مغربی تہذیب اور جمہوریت کے گہوارے میں

September 07, 2018
 

لندن یاترا پر تحریر کردہ میرے پچھلے کالم پر ایک قریبی دوست کا ردِ عمل بذریعہ فون آیا کہ آپ کہاں حسیناؤں کی زلفوں میں الجھ گئے ہیں آپ تو ریسرچ کے آدمی ہیں کوئی عملی تحقیقی بات کریں۔ عرض کی، لگتا ہے آپ نے صرف عنوان دیکھا ہے پورا کالم پڑھتے تو اعتراض پیدا نہ ہوتا۔ معاملہ محض عطیہ فیضی، برٹش حسیناؤں یا دو جرمن دوستوں تک محدود نہیں تھا جنہیں واپسی پر درد بھرے 49عشقیہ خطوط ارسال کیے گئے اس سے آگے کی سنیے آپ فرماتے ہیں:

خدا سے حسن نے اک روز یہ سوال کیا

جہاں میں کیوں نہ مجھے تو نے لازوال کیا

جواب ملا کہ تصویر خانہ ہے دنیا

شب دراز عدم کا فسانہ ہے دنیا

ہوئی ہے رنگِ تغیر سے جب نمود اس کی

وہی حسیں ہے حقیقت زوال ہے جس کی

ہمارے پیرو مرشد سر سیدؒ آج سے کوئی ڈیڑھ صدی قبل بذریعہ بحری جہاز لندن تشریف لائے بمطابق مولانا حالی از ’’حیاتِ جاوید‘‘ وہ مولوی سید مہدی علی خاں کو ایک خط میں ولایت سے لکھتے ہیں :میرے ایک معزز دوست نے ایک بہت بڑے جلسے میں جہاں نہایت تکلف کی پوشاک پہنے کئی سو مرد اور لیڈیاں خوبصورت، خوش کلام اور قابل جمع تھیں پوچھا:’’کہو لندن بہشت ہے اور حوروں کا ہونا سچ ہے یا نہیں؟‘‘مگر ہماری قسمت میں وہی جلنا ہے۔۔۔۔‘‘ بات خوبصورتی کی تین جہتوں کے حوالے سے ہو رہی تھی جو تن تک محدود نہیں من تک چلی جاتی ہے اجلے تن پر مان لیا اور من کی میل نہ دھوئی۔۔۔دنیا میں کتنی عظیم الشان شخصیات گزری ہیں جو ظاہری طور پر شاید معمولی ہی نہیں بلکہ بدنما قرار پائیں گی مگر ان کے اندر کی خوبصورتی نے انہیں وہ مقامِ عظمت بخشا ہے کہ درجنوں پریاں اُن کے قدموں پر نچھاور ہو جائیں۔ سوچ رویے اور کردار کا یہ وہ حسن ہے جو جسمانی حسن کے بالمقابل لازوال ہے جسے شک ہے وہ بطور آزمائش کسی ایسے شخص کے ساتھ رہ کر دیکھ لے جو جسمانی طور پر تو حسین ہو لیکن سوچ اور عادات میں کم ظرف یا بدصورت ہو چند روز میں آپ کا جی اُس سے بھر جائے گا بلکہ کھٹا پڑ جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مغربی اقوام کی ظاہری یا جسمانی خوبصورتی پر ریجھنے سے آگے بڑھ کر ان کی فکری جستجو لگن اور جدوجہد کا جائزہ لیں۔ دنیا میں آج انہیں ہر شعبے میں ہر حوالے سے امامت کا جو مقام حاصل ہے اس کے پس منظر اور وجوہ پر غور کریں کئی برس قبل کی بات ہے سکاٹ لینڈ کی گلاسگو یونیورسٹی کے ایک طالبعلم کاشف محمود نے مجھے فون کرتے ہوئے اپنا تعارف کروایا اور پاکستانی سیاست بالخصوص سویلین ملٹری ریلیشن کے تناظر میں کئی سوالات اٹھائے میرے لیے یہ حیرت کی بات تھی پوچھا کہ میرا موبائل نمبر آپ کو کس نے دیا ہے؟ بولا آپ کی کتاب پڑھی ہے ’’جمہوریت یا آمریت؟‘‘ اس میں آپ کا نمبر درج ہے۔ حیرت سے استفسار کیا کہ آپ کو یہ کتاب کہاں سے ملی؟ جواب ملا کہ ’’ہماری لائبریری میں موجود ہے‘‘۔ ہماری یونیورسٹی والے انگریزی کے علاوہ مختلف زبانوں میں چھپنے والی کتابیں دنیا بھر سے منگواتے رہتے ہیں اور ان کے یہاں مختلف سیکشن ہیں۔

اب جب یہاں آنا ہوا ہے تو ان لوگوں کے تحقیقی رنگ ڈھنگ دیکھ کر حیرت ہی نہیں خوشی بھی ہو رہی ہے۔ اپنی فیملی کے ہمراہ اسی گلاسگو یونیورسٹی کے مختلف حصوں میں گھوم پھر کے دیکھا کسی ایک شخص نے روکا نہ ٹوکا نہ پوچھا کہ صاحب یہاں کیوں آئے ہو کس سے ملنا ہے؟ ایسے جیسے ہم یہاں کے قدیمی رہنے والے ہیں ہر کوئی اپنے کام سے کام رکھتے ہوئے سرگرمِ عمل ہے۔ ہم سوچ میں پڑ گئے کہ اگر کوئی غیر ملکی اس طرح ہماری پنجاب یونیورسٹی یا جی سی یو میں گھسے تو ہر کوئی اس طرح دیکھے گا کہ جیسے کوئی غیر ملکی جاسوس آ گیا ہو بلکہ یوں داخل ہونے کی نوبت ہی نہیں آنے پائے گی۔ دہشت گردوں سے اگر ہمیں خطرہ ہے تو کیا ان لوگوں کو نہیں ہے؟ ہمارے تمام ادارے خوف و ہراس کی فضا میں بڑی بڑی دیواریں تعمیر کرتے ہوئے ہر خوبصورت ماحول، بلڈنگ یا منظر نامے کو بند کیے چلے جا رہے ہیں سیاحتی نقطہ نظر سے یہ ایک خوفناک صورتحال ہے لیکن یہاں اتنے اہم ادارے لائبریریاں میوزیم پارکس سب یوں اوپن کیسے ہیں؟ یہاں ایئر پورٹس پر جو بھی چیکنگ ہوتی ہے عام شہری زندگی میں انہوں نے اتنا اوپن ماحول آخرکیسے ممکن بنا رکھا ہے ؟

اسی یونیورسٹی میں انسانی زندگی کے ارتقاء پر اتنا خوبصورت Hunterian Museum پورے انہماک سے دیکھا یہیں جنگ عظیم میں قربان ہونے والوں کی یاد میں میموریل گارڈن بھی ملاحظہ کیا گلاسگو کیتھڈرل میں سینٹ منگو میوزیم دیکھا، کیلون ہال میں آرٹ گیلری اور میوزیم ملاحظہ کیے گلاسگو گرین میں ایک ایسی یادگار نظروں کے سامنے آئی جیسی یہاں منڈی بہاؤالدین کے قریب ہم نے بہت برس قبل دیکھی تھی جو غالباً سکھوں سے لڑائی میں مرنے والوں انگریزوں کی یاد میں تعمیر کی گئی تھی۔ جارج اسکوائر میں وہ جگہ دکھائی گئی جہاں جنگ عظیم کے دوران چرچل عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کرتے رہے۔ ان کا سیاحتی اہتمام قابلِ رشک ہے۔ ہم نے گلاسگو سے ایڈن برگ اور پھر ایڈن برگ سے لندن کا سفر بذریعہ ٹرین کیا تو جی چاہتا تھا کہ کاش یہ سب اہتمام ایسے ہی وطنِ عزیز پاکستان میں بھی ہو جائے۔ ٹرین ایسی Neat Clean اور آرام دہ کہ مزا آ گیا۔ ٹرین کے باتھ روم کا دروازہ بند کیا تو اندر سے ہی آواز آئی کہ آپ نے دروازہ بند کیا ہے لاک نہیں، پہلے اسے لاک کریں، چونک کر دیکھا کہ یہ کون بول رہی ہے پتہ چلا کہ کہیں کوئی ٹیپ چل رہی ہے۔ لوگ اتنے نفیس ہیں کہ ذرا سا راستہ بھی دے دو تو شکریہ ادا کرنے لگتے ہیں پلیز اور سوری یا چیئرز کیے بغیر بات نہیں کرتے۔ ٹرینیں، بسیں ہر چیز جیسے کمپوٹرائزڈ ہے جھانک کر دیکھا تو ڈبل ڈیکر گاڑیاں بزرگ خواتین چلاتی نظر آئیں۔ کسی سے کسی اسٹیشن کا پتہ پوچھو تو فوراً اپنے موبائل فون سے نقشہ نکالے گا اور پورا شیڈول ٹائم کے ساتھ بتا دے گا۔ کہیں پتہ ہی نہیں چلنے دیتے کہ کون امیر ہے کون غریب ہے سب برابر ٹیوبز میں بھاگے پھر رہے ہیں۔

میرا ایک کزن اپنی گاڑی لے کر سیر کروانے آیا کہا کہ ہاں بہت اچھی بات ہے آج گاڑی پر لندن کی سیر کرتے ہیں سیر تو خوب کی لیکن مسئلے میں ہی پڑے رہے۔ لندن میں پارکنگ کا اتنا مسئلہ ہے کہ بندہ کہتا ہے کہ بہتر ہے ٹیوب ہی کے مزے لو یا ڈبل ڈیکر بس سے نظارے دیکھو۔

بہت دیکھ رہے ہیں سارا سارا دن دیکھ رہے ہیں لیکن کچھ نہیں دیکھ رہے لگتا ہے آئندہ دو مہینوں کا پلان لے کر آئیں وہ بھی فیملی کے بغیر کیونکہ اپنی تو یہ حالت ہے کہ ہر میوزیم میں ذہن کہیں کھو جاتا ہے اور باقی بیچارے انتظار کرتے رہ جاتے ہیں وہ مارکیٹوں یا مالز میں جانا چاہتے ہیں اور ہمیں لائبریریاں اور دیگر تاریخی یادگاریں اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اصل لندن دریائے ٹیمز کے کناروں پر آباد تھا اور آج بھی دن رات کی رونقیں ادھر میسر ہیں۔ لندن برج اور لندن ٹاور سے لے کر پارلیمنٹ ہاؤس اور 10ڈاؤننگ اسٹریٹ تک۔ لندن برج سے جڑا قلعہ نما قدیمی عقوبت خانہ جہاں اس وقت سہ طرفہ میوزیم ہیں وہاں اسی اہتمام سے اب بھی پریڈ ہوتی ہے۔ یہ بلڈنگ کوئی گیارہویں صدی عیسوی کی ابتدائی تعمیرات میں سے ہے یہاں کھڑے ہمیں اینگلو سیکسن کی بربر پر فتح سے لے کر جان ملٹن کی ’’پیراڈائز لاسٹ‘‘تک کے مناظر ذہن میں گھوم جاتے ہیں اور پھر برٹش ہسٹری کے ٹاپ 11منارکس ہی نہیں ان کی فتوحات اور استبداد کے مناظر بھی نظروں کے سامنے فلم کی صورت چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ ( جاری ہے)

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں