دیوتا……

September 02, 2018
 

’’کس قدر خوب صورت مجسمہ ہے!‘‘

ڈوڈو کی آواز میں لرزش تھی۔

وہ پتھر کے بُت کے سامنے بُت بنا کھڑا تھا۔

میں نے پہلے اسے غور سے دیکھا۔

پھر مجسمے پر ایک نظر ڈالی۔

’’کیسا اعلیٰ فن پارہ ہے۔

کیسی عمدہ تخلیق ہے۔

آنکھیں، چہرہ، بازو، جسم،

بالکل یونانی دیوتا لگ رہا ہے۔‘‘

ڈوڈو کہتا چلا گیا۔

مجھے ہنسی آ گئی۔

’’ڈوڈو! کہیں تم اس کی پوجا نہ شروع کر دو۔

کہیں اسے بھگوان نہ مان لو۔‘‘

ڈوڈو نے فخر سے کہا،

’’ہاں تو کیوں نہ پوجا کروں اس کی؟

میں نے یہ بُت اپنے ہاتھوں سے تراشا ہے۔‘‘

(کہانی نویس کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں