بھارت امریکہ معاہدے اور بیانات!

September 08, 2018
 

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع جم میٹس کی نئی دہلی میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج اور وزیر دفاع نرملا سیتھا رامن سے ملاقاتوں کے بعد جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیے اور دیگر بیانات کا پاکستان کے متعلقہ محکموں میں احتیاط سے تجزیہ کیا جانا چاہئے جبکہ نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے معاہدوں کے مضمرات پر نظر رکھنے کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے۔مبصرین اگر بعض بیانات میں پاکستان کی طرف اشارہ یا پیغام دیکھ رہے ہیں تو بعض معاہدوں کے اسلام آباد اور خطّے پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کی نزاکت کو بھی محسوس کر رہے ہیں۔ جمعرات کو نئی دہلی میں مواصلات اور سیکورٹی سے متعلق جس معاہدے پر دستخط کئے گئے، عام تاثّر یہ ہے کہ اس کے ذریعے بھارت کو انتہائی حسّاس فوجی آلات کی فروخت کا راستہ کھل گیا ہے۔ امریکی وفد کی نئی دہلی آمد سے قبل اسلام آباد میں پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت سے ملاقاتوں کو اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری سردمہری کے خاتمے سے تعبیر کیا گیا ہے مگر قبل ازیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹر پر دیئے گئے پیغامات اور نئی دہلی اور واشنگٹن سے آنے والے دیگر بیانات کو بھی یکسر نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ امریکہ کی طرف سے بھارت کو حسّاس ٹیکنالوجی دینے کے اعلان، نیوکلیئر سپلائی گروپ میں بھارتی شمولیت کی حمایت کے اعادے، افغانستان میں قیام امن کے عمل میں نئی دہلی کا ’’تعاون‘‘ بڑھانے کے دعوے، سول ایٹمی توانائی پارٹنر شپ کے مکمل اطلاق پر رضامندی کے وسیع تر مفاہیم کا جائزہ لیے جانے اور پاکستان سے جو مطالبات کئے گئے ہیں ان کے سیاق و سباق پر نظر رکھے جانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اگرچہ بھارت سمیت تمام ممالک سے اچھے تعلّقات کا خواہاں ہے مگر ماضی کے بعض تجربات سے صرف نظر بھی ممکن نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی سفارت کاری کو زیادہ فعال کر کے عالمی امن کیلئے پاکستان کی قربانیوں اور مختلف امور پر اسلام آباد کے مؤقف سے دنیا کو آگاہ کریں۔


مکمل خبر پڑھیں