وہی سیاست، وہی قیادت اور وہی شرارتیں

September 05, 2018
 

دسمبر 2014ء پاور گیم کا کھیل دھرنوں کی صورت میں اپنی آب و تاب پر تھا، عمران خان نے انہی دنوں اعلان کیا ’’میاں صاحب پلان ڈی برداشت نہیں کر پائیں گے۔ بال وزیراعظم کے کورٹ میں ہے، مذاکرات کریں، عدالتی کمیشن بنا کر چار سے چھ ہفتوں میں دھاندلی کی تحقیقات کرا لیں، الیکشن سے دو تین روز قبل 70لاکھ اضافی بیلٹ پیپر لائے گئے، عوام کے پیسے پر چلنے والے اشتہاروں کے خلاف عدالت میں جائیں گے (اور دھرنوں کے انجام تک خان صاحب اس سلسلے میں کسی عدالت میں نہیں گئے تھے) انصاف ملنے تک دھرنا جاری رہے گا!‘‘ اور عمران خان کے مطالبہ پر قائم کردہ جوڈیشل کمیشن کے ذریعے انہیں بالآخر انصاف مل گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق ’’جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا، الیکشن کمیشن کی طرف سے کچھ معمولی نوعیت کی بے قاعدگیاں ہوئی ہیں تاہم مجموعی طور پر 2013کے عام انتخابات قانون کے مطابق ہوئے اور مجموعی طور پر سیاسی جماعتوں کو ملنے والا مینڈیٹ عوامی رائے کا درست عکاس ہے۔ خامیوں کا ذمہ دار الیکشن کمیشن ہے۔‘‘

جوڈیشل کمیشن کا یہ فیصلہ نواز حکومت کی منتخب حیثیت کا آئینی تصدیق نامہ تھا گویا اس فیصلے کے انتظار میں مخالف یا غیر جانبدار گروہوں یا افراد کا منتخب نواز حکومت کے غیر اخلاقی جواز کی بنیاد پر خاک بسر ہونے کا خواب برباد ہو گیا۔ موجودہ منتخب جمہوری پارلیمانی نظام تسلسل میں رہا، موجودہ منتخب نواز حکومت کی آئینی مدت پوری ہوئی۔ سیاسی ادراک کے صحیح استعمال کے مطابق پاکستان کی پوری سیاسی تاریخ میں، سول حکومت کے لبادوں میں آمروں کے ادوار حکمرانی نکال کر، پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت کے بعد یہ دوسری منتخب سول حکومت نے آئین کے مطابق اپنی مدت کی تکمیل پر تیسری منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کیا۔ یہ ان طاقتوں اور راستوں کا بے بس اختتام ہو گا جس کا تسلسل شاید عوام کے ووٹ کی حرمت اور سفر کو کبھی بھی داغدار نہیں کر سکے گا۔

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے ایک طرح سے اس مشترکہ دھرنے کے دورانیے میں سیاسی حرکیات کے دو واقعات پاکستان کے سیاسی تجزیئے کے پس منظر میں کبھی فراموش نہیں کئے جا سکیں گے۔ اولاً میاں نواز شریف کا دھرنوں کے ان 126دنوں کی شروعات ہی میں ایک پیش گوئی کرنا۔ انہوں نے کہا ’’یہ لوگ خود اپنے منہ سے اپنے دھرنوں کی واپسی کا اعلان کریں گے‘‘ آپ یاد کریں، سو فیصد یہی وقوعہ ہوا۔

دوسرے سابق صدر پاکستان اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے پاکستانی سیاست کے تناظر میں ایسے اظہاریئے جن میں پوشیدہ رمز و کنایہ نے غیر جمہوری ، گروہوں کی حقیقی نقاب کشائی کر دی تھی۔ جناب ’’صدر‘‘ آصف علی زرداری نے دھرنوں کے ان 126ایام کے دوران میں کہا تھا۔

(1)حکومت اس وقت گرے گی جب ہم چاہیں گے۔ عمران کی سیاست امپائر کی انگلی پر چلتی ہے۔ آج کی سیاست میں بہت بھولے بھٹکے بچے ہیں۔ ہم احتجاج میں شامل ہو جاتے تو ’’میرے عزیز ہم وطنو‘‘ ہو چکا ہوتا، گو نواز گو کا نعرہ ہمارے کارکنوں کو بھی اچھا لگتا ہے، ہم یہ نعرہ جمہوری طریقے سے لگائیں گے۔

(2)’’ہم جنگلیوں اور جاہلوں والی سیاست نہیں کرنا چاہتے، سیاست میں میوزیکل چیئر والا کھیل ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے حکومت ختم کرنے کی کوششوں کا حصہ نہیں بنے۔ عمران خان دوسروں کا تماشہ کر رہے ہیں۔ ہم نے قوم کو جھوٹ کے مبلغوں سے بچانا ہے جو کہتے ہیں کہ پندرہ دنوں میں تبدیلی لے آئیں گے۔‘‘

(3)’’عمران خان پاکستانی سیاست میں پانی کا بلبلہ ہیں، پانی کے بلبلے کو بنانے والا کوئی اور ہے، ایسے لوگ سیاست میں کبھی کامیاب نہیں ہوتے میں تحریک انصاف اور ’’ن‘‘ لیگ میں لڑائی کا مزہ لے رہا ہوں۔ آپ بھی لیں۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ 2013 کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے، آج دوبارہ الیکشن ہوں تو نتائج مختلف ہوں گے۔ ہمارے دور میں ایک سابق چیف جسٹس تھے جو ہر چیز پر اسٹے آرڈر دیتے تھے۔‘‘

(4)’’بلبلہ جلد پھٹ جائے گا۔ سیاست میں بال ٹمپرنگ نہ کی جائے۔ عوام بھی خوف میں مبتلا ہیں لیکن انہیں گھبرانا نہیں چاہئے کیونکہ تھوڑے وقت کی بات ہے جب یہ بلبلہ پھٹ جائے گا۔ عمران خان بہت تند و تیز اور غیر سیاسی زبان استعمال کر رہے ہیں۔ اس کا آغاز شہباز شریف نے کیا تھا اور انتہا عمران خان نے کر دی ہے۔ دھرنے آہستہ آہستہ ختم ہو جائیں گے۔‘‘

(5)’’میں نے ایوب خان کے خلاف فاطمہ جناح کی سیاست دیکھی ہے۔ آمریت بھی دیکھتا رہا ہوں۔ یہ جو سیاستدانوں کو لڑانے کا کھیل ہے یہ اب ختم ہونا چاہئے۔ میں اس نکتے کو سمجھ کر آگے بڑھ رہا ہوں۔‘‘

یکم اپریل 2015کو جوڈیشل کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ عمران خان نے اس پر مکمل اعتماد کا اعلان کیا۔ قوم کے ساتھ یہاں تک عہد کیا گیا:

’’اگر جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ ان کے موقف کے خلاف آیا تو وہ اپنے عائد کردہ الزامات پر معافی بھی مانگیں گے، عمران خان کو نواز شریف سے اس وقت معافی مانگنی چاہئے تھی کیونکہ ’’جوڈیشل کمیشن‘‘ کا فیصلہ عمران خان کے موقف کے خلاف تھا۔

ہمارے سمیت عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے اس لانگ مارچ اور تحریک دھرنا کے ان 126دنوں میں دانشوروں اور لکھاریوں کی بہت بڑی نہ سہی بے حد معقول اور موثر تعداد نے موجود جمہوری پارلیمانی نظام کے تسلسل کی شدید مخالفت کی۔ بعض دوست احباب عمران خان کے ’’ٹرک‘‘ پر بھی دیکھے یا دکھائے گئے، مبالغے اور انتہاء پسندی پر مبنی تحریروں کا ایک سیلاب رواں رہا۔ پیش گوئیوں کی ماہر ترین طبیعتوں کشف کے انداز میں اپنی گفتگوئوں سے مجلس آرائیوں کے گلچھرے اڑائے۔ یہ سب بہت ہی المناک تھا۔

بہرحال ان دنوں حضرات نے ان 126دنوں میں پاکستانی قوم کے جس بھیانک استحصال کا انسان خور جزیرہ آباد کیا، اس میں پاکستان کی سب سے بڑی قومی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے اپنے قوم پرست لہو کی لاج ہی نہیں رکھی بلکہ پاکستانیوں کو عین مطلوب وقت پر خبردار کر کے تاریخ کے سینے پر اپنی وژنری قیادت کی مہر بھی ثبت کر دی۔

مگر اب وہی پیپلز پارٹی اسی سیاست، اسی قیادت اور اسی شرارت کا حصہ بنتی دکھائی دیتی ہے جس میں انتخابی نتائج کا پانی گدلا اور نتائج بھی گدلے ہوتے ہیں۔ آپ بہت جلد عملاً ایسا ہوتے دیکھیں گے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں