کیپٹن اسفند یار ، 18 ستمبر 2015ء کو دشمن کے عزائم ناکام بنائے

September 06, 2018
 

18 ستمبر 2015 کو دہشت گردوں نے جب پی اے ایف کیمپ بڈھ بیر پر حملہ کیا تو پاک فوج کے گیارہ ایف ایف کے ایک جاں باز سپوت کیپٹن اسفند یار نے اپنی جان پر کھیل کر انسانیت کے دشمنوں کے عزائم خاک میں ملا دیے۔

کیپٹن اسفند یار شہید کے والد ڈاکٹر فیاض بخاری کا کہنا ہے کہ جب میں نے اس کی چھاتی سے کپڑا اٹھایا تو بائیں طرفخون ہی خون تھا، میں نے کہا اسفند یار بہت اچھے آئے ہو، ویل ڈن، پھر میں اسفند کو چوما۔

اٹک کے رہائشی ڈاکٹر فیاض بخاری وہ عظیم انسان ہیں جنہیں رب کائنات نے آزمائش میں ڈالا تو وہ اس پہ پورا اترے، یہ آزمائش ان کے جواں سال اور خوبرو بیٹے کیپٹن اسفند یار کی شہادت کی صورت قربانی تھی۔ ایک ایسے بیٹے کی جدائی جس نے پچپن سے لیکر موت تک ہمیشہ چوٹی کی کامیابیاں سمیٹیں۔

پی ایم اے سے اعزازی شمشیر اور ملٹری ٹیکٹکس میں گولڈ میڈل لینے والے اسفند یار زمانہ طالب علمی سے پاک فوج میںکمیشنتک ایک نہیں، دو نہیں سیکڑوں اول انعامات اپنے نام کرچکے ہیں۔

جی تھری یعنی اسٹاف افسر ہونے کے باوجود اسفند یار نے بڈھ بیرکیمپ کی کمان سنبھالی اور دہشت گردوں پر بجلی بن کر گرے، اسفند سے بے کراں محبتوں کی امیں مادر مہرباں جہاں بیٹے کی جدائی پہ دلگیر ہے وہاں شہید کی ماں ہونے پہ نازاں بھی ہے۔

عرض پاک کے بہادر سپوت، فخر اٹک اور گیارہ ایف ایف کے اس بے مثال ہیرو کے نام اٹک کے کئی روڑ اور یادگاریں تعمیر کی گئی ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں

A PHP Error was encountered

Severity: Core Warning

Message: Module 'memcached' already loaded

Filename: Unknown

Line Number: 0

Backtrace: