انھیں سیکڑوں لوگوں میں بھی نمایاں کر دیتا ہے۔ اپنے پُرسکون، ٹھہرے ہوئے لہجے، محتاط اندازِ گفتگو اور طالبات کے ساتھ محبّت بَھرے برتاؤ کے سبب ڈھیروں اساتذہ میں ممتاز و منفرد نظر آتی ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ سب طالبات بھی ان سے دلی لگاؤ رکھتی ہیں۔ ہمیں کالج میں پیش آنے والے چھوٹے بڑے مسائل کا پہلا اور آخری حل وہی نظر آتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں’’ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم لوگوں کو اُن کی زندگی میں صلے، ستائش یا تعریف وتوصیف سے نہیں نوازتے، اُن کی خامیوں کو مدّنظر رکھ کر طنز کے تیر چلاتے ہیںاور جب وہ منوں مٹّی تَلے چلے جاتے ہیں اور ان چیزوں سے بے نیاز ہو جاتے ہیں، تو اُن کی تعریفوں میں زمین و آسمان ایک کرتے رہتے ہیں۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں۔‘‘ ان کی بات سُن کر مجھے لگا کہ ہم ان کے لیے اپنے دل میں جو احساسات رکھتے ہیں، اُنھوں نے ہمارے لیے جو کچھ کیا، جس طرح زندگی کی اونچ نیچ سِکھائی، تو ہمیں بھی اُنھیں خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے۔سو، یہ ایک چھوٹا سا نذرانۂ محبّت، اُس شخصیت کے نام، جو اپنی زندگی کا قیمتی وقت، ہمارے اندر وقت کے بیش قیمت ہونے کا احساس جگانے میں صَرف کرتی ہیں۔ امکان غالب تو یہی ہے کہ آپ بھی مجھے یاد رکھیںگی، مگر اس بات پر تو مُہر ثبت ہے کہ آپ اپنی سحر انگیز شخصیت کے ساتھ ،مجھے ہمیشہ یاد رہیں گی۔

( امامہ بنت محمّد اسلم، گورنمنٹ گرلز کالج، جھڈو)


مکمل خبر پڑھیں