آسٹریلوی کرکٹرز فکسنگ کے نئے الزامات میں کیسے پھنسے؟

August 28, 2018
 

آسٹریلین کرکٹرزکے ایک مرتبہ پھر میچ فکسنگ میں ملوث ہونےکی ویڈیو سامنے آنےپر عالمی کرکٹ میں ایک نئی ہلچل مچ گئی ہے۔

قطری ٹی وی نے فکسنگ کے حوالے سے دستاویزی فلم کا ابتدائی حصہ جاری کردیا ہے،جس میں دعویٰ کیا گیا کہ2016 ءمیں چنئی میں بھارت اور انگلینڈ کے درمیان کھیلا گیا ٹیسٹ میچ اور رانچی میں 2017 ءمیں آسٹریلیا اور بھارت کا ٹیسٹ فکس تھا۔

ویڈیو میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ بھارت کے خلاف 3ٹیسٹ میچز کے مختلف سیشنز فکس تھے، فلم میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ3 انگلش اور2 آسٹریلین کرکٹر فکسنگ میں ملوث تھے۔

قطر ٹی وی کی دستاویزی فلم میں سری لنکا میں کھیلے گئے میچوں میں پچ فکسنگ کا بھی انکشاف سامنے آیا ہے ،جسے انگلش اور آسٹریلوی کرکٹ حکام نے مسترد کردیا ،لیکن آئی سی سی نے عرب ٹی وی سے ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیاہے۔

اب اس فلم کا دوسرا حصہ بھی جاری ہوا ہے، جس میں سابق اور موجودہ آسٹریلوی کرکٹرز پر میچ فکسنگ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اس میںایک بھارتی فکسنگ آرگنائزر انیل منور اور مبینہ بکی کے درمیان اسپاٹ فکسنگ کے انتظامات سے متعلق گفتگو دکھائی گئی، جس میں بکی نے بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان 2011 میں کھیلے گئے رانچی ٹیسٹ میچ سے پہلے ہی میچ کی تفصیلات بتادی تھیں۔

دوسری جانب کرکٹ آسٹریلیا نے تصدیق کی ہے کہ الزامات کا تعلق 2011 میں کھیلے گئے تاریخی میچز سے ہے، جہاں اس سال آسٹریلیا نے عالمی کپ میں شرکت کرنے کے ساتھ ساتھ ایشز سیریز میں شرکت کی ساتھ ہی سری لنکا، جنوبی افریقہ اور بنگلہ دیش کے دوطرفہ دورے کیے اور پھر نیوزی لینڈ اور بھارت دوروںکی اپنی سرزمین پر میزبانی کی تھی۔

کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو جیمز سدرلینڈ کا کہنا ہے کہ ان الزامات کے حوالے سے پہلے ہی تحقیقات کی جا چکی ہیں، ہم یہ بات واضح کردینا چاہتے ہیں کہ اگر کوئی بھی شخص یا ادارہ کھیل کی ساکھ یا شفافیت کو خراب کرنے کی کوشش کرے گا تو کرکٹ آسٹریلیا اور آئی سی سی اسے ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔

فلم کے پہلے حصہ منظر عام پر آنے کے بعد آئی سی سی نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ دستاویزی فلم میں دکھائے گئے ایک مبینہ میچ فکسر کی نشاندہی کرنے میں مدد کریں، اس شخص کے علاوہ تمام افراد کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔


مکمل خبر پڑھیں