چشم ِ بد دور!

September 06, 2018
 

قو م خود تبدیل ہوئے بنا سب کچھ بدلنے کی خواہاں، رہنما تدبر نہیں تکبر،دلیل نہیں دھمکی ،منطق نہیں مرضی اور حکمت نہیں زورِ بازو سے سب کچھ بدلنے کے چکر میں ۔

دکھ یہ کہ ممنو ن حسین صدر ِپاکستان ہو کر عدالتی مفرور حسین نواز کو جھپیاں ماریں ، غم یہ کہ آئین، قانون کی اس توہین پر اتنا شور بھی نہ مچے جتنا عمران شاہ کے تھپڑوں پر،دکھ یہ کہ 3بار کے وزیراعظم نواز شریف سوا دو سالوں میں 5فورمز پر سنے جانے کے باوجود 3سوالوں کے جواب نہ دے سکیں ، غم یہ کہ جس کیس کا میاں صاحب خود دفاع نہ کرسکیں ،بڑے بڑے ’’جگادری‘‘ ا بھی تک اس کیس کا دفاع کر رہے ،دکھ یہ کہ عمران شاہ کو سزا ہلکی ملی ، غم یہ کہ سانحہ ٔ بلدیہ ٹاؤن سے سانحہ ٔ ماڈل ٹائون تک ہلکی سزا بھی نہ ہوئی ،دکھ یہ کہ معیشت آئی سی یو میں ،غم یہ کہ مفتاح اسماعیل ،اسحق ڈار بھی مشورے دے رہے ، دکھ یہ کہ مولانا فضل الرحمن الیکشن ، اسمبلیوں کو جعلی سمجھیں ،غم یہ کہ ان کی جماعت انہی جعلی اسمبلیوں کا حصہ ،بیٹا اسی جعلی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کا الیکشن ہارا اور مولانا نے خود بھی انہی جعلی ممبران سے ووٹ مانگے ، دکھ یہ کہ کراچی نے ایم کیو ایم کو رد کر کے مینڈیٹ دیا عمران خان کو اور عمران خان نے ہاتھ ملایا ایم کیو ایم سے،غم یہ کہ بحیثیت وزیر حکومت کا حصہ ہو کر خالد مقبول صدیقی کہتے پھریں ’’ یہ الیکشن جعلی ‘‘، دکھ یہ کہ آئی جی سے وزیراعلیٰ پنجاب تک کوئی بھی خاور مانیکا کا دباؤ برداشت نہ کرسکا ،غم یہ کہ وزیراعظم 80فیصد کیس سے ہی لاعلم ، دکھ یہ کہ عمران خان کی سیاسی و بیوروکریٹک تقرریاں انتہائی بُر ی ،غم یہ کہ وہ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں۔

دکھ یہ کہ کرپشن میں ڈوبا سندھ عام آدمی کیلئے جہنم بن چکا ،غم یہ کہ چرچے بلاول کے تقریری حسن کے ، دکھ یہ کہ بلوچستان میں با ل صفاپائوڈر والے آٹے کی روٹی بھی اتنی مہنگی کہ 3وقت کھانے والے ایک وقت پر آگئے ،غم یہ کہ سرداروں کے پالتو جانوروں کی خوراکیں دبئی سے آرہیں ، دکھ یہ کہ انصاف کی آس میں غریب کی نسلیں مرمُک جائیں ، غم یہ کہ طبقہ ٔ اشرافیہ کیلئے جیلیں فائیواسٹار،قید خانے رنگین، ملزم عاصم حسین کے علاج باہر ، ملزم شرجیل میمن کی سب جیل میں شہد سے زیتون تیل تک سب کچھ میسر اور مجیدا چکزئی سے مشتاق رئیسانی تک سب آزاد ، دکھ یہ کہ شہباز شریف چیف جسٹس کے سامنے کہہ دیں کہ’’ 4سوکروڑ لگا کر ایک بوند صاف پانی نہ پہنچا سکا‘‘ اور پھر بھی آزاد ،غم یہ کہ صاف پانی منصوبے کی ایک چُنی مُنی کمیٹی کے سربراہ قمر السلام کا سچ بھی جھوٹ ہوا ، دکھ یہ کہ پہلے کاغذوں میں بلاول کی زمین آٹھ روپے مرلہ، شریفوں کا رائے ونڈ اڑھائی روپے مرلہ ،غم یہ کہ اب کپتان کا فضائی سفر55روپے فی کلومیٹر ،دکھ یہ کہ فیاض الحسن چوہان کی حاجی نرگس والی تقریر بے ہودگی ، غم یہ کہ اس بے ہودگی پر سامنے بیٹھے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ’’شاہین ‘‘ قہقہے ماررہے ،تالیاں بجار ہے ۔

