مدر ٹریسا کی انسانیت کے لیےخدمات،آج بھی دلوں میں زندہ

September 05, 2018
 

Your browser doesnt support HTML5 video.


اپنی زندگی غریبوں اور بے کسوں کی خدمت کے لیے وقف کر دینےوالی مدر ٹریسا نےبلا تخصیص رنگ و نسل اور مذہب وقوم ،بیمار اور بے سہارا افراد کی خدمت کی۔ آج ان کو ہم سے بچھڑے اکیس سال ہوگئے۔

مدر ٹریسا البانیہ میں چھبیس اگست انیس سو دس میں پیدا ہوئیں۔ان کا حقیقی نام ایگنس گونژیا بوجاژیو تھا۔ مدر ٹریسا مذہباََ رومن کیتھولک عیسائی تھیں۔

18 سال کی عمر میں انہوں نے مذہبی جذبے کے زیر اثر آئر لینڈ کے مذہبی ادارے آرڈر آف دی سسٹرز آف مرسی اور لیڈی آف لوریٹو میں داخلہ لے لیا ۔انہوں نے مذہبی تربیت آئرلینڈ کے شہر ڈبلن اور بھارت کے شہر دار جلنگ میں حاصل کی ۔ 1937 میں انہوں نے چرچ سے وابستگی اختیار کر لی اور اسی دوران انہوں نے ٹریسا کا نام اختیار کیا ۔

کلکتہ میں رومن کیتھولک ہائی اسکول کے تحت کام کرتے ہوئے مدر ٹریسا کو وہاں رہنے والوں کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ کلکتہ کے غریب عوام کی حالت زار نے ان کے دل پر گہرا اثر مرتب کیا اور انہوں نے محض مذہبی خدمات انجام دینے کے بجائے انسانی خدمت کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیااور1948 میں مدر ٹریسا نے کلکتہ میں غریب افراد کے لیے فلاحی خدمات کا آغاز کردیا۔

1950 میں مدر ٹریسا اور ان کے رفقاء کو رومن کیتھولک چرچ کے تحت چیریٹی مشنریز قرار دے دیا گیا۔

1952 ء میں مدرٹریسا نے نرمل ہردے(شفاف دل) نامی ادارہ قائم کیا جس کے بنیادی مقاصد میں غریب مریضوں کا علاج کرنا شامل تھا۔

زندگی سے مایوس مریضوں کو وہ اپنے ادارے میں لاتیں ،ان کی خدمت کرتیں اور ایسے کئی افراد کو نئی زندگی سے ہمکنار کرتیں جنہیں ان کے ڈاکٹر مرضِ موت میں مبتلا قرار دے چکے تھے۔

مدرٹریسا کی خدمت اب صرف کلکتہ یا بھارت تک محدود نہیں رہی تھی بلکہ دنیا کے کئی حصوں تک پھیل گئی تھی ۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1979 میں امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔

مدرٹریسا نے مسلسل کام جاری رکھا لیکن 1990 میں گرتی صحت نے ان کی کارکردگی کو متاثر کرنا شروع کر دیا۔ اس کے باوجود اپنی خدمات انجام دیتی رہیں لیکن 1997 میں حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ ادارے کی ذمہ داریوں کی کماحقہ تکمیل ممکن نہ رہی جس پر مدرٹریسا کی جگہ’’ سسٹر نرملا ـ‘‘نے ادارے کی سربراہی کے فرائض سنبھال لئےاور اسی سال مدرٹرسیا کا انتقال ہو گیا۔

پوری دنیا میں ان کی موت کا سوگ منایا گیا اور دو ردراز سے لوگ ان کے جنازے میں شرکت کرنے کے لئے پہنچے۔حالانکہ انہی دنوں لیڈی ڈیانا کی جوانمرگی کادلخراش سانحہ پیش آیا تھا لیکن اس کے باوجود مدرٹریسا کی موت لوگوں پر اپنا اثر چھوڑے بغیر نہ رہی۔

مدرٹریسا اگرچہ اس دنیا سے جا چکی ہیں لیکن ان کے ہاتھوں شفاپانے والے مریض اور ان کے ادارے سے نئی زندگی کی نوید پاکر نکلنے والے افراد انہیں اپنی یادوں میں ہمیشہ زندہ رکھیں گئے۔


مکمل خبر پڑھیں