گاجر کو غریبوں کا سیب کیوں کہا جاتا ہے؟

September 06, 2018
 

گاجرکا شمار ان سبزیوں میں ہوتا ہے جو صحت کے لیے بے حد مفید ہیں اور اسی لیے گاجر کو ’’غریبوں کا سیب‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ سیب کے مقابلے میں کافی سستی ہوتی ہےاور سب سے بڑی بات یہ کہ اس میں سیب جیسی تمام خصوصیات موجود ہیں۔

معروف مصنف اور ماہرین غذائیت ’لک کوتنھو‘ کا خیال ہے کہ اگر روزانہ ناشتے میں گاجر کے جوس کا استعمال کیا جائے تو یہ ہماری صحت کے لیے بے حد مفید ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ گاجر وٹامن اے، فائبر اور دیگر ضروری منرلز سے بھرپور ہے۔

گاجر میں موجود وٹامن اے آنکھوں کے لیے نہایت فائدہ مند ہے کیونکہ یہ بینائی کو کمزور ہونے سے روکتا ہے۔ ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ گاجر کا آسان استعمال اس کا جوس بنا کر پینا ہے کیونکہ اس سے گاجر فوری ہضم ہوجاتی ہے۔

گاجر کے روزانہ استعمال کے فوائد

امراض جگر کے لیے: گاجر کا جوس جگر کے لیے بے حد فائدہ مند ہے۔ طبی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ گاجر کا جوس جگر میں موجود زہریلے مواد سے چھٹکارے کے لیے معاون ہوتا ہے۔جگر کے کینسر میں مبتلا افراد کو گاجر کا جوس پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ آج کل لوگوں کی ایک بڑی تعداد جگر کے مرض میں مبتلا ہے جس کی وجہ خراب طرز زندگی ہے۔ اس کے علاوہ گاجر کا کام جگر کی صفائی کرنا بھی ہے۔

بلڈ پریشر: بلڈ پریشر کے مریضوں کو خاص تائید کی جاتی ہے کہ وہ ایسی غذائوں کا استعمال کریں جو فائبر اور پوٹاشیم سے بھرپور ہوں اور جن میں سوڈیم کی مقدار کم ہو۔ گاجر میں یہ تمام غذائی اجزاء نہ صرف موجود ہیں بلکہ اسی طرح سے موجود ہیں جیسے بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے ہونے چائیں، تب ہی ایسے افراد کے لیے گاجر کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔

وزن میں کمی اور قبض کے لیے: بعض اوقات ایسا ہوتا ہےکہ موٹاپے کا شکار افراد وزن کم کرنے کی تمام ترکوششیں کرلیتے ہیں مگر پھر بھی ناکام رہتے ہیں۔ ماہرین غذائیت کے مطابق اس کی ایک وجہ جگر کی خرابی بھی ہوسکتی ہے اور اسی لیے یہ جسم میں موجود چربی کو گھلانےمیں ناکام رہتے ہیں۔ گاجر کا استعمال اسی لیے وزن میں کمی کا باعث بنتا ہے کیونکہ یہ جگر صاف کرنے اور چربی جلانے میں مدددیتی ہے۔

گاجر میں موجود فائبر کی کثیر مقدار قبض کو ختم کرتا ہے اور قبض ہونے سے روکتا ہے۔

جلدکے لیے: گاجر کےجوس میں ایسی جادوئی صفات موجود ہیں کہ یہ انسانی جلد کو خشک ہونے اور جلد پر بڑھاپے کے اثرات ظاہر ہونے سے روکتا ہےاور جلد کو نرم اور چمک دار بناتا ہے۔ گاجر میں Beta carotene نامی اینٹی آکسائڈ کثرت سے پایا جاتا ہےجو کہ انسانی جلد کو خراب ہونے اور جھریوں سے بچاتا ہے۔

شوگر کے مریضون کے لیے مفید: گاجر میں نشاستہ کم ہوتا ہے جب کہ یہ ریشے سے بھرپور ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہاضمے کے عمل کے دوران خون میں شوگرکی مقدار کنٹرول میں رہتی ہے۔ اس کے علاوہ گاجر میں موجود اینٹی آکسائڈز خون میں نقصان دہ کولسٹرول کی سطح کم کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔

قوت مدافعت: گاجر میں وٹامن سی کی موجودگی قوت مدافعت کو بڑھاتی ہے اور بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔اس کے علاوہ گاجر کے جوس میں وٹامنزاے، بی اور ای بھی پائے جاتےہیں جس کی مدد سے انسانی جلد کے خلیے صحت مند رہتے ہیں، خون میں سفید خلیوں کی پیدائش جاری رہتی ہے اور انسان پر بڑھاپے کے اثرات کم ہوتے ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں