عالمی تعمیرات میں ٹیکنالوجی کا رحجان

September 02, 2018
 

مستقبل میں تعمیراتی صنعت جن انقلابات سے دوچار ہونے جارہی ہے ان کے اثرات ہمارے ہاں بھی مرتب ہورہے ہیں۔تھری ڈی پرنٹر سے 24گھنٹے میں مکمل گھر کی تیاری سے لیکر مکمل پروجیکٹ کی قبل از تعمیر کا مکمل سانچہ ورچوئل ریئلٹی کے ذریعے ملاحظہ کرنے اور گوگل نقشوں سمیت رہائشی زمینوں کی ڈیجیٹل دستاویز سازی تک کئی نئے تعمیراتی رجحان پاکستان کی تعمیراتی صنعت میں نمایا ہورہے ہیں جب کہ عالمی تعمیراتی صنعت درج ذیل انقلابات سے ہم کنار ہورہی ہے اور تیز تر معلومات کے اس دور میں اختراعات و ایجادات میں پاکستان بھی کسی سے پیچھے نہیں۔آئیے ایک نظر تعمیرات میں ٹیکنالوجی کے عالمی رجحانات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

انٹرنیٹ آف تھنگز

انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT)، مختصراًانٹرنیٹ کو فزیکل ڈیوائسز کا ایسا نیٹ ورک جانیے جو سینسرز اور نیٹ ورک سے منسلک ہوکر ڈیٹا یعنی مواد اور متن کا مختلف آلات کے ذریعے تبادلہ کرتا ہے۔ یہ متن اور مواد تجزیہ کرکے مستقبل کے فیصلوں کو آسان بناتاہے۔تعمیرات میں انٹرنیٹ آف تھنگز کا استعمال کئی طریقوں سے ہورہاہے۔مثلاًدور دراز علاقوں میں کاموں کی سرگرمی اور جائزہ،سپلائی مہیا کرنا،تعمیراتی ٹول ٹریکنگ،اِن ایکوپمنٹ خدمات اور مرمت۔ مستقبل میں ہم تمام عمارتوں کی تعمیرات اور ڈیزائن اور انفرااسٹرکچر کو زیادہ موثر انداز میں بنانے پر قادر ہوں گے،جس سےزیادہ فعال اور ذمہ دار شہروں کی تعمیر ممکن ہوگی۔اس سے تحفظِ ماحولیات میں بھی بہتری آئے گی جس سے لوگوں کا طرزِ زندگی بہترہوگا۔

پیش گویانہ منطقی تجزیہ و تحلیل

کامیاب کمپنی اور جدوجہد کرنے والی کمپنی کے مابین عمومی فرق نقصان اور خسارے پر قابو پانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔پیش گویانہ منطقی تجزیہ و تحلیل دراصل رسک مینجمنٹ کو زیادہ آسان انداز میں سنبھالنے پر مبنی ہے، جو کسی بھی کمپنی کو ڈوبنے سے بچانے میں ممد و معاون ہوتی ہے۔ایسی سافٹ ویئرٹیکنالوجی ذیلی ٹھیکیداروں،مٹیریل سپلائرز،ڈیزائن منصوبوں اور بذاتِ خودتعمیراتی جگہ سے مواد اکٹھا کرکےان اسباب و وجوہ کا پتہ چلاتی اور معائنہ کرتی ہے،جو خسارے کا موجب بنتی ہیں تاکہ مستقبل میںمزید نقصان سے بچا جاسکے۔مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی نقصان کے سدِ باب میں بھی کارآمد ہوگی۔

مشینی قابلیت و استعداد

مشین لرننگ ٹیکنالوجی اس بات کو ازسرنو وضع کرے گی کہ مستقبل قریب میں کام کیسے کیا جائے! یہ کام کرنے کے تصور کو مکمل تبدیل کرکے رکھ دے گی۔یہ ٹیکنالوجیزتعمیراتی کمپنیوں کوزیادہ محفوظ اور فعال انداز میں کام کرنے کی سہولت مہیا کرنے کے ساتھ خودکار انداز میں کام کو بڑھاتے ہوئے آلات میں بھی کمی لائیں گی۔جو تعمیراتی کمپنیاں مرکزی دھارے میں آنا چاہتی ہیںاور اپنے کام کو اوجِ کمال تک لانا چاہتی ہیں وہ تیزی سےمصنوعی ذہانت پر مبنی سلوشنز اورپروگرامز کو اپنا رہی ہیں۔مثال کے طور پرمشین لرننگ ٹیکنالوجی پروگراموں کی نئی نسل کو طاقتور بنارہی ہیں، جن سےکمپنیاں ریئل ٹائم میںکسی بھی تعمیراتی سائٹ پر بھاری ساز و سامان کی مسلسل نگرانی بآسانی کرسکیں گی اور کسی بھی ناگہانی صورتحال پر بروقت قابو پاسکیں گی۔ اس سے مزدوروں اور آلات کی بہتر حفاظت ممکن ہوجائے گی۔

اینٹیں اٹھانے والے روبوٹ

مشینی مزدور یعنی روبوٹس محنت کش انسانوں کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ اینٹوں کا بوجھ اٹھا کر تعمیراتی مقام تک لانے کے اہل ہوں گے۔ نیویارک سے تعلق رکھنے والی فرم کنسٹرکشن روبوٹکس نے سام نامی روبوٹ تیار کر لیاہے جو روزانہ 3000 اینٹیں اٹھاکر تعمیراتی جگہ پر پہنچانے کے قابل ہے جب کہ عام مزدور اسطاً روزانہ500اینٹیں اٹھاتے ہیں۔ سام روبوٹ بنانے کا مقصد کام کو زیادہ اسمارٹ بنانا ہے، جس سے افرادی قوت اور اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔

دھوپ کی تپش اور حرارت کم کرنے والی چھتیں

ماحول دوست عمارات کی بڑھتی طلب کو دیکھتے ہوئے دھوپ کی شدت و تپش سے بچانے والے ٹائلزاور روف پینلز کا رجحان بڑھ رہا ہے۔میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنس دانوں نے چھتوں کے لیے اسمارٹ مٹیریل ایجاد کیا ہے جو ماحول دوست ڈیزائن کو نیا تھرمل مینجمنٹ اندازِ نظر مہیا کررہا ہے۔ان کا تھرمیلیون مٹیریل پرتوں پر مبنی ہے جو گرمائش بڑھنے سے اپنا رنگ سیاہ سے سفید میں تبدیل کرتا ہے۔جب سورج سوانیزے پر ہوتا ہے توبلیک روف ٹائٹلز اپنا رنگ سفید میں تبدیل کرکے 80 فیصد شعاعوں کو جذب کرکے کمرے کو ٹھنڈا رکھتی ہیں۔اس طرح لاگت میں20فیصد کمی آتی ہے اور گرمیوں میںکمرہ ٹھنڈا ہونے سے بجلی کی کھپت بھی کم ہوتی ہے۔

ایئروجیل انسولیشن

ہر چندجیل کو روایتی طور پر نم مادہ مانا جاتا ہے،لیکن ایئروجیل کو نمی کے تمام اثرات ختم کرکے بنا کر سلیکا اسٹرکچر بنایا گیا ہے۔ان غیر معمولی خوبیوں کی وجہ سے عمارات میں اس کے استعمال کی99فیصد راہیں ہموار ہوگئی ہیں۔اس کا سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ یہ موصلیت کی بہترین صلاحیتوں کا حامل ہے، اندرونی دروازوں کی گرمائش میں کمی سے توانائی و لاگت بچے گی۔سب سے بڑھ کر یہ ماحول دوست ہے اور اسے دوبارہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

دیرپا کنکریٹ

کنکریٹ بہترین بلڈنگ مٹیریل ہے لیکن وقت کے ساتھ یہ بوسیدہ ہوجاتا ہےاور جیسے جیسے مزید وقت گزرتا ہے یہ خشک ہوجاتا ہے، اس میں دراڑیں پڑجاتی ہیں اور کمزور ہوکر بالآخر اکھڑکر گرجاتاہے۔امریکی یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے تحقیق کاروں نے تحقیق کے دوران پتہ چلایا ہے کہ اگر تعمیراتی مرحلے کے دوران کنکریٹ میں کائی کی مناسب مقدار ڈالی جائے تو کنکریٹ اسٹرکچرز کی مدتِ حیات میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے،تاہم وہ وقت دور نہیں،جب کنکریٹ اپنے زخموں کا علاج خود کرے گا،جس سے انتہائی پائیدار عمارتوں کا زریں دور شروع ہوگا۔


مکمل خبر پڑھیں