دکھ یہ کہ تحریک انصاف حکومت بونگیوں پہ بونگیاں ماررہی ،غم یہ کہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت عمران خان کومتنازع بنانے کیلئے اندرون وبیرون ملک سوچوں سے زیادہ سرمایہ کاری ہو چکی ،دکھ یہ کہ کوئی سچ ماننے کو تیار ہی نہیں ،غم یہ کہ ہر جھوٹ من وعن مانا جارہا ،دکھ یہ کہ کوئی پرانا پاکستان چھوڑنے کو تیار نہیں ،غم یہ کہ تعصب ،تمسخرکی عینکیں لگائے ہر کوئی پوچھ رہا کہاں ہے نیاپاکستان ،دکھ یہ کہ اند رسے سب ڈکٹیٹرز ،غم یہ کہ اوپر سے سب جمہوریت پسند ،دکھ یہ کہ اپنی اولادیں ،جائیدادیں باہر ،غم یہ کہ ہماری نسلوں کا مستقبل ان کے ہا تھ میں ،دکھ یہ کہ ملک قرضے کا سود دینے سے بھی قاصر ،غم یہ کہ امریکہ کو سبق سکھانے کی باتیں ہور ہیں ،دکھ یہ کہ ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ، غم یہ کہ دعوے پارسائی کے ،دکھ یہ کہ اپنے حقوق کیلئے بھی آواز اُٹھا نہیں سکتے ،غم یہ کہ مسلم اُمہ کی ٹھیکیداری ہورہی ،دکھ یہ کہ سب لٹیروں کے ساتھی ،غم یہ کہ انتظار عادل حکمران کا ، دکھ یہ کہ چند خاندانوں کی نسل درنسل غلامی کی جارہی ،غم یہ کہ سپنے دیکھے جارہے عوامی راج کے اور دکھ یہ کہ آئیڈیل شاہ رخ، ایشوریہ ،غم یہ کہ خواب دیکھے جار ہے آزادیٔ کشمیر کے ۔

دل تو چاہ رہا تھا کہ جعلی دودھ سے جعلی پانی تک ،ہر دو نمبری میں ایک نمبر قوم پر بھی بات کروں مگرپھر بات کہیں سے کہیں نکل جائے گی ،یہ قصے پھر سہی ،آج ذکر رہنماؤں تک ہی موقوف ، اپنے وہ رہنما جن کا ایک مشتر کہ دکھ یہ کہ جمہوریت ، سویلین بالادستی اور پارلیمنٹ کی سپریمسی کے خلاف سازشیں ہور ہیں ،حقیقت ِ حال یہ کہ کرپشن فری پاکستان کی خواہش مند جماعت اسلامی نے وزارتِ عظمیٰ کیلئے ووٹ دیا نواز شریف کو ،اتحادی بنی تحریک انصاف کی ، منصورہ بلا کر کھانا کھلایا زرداری صاحب کو ،مولانا فضل الرحمن مشرف ،پی پی اور ن لیگ سب کے اتحادی ،حلف نامے میں تبدیلی ،فاٹا مرجر کو بنیاد بنا کر مولانا نے جس ن لیگ کو چھوڑا 4ماہ بعد اسی ن لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے صدارتی انتخاب لڑا،اچکزئی صاحب کل جس ایم ایم اے کو ’’مُلا ملٹری ا لائنس‘‘ کہتے تھے ، آج اسی ایم ایم اے کے ساتھ کھڑے ہوئے ،آصف زرداری نے ق لیگ کو قاتل لیگ کہا پھر ق لیگ کو شاملِ اقتدار کر کے پرویز الہٰی کو ڈپٹی وزیراعظم بنا دیا ،خود اسپیکر شپ کیلئے ن لیگ سے ووٹ لے لئےمگر وزارت عظمیٰ کیلئے شہباز شریف کو ووٹ نہ دیئے ، ابھی کل ہی زرداری صاحب رائے ونڈ میں فرما رہے تھے ’’مجھے اور نواز شریف کو چھوڑیں ہمارے بچے بلاول ،بختاور اور حسن ،حسین بھی مل کر چلیں گے ، پھر انہی کے منہ سے یہ سنا ’’اس ملک کا سب سے بڑا ناسور نواز شریف ‘‘ انکل نوا زشریف آپ مودی کے یار۔۔۔ بلاول کے درجنوں ایسے بیانات ، ایک الگ کہانی۔ یاد رہے جب معاملہ اقتدار کا ہو ،مفاد مشترکہ ہو تو مل کر این آر او بھی ہوجائے ،میثاقِ جمہوریت بھی کر لیا جائے ، پنجاب اور مرکز میں اکٹھے اقتدار کے مزے بھی لوٹ لئے جائیں ، جمہوریت کی آڑ میںدھرنوں کے دنوں پارلیمنٹ میں ایک ہونے کا ڈرامہ بھی ہو جائے ۔

ذرا ن لیگ کی بھی سن لیں ، دھرنوں کے پیچھے خفیہ ہاتھ ،اس انٹرویو پر مشاہد اللہ فارغ ، خود نواز شریف یہی فرمائیں تو واہ واہ ،ڈان لیکس غلط ، طارق فاطمی ،پرویز رشید قربان ،خود میاں صاحب یہی کہہ دیں تو تالیاں ،قومی اسمبلی میں نواز شریف کہیں ،جناب عالیٰ یہ ہیں وہ ذرائع آمدن کہ جن کی بنیاد پر ہم نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس خریدے،

تب بھی ’’میاں دے نعرے وجن گے ‘‘اور اگر احتساب عدالت میں کہہ دیں ’’ پیسے کہاں سے آئے ،فلیٹس کیسے خریدے گئے ، مجھے تو کچھ پتا ہی نہیں ‘‘ تب بھی نعرے ’’میاں دے ہی وجن گے‘‘ پانامہ پہلا فیصلہ ٹھیک تو دوسرا فیصلہ غلط ،حدیبیہ فیصلہ ٹھیک ، احتساب عدالت کا فیصلہ غلط ، زرداری صاحب کو لاڑکانہ ،لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹیں گے ،پیٹ چیر کر لوٹا مال نکالیں گے ،واہ واہ ، واہ واہ ، زرداری صاحب کو رائے ونڈ کھانے کھلانے سے صدارتی انتخاب تک ،ہر معاملے میں منتیں سماجتیں ،واہ واہ ، واہ واہ ۔

ذرا سوچئے ایسے جمہوریت پسندوں کو کسی دشمن یا سازش کی بھلا کیا ضرورت کہ جن کا حال یہ وزیراعظم گیلانی پرویز مشرف سے حلف لیں ،ن لیگ کے وزراء مشرف سے حلف لے لیں ، پی پی گارڈ آف آنر دے ،ن لیگ باہر بھجوائے ،مشرف کیس کی فائل 35دن وزیراعظم عباسی کے میز پر پڑی رہے اور دستخط نہ ہوسکیں لیکن ہر ایک کی تقریر ، بھاشن میں مشرف کی برائیاں اور رونا دھونا یہ کہ آمر کو کیوں واپس نہیں لایا جارہا ، حکومت دونوں پارٹیوں نے کی ،پی پی کو تو چھوڑیں ، وہ تو بے نظیر بھٹو کے قاتل بھی نہ پکڑسکی، حالانکہ زرداری صاحب فرما چکے تھے کہ ’’وہ بی بی کے قاتلوں کو جانتے ہیں ‘‘، ن لیگ بھی 5سال اقتدار میں رہ کر مشرف کو بھجوا سکی ،واپس نہ لا سکی ۔

یقین جانیے جب 5سال پانی و بجلی وزارت کے مزے لوٹ کر بھی کچھ نہ کرنے والے خواجہ آصف آج ڈیم کی اہمیت پر پُر مغز باتیں کریں ، جب 5سال اقتدار میں رہ کر اور ایک سال وزیرداخلہ رہ کر احسن اقبال فرمارہے ہوں کہ ’’ باہر پڑے 2ارب ڈالر کیوں نہیں لائے جارہے‘‘ اورجب 12دنوں کے اقتدار والے عمران خان سے 5دفعہ وزیراعلیٰ رہنے والے شہباز شریف یہ پوچھ رہے ہوں کہ’’ کہاں ہے ریاست مدینہ‘‘ تو یقین ہو جائے کہ سب نمبر گیم کے کھلاڑی ،شکوے، شکایتوں والی مشینیں ، قولی شیر ، باتوں کے دھنی ، زمانہ امن کے ٹیپوسلطان اور نظریۂ ضرورت کے امام ، اور پھر جب تیسرے درجے کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کی ’’باعزت واپسی ‘‘ کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا نے والی پی پی حکومت کے سرخیل اور رچرڈ ہالبروک کے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑے زرداری صاحب کے جانثار رضا ربانی آج عمران خان کو مشورے دیتے ملیں کہ ’’ہم خود مختار قوم ،آپ امریکی وزیرخارجہ سے نہ ملیں ‘‘تویہ یقین بھی آجائے کہ جب تک یہ سب زندہ، سلامت ،انہیں کسی دشمن ، کسی سازش کی کوئی ضرورت نہیں ،یہ خود کفیل ، چشم بددور، باقی رہ گئی ،تبدیلی ،نیا پاکستان ،ریاستِ مدینہ ،اللہ خیر ہی کرے، قوم خود تبدیل ہوئے بنا سب کچھ بدلنے کی خواہاں، رہنما تدبر نہیں تکبر، دلیل نہیں دھمکی ، منطق نہیں مرضی اور حکمت نہیں زورِبازو سے تبدیلی لانے کے چکر میں ۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں