صدارتی انتخاب 1973 سے2013 تک

September 04, 2018
 

ملک میں مجموعی طور پر تیرویں صدر کے انتخاب کےلیے پولنگ جاری ہے۔حکومتی جماعت پی ٹی آئی کے عارف علوی کے مدمقابل حزب اختلاف پی پی پی کے چوہدری اعتزاز احسن ،اور ن لیگ ایم ایم اے کے مشترکہ امیدوار مولانا فضل الرحمن موجود ہیں۔امید کی جارہی ہے کہ جس طرح گزشتہ تمام صدارتی انتخاب میںوفاق میں قائم حکومتی جماعتی حمایت یافتہ ہی امیدوار کامیاب رہا ہےنتائج اس بار بھی مختلف نہیں ہوں گے۔1973 کے آئین کے نفاذ کے بعد ہونے والے صدارتی انتخابات میں صورتحال کچھ یوںرہی۔

1973 کا صدارتی انتخاب

چار اگست 1973 کو الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ ارکان پارلیمنٹ 10اگست 1973 کو مشترکہ اجلاس میں پانچویں صدر کا انتخاب کریں گے۔پولنگ قومی اسمبلی کی عمارت میںصبح ساڑھے آٹھ سے ساڑھے بارہ بجے دن تک ہوگی۔سیکریٹر ی الیکشن کمیشن اسلم عبداللہ خان کو پریزائڈنگ افسر مقررکیا گیا ہے۔

سات اگست کو صدر پاکستان کے عہدے کے لیے تین امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کیے۔ تین امیدواروں کی طرف سےگیارہ کاغذات نامزدگی داخل کیے گئے۔ان میں چار کاغذات نامزدگی پی پی پی کے حمایت یافتہ اسپیکر قومی اسمبلی چوہدری فضل الہی اور چھ کاغذات نامزدگی حزب اختلاف متحدہ جمہوری محاز کے امیدوار امیرزادہ خان جن کا سیاسی تعلق نیشنل عوامی پارٹی سے تھا ان کے داخل کیے گئے۔ ایک امیدوار شیخ محمد سلیم سیٹھی تھے۔حکومتی اور حزب اختلاف کے امیدوار وں کے کاغذات نامزدگی منظور جبکہ نامکمل فارم بھرنے کے سبب شیخ محمد سلیم سیٹھی کے کاغذات نامزدگی مستردکردیے گئے تھے۔

دس اگست کو پیپلزپارٹی حکومت کے حمایت یافتہ چوہدری فضل الہی 1973 کے آئین کے تحت صدر منتخب ہوگئے انہوں نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے مجموعی طور پر 139ووٹ حاصل کیے جبکہ حزب اختلاف کے امیدوار امیرزادہ خان نے45ووٹ لینے میں کامیاب رہے ۔ووٹنگ خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوئی۔واضح رہے کہ ـصدارتی انتخاب کا کالج قومی اسمبلی کے 146 اور سینیٹ کے45ارکان پر مشتمل تھا۔ اس طرح کل ووٹوں کی تعداد191 ہوتی ہے۔تاہم صدارتی انتخاب میں 6ووٹر غیر حاضر رہے۔جبکہ ڈالے گئے185 میںسے ایک ووٹ مسترد کردیا گیا تھا۔جو ووٹرز غیرحاضر رہے ان میں جناب نورالامین،میاں ممتاز محمد خان دولتانہ،سردار شوکت حیات خان،عبدالخالق خان،میر دریاخان کھوسو اورنواب خیر بخش مری شامل تھے۔

چار دن بعد 14اگست کو نومنتخب صدر فضل الہٰی چوہدری اور وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو سے چیف جسٹس پاکستان حمود الرحمن نے1973 کے آئین کے تحت ملکی تاریخ میںپہلی مرتبہ حلف لیا تھا۔

1988 کا صدارتی انتخاب

اٹھائیس نومبر1988 کو چیف الیکشن کمشنر جناب جسٹس ایس اے نصرت نے اعلان کیا کہ نئےصدارتی انتخاب 12دسمبر 1988 کو منعقد ہوں گے۔اس موقع پر چاروں صوبوں کی ہائیکورٹ کے چیف صاحبان متعلقہ صوبوں کے لیے پریزائڈنگ افسر مقررکیے گئے۔پولنگ کے اوقات صبح 10 سے سہ پہر3بجے تک مقرر کیے گئے۔اس موقع پر اس بات سے بھی آگاہ کیا گیا کہ سینیٹ قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان نے خفیہ رائے شماری کے ذریعے ووٹ کا حق استعما ل کرنا ہے۔ضابطے کے تحت سینیٹ کے87 قومی اسمبلی کے 237 پنجاب اسمبلی کے260 سندھ اسمبلی 114 سرحد کے87 اور بلوچستان اسمبلی کے45ارکان یعنی مجموعی طور پر 830ارکان پر مشتمل انتخابی کالج کوصدارتی انتخاب میںحصہ لینا تھا۔تاہم طے اصول کے مطابق آئینی طور پر جس اسمبلی کے ارکان کی تعداد سب سے کم ہوگی اسی تناسب سے دوسرے صوبے کے ارکان کےووٹ شمار کیے جائیںگے اس کا مطلب یہ تھا کہ بلوچستان اسمبلی کے ارکان کی تعداد سب سے کم 45 تھی اس طرح باقی اسمبلیوں سے بھی 45ووٹ شمار کیے گئے۔

ابتدائی طور پرپی پی پی اور اسلامی جمہوری اتحاد کے مشترکہ امیدوار صدر پاکستان غلام اسحق خان سمیت آٹھ امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کیے جس میں پی پی کے سیکریٹری جنرل جنرل(ر) ٹکا خان جن کے متعلق محترمہ بے نظیربھٹو کا کہنا تھا کہ وہ محض متبادل امیدوارکے طور پر ہیں۔تیسرے پاکستان جمہوری پارٹی کے نواب زادہ نصراللہ خان،چوتھی شخصیت اسلام آباد سے تعلق رکھنے محمد رفیق،پانچویں احمد ابراہیم ہارون جعفر جو قائد اعظم کے سیکریڑی بھی رہ چکے تھے۔چھٹے محمد نوروز خان ملک،ساتویں کراچی کے لال خان بھٹی اور آٹھویں شیخ محمد سلیم سیٹھی تھے جو اس سے قبل 1973 میں بھی کاغذات نامزدگی جمع کراچکے تھے تاہم نامکمل ہونے کے سبب ان کے کاغذات مسترد کردیے گئے تھے۔بعدازاں تین امیدوار جس میں لال خان بھٹی محمد رفیق محمد اور سلیم سیٹھی تھے ان کے کاغذات نامزدگی مستردکردیے گئے۔

بارہ دسمبر کو چار امیدوار قائم مقام صدر پاکستان غلام اسحق خان،نوابزادہ نصراللہ خان،احمد ابراہیم ہارون جعفر اور ملک نوروز خان کے درمیان مقابلہ ہوا۔جس میں پی پی پی اور آئی جے آئی کے مشترکہ امیدوار قائم مقام صدر پاکستان غلام اسحق خان 348ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔دوسرے نمبر پر نوابزادہ نصراللہ خان رہے انہیں91ووٹ ملے،احمد ای ایچ جعفر کو 6 اور نوروز خان کو ایک ووٹ ملا ۔غلام اسحق خان کو قومی اور سینٹ سے 232بلوچستان اسمبلی سے 15پنجاب اسمبلی سے204 سرحد سے 47 اور سندھ اسمبلی سے104ووٹ حاصل کیے جبکہ نواب زادہ نصراللہ خان نے قومی و صوبائی سے 39بلوچستان اسمبلی سے 28،پنجاب اسمبلی سے39 سرحد سے 33اور سندھ سے ایک ووٹ حاصل کیا تھا۔تیرہ دسمبر کو غلام اسحق خان نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس محمد حلیم سے ساتویں صدر پاکستان کا حلف لیا ۔

1993 کا صدارتی انتخاب

اکیس اکتوبر1993 کوالیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ صدارتی انتخاب13نومبر کو ہوں گے ،چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ نعیم الدین ریٹرنگ افسر مقرر ہوئے جبکہ صوبوں میں چاروں صوبائی ہائیکورٹس کے چیف جسٹس پریزائڈنگ افسر مقرر کیے گئے۔

ابتدائی طور پرستائیس امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جس میں سابق صدر غلام اسحق خان قائم مقام صدر وسیم سجاد ،حکمراں جماعت پی پی پی کی جانب سے تین امیدوار سردار فاروق احمد لغاری،آفتا ب شعبان میرانی اور آفتا ب خان شیرپاو،حزب اختلاف کی طرف سے قائم مقام صدر وسیم سجاد ،گوہر ایوب خان،سرتاج عزیز،سید افتخار حسین گیلانی اور لیفٹنٹ جنرل(ر)عبدالمجید ملک،این ڈی اے نوابزادہ نصراللہ خان ،جمہوری وطن پارٹی کے نواب اکبر خان بگٹی،میر بلخ شیرمزاری،محمد اصغر خان،پیرزادہ مختار سعید،بشیر احمد مئیو،ایم پی خان،غازی شفیق الرحمن صدیقی،حکیم سید نذیر حسین شاہ گیلانی،حاجی محمد ذرین، محمد عمر ایڈوکیٹ،صغیر حسین جعفری،حاجی معزالدین حبیب اللہ پیر میر عزیزاللہ حقانی اور یحیی بختیار شامل تھے۔تاہم ان میں سےتیرہ امیدواروں کے کاغذات مستر دکردیے گئے۔

13نومبر1993 کو حکمراں اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک فرنٹ کےامیدوار سردارفاروق خان لغاری 106ووٹ کی برتری سے ملک کے آٹھویں صدر منتخب ہوگئے۔انہیں 274ووٹ ملے دوسرے نمبر پر ن لیگ کے امیدوار وسیم سجاد رہے جنہیں168ووٹ ملے ۔اکبر بگٹی کو دو نواب زادہ نصراللہ خان اور افتخار گیلانی کو بھی ایک ایک ووٹ ملا گوکہ یہ تینوں سردار فاروق خان لغاری کے حق میں دستبرداری کا اعلان کرچکے تھے۔ پولنگ صبح دس سے سہ پہر تین بجے تک جاری رہی ۔اسلام آباد میں 283ارکان نےرائے شماری میںحصہ لیا جس میں سے فاروق لغاری کو 170 اور وسیم سجاد کو 108ووٹ پڑے جبکہ افتخار گیلانی نواب زادہ نصراللہخان اور اکبر خان بگٹی کو ایک ایک ووٹ پڑا۔پنجاب اسمبلی سے فاروق لغاری کو 24 وسیم سجاد کو 17،سندھ میں فاروق لغاری کو39جبکہ وسیم سجاد کو ایک ،بلوچستان اسمبلی سے فاروق لغاری اور وسیم سجاد کو 21،21 ووٹ ملے۔جبکہ اکبر خان بگٹی کو ایک ووٹ ملا۔پشاور میں وسیم سجاد نے 21جبکہ فاروق لغاری نے20ووٹ حاصل کیے۔

چودہ نومبر1993 کو انہوں نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ سے صدارت کا حلف لیا۔

1997 کا صدارتی انتخاب

2دسمبر1997 کو صدرفاروق لغاری کے مستعفی ہونے کے بعد5دسمبر1997 کو الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر 31دسمبر 1997کو نئے صدارتی انتخاب کا اعلان کیا ۔

ابتدائی طور پر 28امیدوار وں نے کاغذات نامزدگی جمع کرایا،جس میں ن لیگ کے حکومتی حمائیت یافتہ امیدوار فیق تارڑ حزب اختلاف کے آفتاب شعبان میرانی،کیپٹن حلیم صدیقی ،جے یو آئی مولانا خان محمد شیرانی ۔ظفراللہ جمالی ،آغا محمد دلاور،سید محمد اقتدار حیدر،راجہ محمد افضل ،خواجہ قطب الدین،رضا گل ،میجر(ر) رمضان آرائیں،خورشید انور قریشی،ڈاکٹر فضل الرحمن ،ڈاکٹر سعیدالزماں صدیقی،رانا نائیک محمد ،محمد پٹھان،ملک جاویدحسین،حاجی محمد زرین،امیرعلی پیٹی والا،حاجی معیزالدین حبیب اللہ ،فقیر حسن انصاری،عمرحیات خاں نیازی ،محمد علی شیخ اور ناصر علی برنی شامل تھے۔31دسمبر کو چھ امیدوار مقابلے پر تھے تاہم مسلم لیگ ن کے امیدوار جسٹس(ر)رفیق تارڑملک کے نویں صدر منتخب ہوگئے۔انہوں نے 374ووٹ حاصل کیے۔پاکستان پیپلزپارٹی کے آفتاب شعبان میرانی کو 58 اور جے یو آئی کے مولانا خان محمد شیرانی کو 22ووٹ ملے ن لیگ کے متبادل امیدوار کیپٹن حلیم صدیقی جوکہ مقابلے سے دستبردار تھے انہیں بھی دو ووٹ ملے،آزاد امیدوار خواجہ قطب الدین کو ایک ووٹ ملا آزاد امیدوار راجہ سعید الزمان اور ظفراللہ جمالی کو کوئی ووٹ نہیںملا۔پارلیمنٹ میں جسٹس (ر)رفیق تارڑ کو 243،میرانی کو 39 مولانا خان محمد شیرانی کو 7 حلیم صدیقی کو دو ووٹ ملے جبکہ سات مسترد ہوئے تھے۔پنجاب سے رفیق تارڑ نے235،آفتاب شعبان میرانی کو تین اور مولانا شیرانی نے دو ووٹ حاصل کیے۔سند ھ اسمبلی میںحکمراں جماعت کے امیدوارنے69 ،پی پی پی کے میرانی نے 34اجبکہ خواجہ قطب الدین نے ایک ووٹ حاصل کیا ۔سرحد اسمبلی میں رفیق تارڈ نے 69 میرانی نے چار اور مولانا شیرانی نے 8ووٹ حاصل کیے ۔بلوچستان میں تارڑ نے 26 میرانی نے دو اور مولانا شیرانی نے 9ووٹ حاصل کیے۔

یکم جنوری1998 انہوں نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس اجمل میاں سے حلف لیا۔

2007 کا صدارتی انتخاب

20ستمبر2007 کو الیکشن کمشنر نے اعلان کیا کہ نیا صدارتی انتخاب6اکتوبر کو ہوگا۔کیونکہ نئے قومی اور صوبائی اسمبلیوںکے انتخاب بعد ہی صدارتی انتخاب کی روایت رہی تھی اس لحاظ سے صدرجنرل پرویزمشرف کا اپنی پانچ سالہ میعاد پوری کرنے والی اسمبلی سے صدارت کا نیا مینڈیٹ حاصل کرنا کا فیصلہ نہایت متنازع تھا۔ حزب اختلاف نے اس پرشدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔

ابتدائی طور پرصدارتی انتخاب کےلئے15امیدوار وں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جس میں صدر پرویز مشرف ،پیپلزپارٹی کے مخدوم امین فہیم اور وکلا کے نمائندے جسٹس (ر)وجیہہ الدین ۔فریال تالپور ،ریاض حسین چانڈیو،حیدر علی راشد، اوردیگر شامل تھے۔

6اکتوبر2007 کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں پرویز مشرف نےپارلیمنٹ 252،پنجاب سے253،سندھ سے102، بلوچستان سے33 اور سرحد سے31ووٹ حاصل کیےجبکہ جسٹس وجیہہ الدین نے 8ووٹ حاصل کیے جبکہ پیپلزپارٹی نے صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ کیا تھا۔لیکن حلف لینے کا موقع 54 روز بعد آیا جب 29نومبر2007 کا صدر (ر) جنرل پرویز مشرف نے عہدہ صدارت کا حلف لیا۔

2008 کا صدارتی انتخاب

18اگست2008 کو صدر جنرل(ر) پرویزمشرف کے مستعفی ہونے کے بعد ایک مرتبہ پھر اکیس اگست2008 کو الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ نئے صدارتی انتخاب6ستمبر کو ہوگا۔

ابتدائی طور پر32صدارتی امیدوار سامنے آئے ،جس میں پی پی کے آصف علی زرداری،ن لیگ کے جسٹس(ر)سعیدالزماں صدیقی ق لیگ کے مشاہد حسین سید،فریال تالپور ،روائیداد خان،کلثوم صبا،منظور احمد بھٹی،محمد رمضان،وحیداحمد کمال،فقیر احمد انصاری،شکیل احمد،مرزاآصف بیگ،سید امتیاز حسین،سخاوت علی،،ڈاکٹر میاں احسان باری،امیرعلی پیٹی والا اور محمد اعجاز شامل تھے۔

اکتیس اگست کو پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ملک کے بارویں صدر منتخب ہوگئے۔انہوں نے481الیکٹرول ووٹ حاصل کیے ،ن کے مدمقابل ن لیگ کے جسٹس سعید الزماں صدیقی نے153 ق لیگ کے مشاہد حسین سید نے44الیکٹرول ووٹ حاصل کیے تھے۔آصف علی زرداری نےسینیٹ اور قومی اسمبلی سے281،پنجاب سے22،سندھ سے63 سرحد سے56اور بلوچستان سے59ووٹ حاصل کیے۔قومی اسمبلی سینیٹ سے ن لیگ کے جسٹس (ر)سعید الزماں صدیقی نے111پنجاب سے 35 سرحد سے 10 سندھ سے کوئی نہیں اور بلوچستان سےدو ووٹ ملے،ق لیگ کے مشاہد حسین کو سینٹ اور قومی اسمبلی سے34 پنجاب سے4سرحد سے تین سندھ سے کوئی نہیں جبکہ بلوچستان سے دو ووٹ ملے۔نوستمبر2008 کو چیف جسٹس نے ان سے حلف لیا۔

2013 کے صدارتی انتخاب

16جولائی2013 کو الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ صدارتی انتخاب 6اگست کو ہوگا۔پولنگ صبح دس سے سہ پہ تین بجے تک جاری رہےگی۔ لیکن ن لیگ کی درخواست پرچیف جسٹس کی سربراہی میںسپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ نئے صدارتی انتخاب 30جولائی کو منعقد کیے جائیں۔

ابتدائی طور پرحکومتی حمایت یافتہ ممنون حسین ،پی پی کے حمایت یافتہ رضاربانی اور تحریک انصاف کے جسٹس (ر)وجیہہ سمیت 24امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے،تاہم 19 امیدواروں کو کوئی تجویز و تائید کنندہ نہیں تھا۔تاہم 26جولائی کو ایک پریس کانفرنس میں پاکستان پیپلزپارٹی نے اعلان کیا کہ وہ سپریم کورٹ اورالیکشن کمیشن کے جانبدارانہ فیصلے کے سبب صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ کررہے ہیں۔ان کے اس فیصلے کی توثیق ان کی اتحادی جماعتیں ق لیگ اور عوامی نیشنل پارٹی نے بھی کی۔

تیس جولائی کو حکومتی حمایت یافتہ ممنون حسین 432ووٹ لے کر ملک کے بارویں صدر منتخب ہوگئے۔حزب اختلاف پی پی کے بائیکاٹ کے سبب دوسرے امیدوار پی ٹی آئی کےجسٹس(ر)وجیہہ الدین احمد تھے انہیں 77ووٹ ملے۔سینیٹ قومی اسمبلی اور خیبر پختون خواہ اسمبلی کے ممنون حسین نمایاں ووٹوں سے کامیاب ہوئے۔جبکہ خیبر پختوں خوا سے جسٹس وجیہہ الدین کامیاب رہے تھے۔

قومی اور سینٹ سے ممنون حسین نے277،پنجاب سے 54،سندھ سے25،بلوچستان سے 55 اور خیبر پختون خوا سے21الیکٹرول ووٹ حاصل کیے جبکہ جسٹس وجیہہ الدین احمد نے قومی اور سینیٹ سے34 خیبر پختون خوا سے36 ،پنجاب سےدو سندھ سے دو بلوچستان سے ایک الیکٹرول ووٹ حاصل کیا۔نو ستمبر2013 کو ممنون حسین نے ملک کے بارویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھالیا چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ان سے حلف لیا۔


مکمل خبر پڑھیں