ایک بیورو کریٹ کی کہانی؟

September 07, 2018
 

یہ میرا ایک پرانا کالم ہے۔ جس میں معمولی سا رد و بدل کر کے دوبارہ شائع کر رہا ہوں کہ آج بھی حسب حال ہے۔ میرے ایک دوست بہت خاص وضع کے آدمی ہیں۔ میں یہ کالم ان کا نام لے کر لکھ سکتا تھا۔ مگر اصل مسئلہ تو ان کے نام ہی کا ہے۔ جس کی وجہ میں یہ کالم لکھ رہا ہوں اب آپ چاہیں گے کہ اس مسئلے کی کچھ تفصیلات بیان کی جائیںتو چلئے میں تھوڑی بہت تفصیل بھی بیان کئے دیتا ہوں۔

ایک دفعہ میں انہیں ملنے ان کے دفتر گیا ۔ ایک کمرے کے باہر تعبیر صدیقی نام کی تختی لگی تھی میں الجھن میں پڑ گیا کیوں کہ ان کا نام تعبیر ہے مگر وہ صدیقی نہیں ہیں۔ سوچا کمرے میں جھانک کر دیکھ لیتا ہوں۔ جھانک کر دیکھا تو موصوف کرسی پر براجمان تھے۔ میں نے پوچھا’’برادر‘‘ یہ تعبیر صدیقی کون ہے؟

بولے میں ہوں۔ میں نے کہا ’’مگر تم صدیقی تو نہیں ہو!کہنے لگے میرا افسر تو صدیقی ہے‘‘

اسی طرح ایک اور دفتر میں ان کی ٹرانسفر ہونے پر میں ملاقات کے لئے ان کے پاس گیا تو پتہ چلا ان دنوں وہ تعبیر نقوی ہیں۔ وجہ دریافت کرنے کی اگرچہ ضرورت نہ تھی لیکن معلوم کیا تو وجہ وہی نکلی جس کا شبہ تھا یعنی جس افسر کے تحت وہ ان دنوں کام کر رہے تھے وہ نقوی تھے۔

ایک دفعہ میں نے انہیں دیکھا کہ پان کی گلوری منہ میں ہے پاجامہ پہنا ہوا ہے اور بات بات پر ’’آداب‘‘ کہتے ہیں۔معلوم ہوا کہ موصوف ان دنوں تعبیر رامپوری کہلاتے ہیں۔

کچھ دنوں بعد ملے تو بات بے بات پر بے تکلفی سے ہاتھ مارتے تھے۔ کڑھے ہوئے کرتے کے ساتھ چوخانے والی دھوتی باندھی ہوئی تھی اردو کی بجائے پنجابی بولتے تھے ۔ یعنی موصوف ان دنوں تعبیر جالندھری تھے!

ایک زمانے میں انہوں نے خشخشی داڑھی رکھ لی ٹخنوں سے اونچی شلوار پہننے لگے ۔ چند دنوں بعد ملاقات ہوئی تو کلین شیو ڈ تھے تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا۔ ہاتھ میں پائپ تھا۔ میں نے پوچھا برادر آپ کی داڑھی کہاں گئی اس کی ضرورت پڑ گئی تھی کہنے لگے۔ وہ تو افسر کے ساتھ گئی لیکن آپ کو اس کی ضرورت کیوں پڑ گئی خیریت تو ہے؟میں نے کہا ایک ٹیلی ویژن چینل پر تفہیم دین پروگرام میں آپ کو بلانا تھا۔پروڈیوسر سے بات بھی ہو گئی ہے۔ ’’بولے‘‘ کوئی بات نہیں مہینے پندرہ دنوں تک افسر تبدیل ہونے والا ہے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد گھر پر آئے تو چہرے پر ننھی داڑھی اور کاندھے پر رومال تھا کہنے لگے چلو ٹیلی ویژن اسٹیشن چلتے ہیں۔ میں نے کہا جس پروڈیوسر سے بات ہوئی تھی اس کا تبادلہ ہو گیا ہے بولے تو پھر چلو نائی کی دکان پر چلتے ہیں!‘‘

موصوف کا تعلق کسی زمانے میں پی ٹی وی سے بھی تھا۔ ایک دن میں نے کہا تم جس طرح اس حکومت کے پروپیگنڈے میں لگے ہوئے ہو اگلی حکومت تمہیں الٹا ٹانگ دے گی۔ بولے ایسا نہیں ہو گا میں اگلی حکومت سے صرف چوبیس گھنٹے کی مہلت مانگوں گا ان سے کہوں گا کہ آپ نے جو بھی فیصلہ کرنا ہے میرے آئندہ چوبیس گھنٹے کے پروگرام دیکھ کر کریں۔ چنانچہ یہ فیصلہ ان کے حق میں تھا۔!

موصوف سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے اگرچہ کسی سرکاری پارٹی سے باقاعدہ وابستہ نہیں مگر ہر دور میں کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے لئے کام ضرور کرتے رہے ہیں اور اسے حسن اتفاق ہی سمجھیں کہ ان کی پسندیدہ سیاسی جماعت برسراقتدار جماعت ہوتی ہے۔ ایک الیکشن کے دوران موصوف ایک سیاسی جماعت کے زبردست مخالف تھے اور مسلسل اس پر نقطہ چینی میں لگے رہتے تھے۔ جبکہ ان کے ایک دوست اس جماعت کے حامی تھے۔ نتائج والے دن یہ دونوں دوست ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے تھے جس جماعت کے یہ مخالف تھے اس کی جیت کے آثار پیدا ہو گئے جس پر انہوں نے اپنے دوست کے کاندھوں کو مسرت سے جھنجھوڑا اور چلا کر کہا ’’پیارے ہم جیت رہے ہیں،جن دنوں ہمارے یہ دوست ’’روٹی ، کپڑا اور مکان‘‘ کے پرچار ک تھے ، ان دنوں اگر کبھی ان کے دفتر فون کیا جاتا تو بتایا جاتا کہ صاحب کسی کچی آبادی کے معائنے پر گئے ہوئے ہیں جنرل ضیاء الحق کے دور میں فون کیا جاتا تو جواب ملتا’’صاحب نماز پڑھ رہے ہیں‘‘ ان حوالوں سے میرے دوست ایک مثالی بیورو کریٹ ہیں ، موصوف کب کے ریٹائر ہو چکے ہیں، مگر جب کبھی ملتے ہیں اپنی دوران ملازمت کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ انہوں نے کتنی بہادری سے وزرائے اعظم اور چیف سیکرٹری صاحبان کے خلافِ قانون حکم ماننے سے انکار کیا، اس پر مجھے بہت ہنسی آئی ہے کیونکہ یہ سب کچھ وہ ’’موقع کے گواہ‘‘ کو بتا رہے ہوتے ہیں گزشتہ روز غریب خانے پر تشریف لائے۔

چائے نوشی کے دوران کہنے لگے یار یہ عمران خان تو کمال کے کام کر رہا ہے، گزشتہ روز اس نے امریکہ کے وزیر خارجہ سے آنکھیں ملائے بغیر وہ سب کچھ کہہ دیا ، جو پاکستانی قوم کی آواز ہے۔ میں یہ سن کر ہنسا اور بولا ’’یار آپ سچ سچ بتائیں! آپ چاہتے کیا ہیں‘‘ بولے تم تو جانتے ہی ہو مجھے ہر اس شخص سے عشق ہے جو پاکستان کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہے، میں نے ہنستے ہوئے کہا مجھ سے زیادہ کون جانتا ہے مگر اندر کی بات بتائیں کہ آپ چاہتے کیا ہیں۔ بولے پرائم منسٹر ہائوس میں بیٹھ کر ان کی پالیسیوں کو ٹھوس شکل دینا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا بہت اچھی بات ہے آپ ابھی یہاں سے اٹھیں، چائے پھر بھی پی جا سکتی ہے، سیدھا بنی گالہ ہائوس پہنچیں اور عمران خان کو یہی کچھ کہیں جو آپ نے مجھ سے کہا ہے۔ موصوف نے میرا شکریہ ادا کیا اور چائے درمیان میں چھوڑ کر اٹھ بیٹھے۔ مجھے یقین ہے وہ اس وقت بنی گالہ میں کسی گھریلو ملازم کے کوارٹر میں بیٹھے ہوں گے اور اس ستم ظریف ملازم کی باتوں میں آ کر ’’خصوصی مشیر برائے وزیر اعظم‘‘ کے نوٹیفکیشن کا انتظار کر رہے ہوں گے۔

یہ سطور لکھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ یہ کچھ زیادہ نہیں ہو گیا؟ ہو تو گیا ہے لیکن بند ہ بھی تو دیکھیں کیا ہے؟


مکمل خبر پڑھیں