ثقافتی وفود کے تبادلوں سے پاکستان بیرونی دنیا سے تعلقات بہتر بناسکتاہے، شازیہ منظور

September 06, 2018
 

پاکستان کی مشہور گلوکارہ شازیہ منظور نے کہا ہے کہ ثقافتی وفود کے تبادلوں سے پاکستان دیگر اقوام کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بناسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دورہ ناروے کے دوران نمائندہ جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انھوں نے کہاکہ پاکستان میں باصلاحیت آرٹسٹس کی کمی نہیں۔ صرف ان کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ پاکستانی آرٹسٹس اپنے فن کے ذریعے بیرونی ممالک اپنی ثقافت کو فروغ دے سکتے ہیں اور اپنے ملک و قوم کا نام روشن کرسکتے ہیں۔

شازیہ منظور نے کہاکہ اگرچہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں نئی حکومت نے ابھی تک ثقافت کے فروغ اور فن کاروں کے زندگی میں بہتری لانے کے لیے باقاعدہ کوئی نئی پالیسی مرتب نہیں کی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی اہم سرکاری اعلان ہوا ہے لیکن انہیں امید ہے کہ یہ حکومت اس طرف خصوصی توجہ دے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہاکہ پاکستان کے پاس بیش بہا قیمتی ثقافتی ورثہ ہے۔ خصوصاً پاکستان کے پاس عظیم صوفیانہ کلام ہے جو انسانیت سے محبت اور حق و صداقت کا درس دیتاہے۔ اولیا اور صوفیا کے کلام میں اتنی مٹھاس ہے کہ پاکستان پوری دنیا کے دل جیت سکتا ہے۔

شازیہ منظور نے ناروے میں اپنے قیام کے دوران دارالحکومت اوسلو کے مضافات میں پاکستان یونین ناروے کے زیراہتمام پاکستان کی یاد میںہونے والی سالانہ تقریب کے دوران اپنے روایتی گیتوں، پاکستان کے ملی نغموں اور دھمال گا کرحاضرین کی خصوصی توجہ حاصل کی۔

اس پروگرام کے دوران شازیہ منظور نے دل دل پاکستان پیش کرکے لوگوں کے پاکستان کے ساتھ جذباتی تعلق کو اجاگر کرنے کی کوشش کی اور اختتام پر جب انھوں نے کھڑے ہوکر حضرت شہبازقلندر کا دھمال ’’او لال میری پت رکھیو بھلا جھولے لالن‘‘ پیش کیا تو لوگوں نے ان کے ساتھ مل کراسے گایا۔


مکمل خبر پڑھیں