اصل کہانی یہ ہے!

September 02, 2018
 

کوئی جو بھی کہہ رہا ہے کہتا رہے درویش تو علت، قلت اور ذلت کے لئے تیار رہتے ہیں، اپنی عادتوں پر شرمندہ، کم کھانے پر آمادہ اوراپنے گناہ جھڑوانے کے لئے بدنامی اور ذلت پر بھی تیار۔ سچ یہ ہے کہ پاک پتن کے ڈی پی او کے تبادلے میں نہ قصور عمران خان کا ہے اور نہ ہی بشریٰ عمران کا۔ اصل حقیقت، سنی سنائی کہانیوں سے قطعاً مختلف ہے۔ بشریٰ عمران اوران کے سابق خاوند خاور فرید مانیکا میں سخت لڑائی اور کشمکش جاری ہے۔ خاور فرید گریڈ 21کے ملازم، علاقے کے بڑے زمیندار اور پھر دربار فریدیہ سے وابستگی کے سبب اپنا ایک مزاج اور مقام رکھتے ہیں۔ کہنے کوتو خاور فرید اور بشریٰ بی بی کی علیحدگی اور طلاق ہنسی خوشی اور مرضی سے ہوئی،مگر حقیقت میں کیاطلاق بھی کبھی ہنسی خوشی ہوتی ہے؟سچ یہ ہے کہ دونوں میں مزاج کا اختلاف بڑھ چکا تھا، خاورفرید سرکاری ملازم ہونے کے ناطے پہلے صرف شام ہی کو گھر آیا کرتے تھے۔ نوکری کے اوقات کار میں نرمی ہوئی تو زیادہ وقت گھر گزرنے لگا۔ مزاجوں کا تفاوت بڑھنے لگا۔ آئے دن لڑائی اور اختلاف ہونے لگا۔ دونوں نے کوشش کی کہ کسی طرح اس رشتے کو نبھایا جائے، 5بچے، ساری عمر کا ساتھ، ایک دوسرے کا احترام سب موجود تھا۔ قریبی دوستوں نے مشورہ دیا کہ ہر وقت اکٹھے نہ رہیں، ہفتے میں صرف ایک دن کے لئے اکٹھے ہوں۔ خاور اسلام آباد آئیں تو بشریٰ بی بی لاہور رہ لیں۔ مگر یہ بندوبست بھی نہ چل سکا، تعلقات کے شیشے میں بال آجائے تو پھر یہ جڑتے نہیں ٹوٹ کر ہی رہتے ہیں، یہی کچھ خاور فرید مانیکا اور بشریٰ بی بی کے ساتھ ہوا۔ بشریٰ بی بی کے بشریٰ عمران بننے کے بعد بھی تعلقات کی خرابی ختم نہ ہوئی بلکہ ایک دوسرے کے خلاف شکوک و شبہات بڑھنے لگے۔ الیکشن 2018ء کا ڈول ڈالا چکا تھا۔ خاور فرید مانیکا کے بھائی ن لیگ سے الیکشن لڑ رہے تھے یوں وہ بھی بشریٰ بی بی سے اپنی ناراضی کا اظہار کھلے عام کرتے تھے اسی لئے جب خاور فرید مانیکا کی بیٹی کو پہلے واقعے میں 5اگست کو پولیس نے روکا، بیٹے ابراہیم سے پولیس کی تلخ کلامی ہوئی۔ بیٹی مبشرہ مانیکا کو بازو سے پکڑ کر کھینچا گیا۔ ابراہیم نے والد کو فون کردیا اور خاور فرید مانیکا خود وہاں پہنچ گئے اور بچوں کو وہاں سے گھر لے گئے۔ حکومت پنجاب کی طرف سے کی گئی انکوائری میں ابراہیم مانیکا کا یہ بیان درج ہے کہ وہ اور اس کی بہن مبشرہ مانیکا پیر غنی اسٹیٹ سے ننگے پائوں بابا فرید کے مزار پر حاضری کے لئے جارہے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔ خاور فرید کا پہلا شک بشریٰ بی بی کی طرف گیا اور انہوں نے اپنے مشترکہ دوستوں کے ذریعے بشریٰ بی بی کو یہ کہلوایا کہ ہمیں سب علم ہے، پولیس سب کچھ آپ ہی کے ایماء پر کررہی ہے۔ بیٹی مبشرہ مانیکا اور بیٹا ابراہیم مانیکا ماں بشریٰ بی بی سے ناراض ہوگئے اور بول چال تک بند کردی۔ دوسری طرف بشریٰ بی بی کا خیال تھا کہ خاور کے بھائی، ماں، بچوں کو آپس میں لڑانے کے لئے یہ سب کچھ کررہے ہیں۔ خاور فرید مانیکا نے اپنے اسی شک کا اظہار ڈی پی او سے بھی کیا اور بار بار کہا کہ آپ مجھے بتائیں کہ آپ کے پیچھے کون ہے، یہ کروا کون رہا ہے؟ ڈی پی او کیا کہتا ایسا کچھ تھا ہی نہیں۔ پولیس والوں کو ایک بار آپ ڈانٹیں تو یہ آپ کے پیچھے پڑ جاتے ہیں، اونچا بولیں تو وہ دل میں ٹھان لیتے ہیں کہ بدلہ کیسے لیں۔ خاور فرید یہ نفسیات نہ سمجھ سکے وہ سمجھے کہ یہ سب کچھ ان کی سابقہ بیوی کروا رہی ہے جبکہ دوسری طرف ان کی سابقہ بیوی بشریٰ بی بی یہ سمجھ رہی تھیں کہ خاور کے بھائی یہ سب کچھ کروا رہے ہیں۔

ابھی یہ معاملہ ٹھنڈا نہ ہوا تھا کہ مانیکا خاندان کو 23اگست 2018ء کی رات دوسرا واقعہ پیش آگیا۔ خاور فرید مانیکا نے دوسری شادی رچائی تھی اور وہ نئی دلہن، ملازمائوں اور گارڈ کے ہمراہ پیر غنی اسٹیٹ جارہے تھے۔ ایڈیشنل آئی جی ابوبکر خدا بخش کی انکوائری رپورٹ کے مطابق ناکے پر انہیں رکنے کا اشارہ کیا وہ نہ رکے جبکہ خاور فرید مانیکا نے اپنے بیان میں بتایا کہ انہیں نہ تو کوئی ناکہ نظر آیا اور نہ ہی کوئی سرخ روشنی۔ ناکے پر موجود پولیس نے خاور فرید مانیکا کی دوگاڑیوں کا پیچھا کیا اور آگے جا کر انہیں روک لیا۔ خاور فرید مانیکا نے باہر نکل کر پولیس کو اپنا تعارف کروایا۔ پولیس پارٹی نے اصرار کیا کہ وہ گاڑی کے اندر سے تلاشی لینا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں شک ہے کہ آپ کے مسلح گارڈز کے پاس ناجائز اسلحہ ہے۔ خاور فرید مانیکا نے اسی وقت ڈی پی اورضوان عمر گوندل کو فون کیا اور بتایا کہ وہ کس صورتحال میں گرفتار ہیں۔ ڈی پی او نے متعلقہ پولیس کو حکم دیا کہ انہیں جانے دیا جائے۔ یوں مانیکا صاحب اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ وہاں سے نکل تو آئے لیکن انہیں غصہ بہت تھا۔ پہلا خیال جو ان کے ذہن میں آیا وہ یہی تھا کہ بار بار ہونے والے واقعات کے پیچھے کوئی نہ کوئی سازش ہے، پولیس کسی نہ کسی کے کہنے پر ایسا کررہی ہے اسی خیال کے مطابق ان کے ذہن میں اپنی پہلی بیوی بشریٰ بی بی آئیں جوفرسٹ لیڈی ہیں اور وہ انتقاماً سب کچھ کروا رہی ہیں۔

دوسری طرف بشریٰ عمران کا خیال تھا کہ پاک پتن میں جو کچھ ہورہا ہے یہ خاور فرید کے بھائی کروا رہے ہیں۔ بہرحال دوسرے واقعے کے بعد خاور فرید مانیکا نے اپنے اور سابقہ بیوی بشریٰ کے فیملی فرینڈز احسن جمیل اقبال اور ان کی اہلیہ فرح خان کے ذریعے پیغام دیا کہ پولیس یکے بعد دیگرے ایسے اقدامات بشریٰ عمران کے کہنے پر کررہی ہے وگرنہ ایسے کس طرح ممکن ہے۔ احسن جمیل اقبال اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے عقیدت مند بھی ہیں اور مداح بھی۔ وہ یہ گواہی بھی دیتے ہیں کہ بشریٰ بی بی مذہبی عقائد پر سختی سے عمل کرتی ہیں، ان کے گھر میں کسی شراب نوش کا داخلہ تک ممنوع ہے، بزرگان دین سے انہیں بے حد عقیدت ہے۔ خیر جب ایک دوسرے پر شک اور الزامات کا سلسلہ بڑھا تو احسن جمیل اقبال نے دونوں کو ٹھنڈا رکھا اور سمجھایا کہ یہ کوئی سازش نہیں ہے۔ پولیس والے کسی بات پر بھڑکے ہوئے ہیں۔ احسن جمیل ایک بار سردار عثمان بزدار سے بنی گالہ مل چکے تھے، دوسری بار بزدار صاحب کو بنی گالہ اندر جانے میں مدد کی تھی اس لئے احسن جمیل وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے پاس پہنچے اور انہیں ساری روئیداد سنائی۔ ایڈیشنل آئی جی ابوبکر خدا بخش کی انکوائری رپورٹ میں یہ لکھا گیا ہے کہ ڈی پی او پاک پتن رضوان عمر گوندل کو نہ تو آئی جی پنجاب اور نہ ہی کسی اور افسر نے کہا کہ وہ ڈیرے پر جا کر معافی مانگے، یہ تجویز وزیراعلیٰ ہائوس کی میٹنگ میں ضرور زیر بحث آئی تھی کہ خاور فرید مانیکا کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے رضوان عمر گوندل ان سے معذرت کرلیں یا ان کے بیٹے ابراہیم کو بلا کر انہیں صفائی پیش کردیں۔ ظاہر ہے اس کے بعد معاملہ پریس میں آگیا اور ڈی پی او پاک پتن کا تبادلہ بھی سیاسی رنگ اختیار کر گیا۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ عمران خان اور بشریٰ عمران دونوں کا اس سارے معاملے سے تعلق ہی نہ تھا۔ پولیس کے دو الگ الگ شعبوں یعنی ہائی وے پٹرولنگ پولیس اور ایلیٹ فورس نے اپنے اپنے طور پر مانیکا خاندان کو روکا۔ دونوں واقعات رات گئے پیش آئے جس وقت پولیس ہر ایک ہی کو مشکوک سمجھ کر روک لیتی ہے اور کوئی اگر آگے سے بول پڑے تو پولیس بھڑک کر بدتمیزی بھی کر ڈالتی ہے۔ آئے روز پنجاب میں یہی کچھ ہوتا ہے کچھ ایسا ہی پاک پتن میں بھی ہوا مگر ڈی پی او کے تبادلے نے بات کا بتنگڑ اس لئے بنا دیا کہ معاملہ وزیراعلیٰ پنجاب، فرسٹ لیڈی اور پھر اس کے سابقہ شوہر سے متعلق تھا۔

ظاہر ہے یہ پہلا ایسا واقعہ نہیں جس کا اسکینڈل بنا اور نہ ہی یہ ایسا آخری واقعہ ہوگا۔ اسکینڈل بنتے رہیں گے لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ ہم میں سے ہر کوئی بغیر تحقیق کئے اس پر تبصرہ نہ کرے، صرف ایک ذریعے سے سنی گئی کہانی کبھی مکمل نہیں ہوتی جب تک آپ دو تین ذرائع سے کسی اسکینڈل کے واقعات کی جانچ پڑتال نہ کرلیں اس پر خامہ فرسائی میں غلطی کا احتمال رہتا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میری معلومات بھی ناقص ہوں مگر میں اپنے طور پر ہر پہلو جاننے کی بھرپور کوشش ضرور کی ہے۔


مکمل خبر پڑھیں