’منزل بالی ووڈ نہیں انڈین سول سروس ہے‘

September 02, 2018
 

مس دیوایونیورس انڈیا 2018ءفاتح حسینہ نیہال شودا ساما نے کہا ہے کہ وہ بالی ووڈ نہیں بلکہ انڈین سول سروس جوائن کریں گی ۔

بھائی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں نیہال شودا ساما نے کہا کہ وہ عالمی مقابلہ حسن مس یونیورس 2018 میں شرکت کرنے کے بعد انڈین سول سروس میں ملازمت کے لیے تیاری کریں گی۔

ان کہنا تھا کہ میں انڈین سول سروس میں بھرتی ہونگی ،مقابلہ حسن کے بعد میرا یہی مقصد ہےاورماضی کی مس یونیورس کی طرح ان کا بالی ووڈ میں انٹری کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

انٹرویو میں ان سے سوال کیا گیا کہ 22 سالہ حسینہ کو فٹنس ، ایتھیلٹس، رقص اور کھانا پکانے میں دلچسپی ہے تو کیا انہوں نے ہمیشہ سے مقابلہ حسن میں حصہ لینے کا خواب دیکھا تھا؟

اس سوال کے جواب میں نیہال کا کہنا تھا کہ ’میرا تعلق ایک گجراتی خاندان سے ہے جہاں ماڈلنگ ایک عام بات نہیںاور میں اپنے خاندان کی پہلی لڑکی ہوں جو یہاں تک پہنچی ‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ میں نے یہاں تک پہنچنے میں بہت مشکلات دیکھیں کیونکہ جب میں 13 سال کی تھی تو میں نے اپنی ماں کو کھو دیا اور اپنے والد کو منانا میرے لیے ناممکن میں سے تھالیکن اب میں اس مقام پر ہوں تو وہ کافی حد تک راضی ہیں اور انہیں مجھ پر فخر ہے۔

نیہال شوداساما کس شخصیت سے متاثر ہوئیںکے سوال کے جواب میںانہوں نےکہا کہ گزشتہ سالوں میں منتخب ہونے والی نمائندگان بھی کسی نہ کسی سے متاثر تھیں لیکن میں اپنی استاد لارا دتہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوں اور 18 سال سے بھارت نے مس یونیورس کا اعزاز حاصل نہیں کیا اور میں یہ اعزاز جیتنا چاہتی ہوں۔

واضحرہے کہ بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے جمعہ31 اگست کو ممبئی میں ہونے والےایونٹ میں’نیہال شوداساما ‘کی فتح کا اعلان کیا اورسابقہ مس دیوا یونیورس انڈیا 2017 شردھا ششیدھر نے اپنا تاج نیہال کو پہنایا تاہم وہ رواں برس دسمبربنکاک میں منعقد ہونے والے مقابلہ حسن مس یونیورس 2018 میں بھارت کی نمائندگی کریں گی۔


مکمل خبر پڑھیں