تجاوزات ایک سنجیدہ مسئلہ

September 10, 2018
 

ملک بھر کے شہر وں میں تیزی سے بڑھتی آبادیاں قبضہ مافیا اورتجاوزات کے باعث نہ صرف گنجان ہوئی ہیں اس کے ساتھ ساتھ سبزہ ختم،ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ،فٹ پاتھ غائب اورشہروں کی خوبصورتی کو گرہن لگ گیا جبکہ موجودہ اورخصوصاً آنے والے وقت میں آلودگی سے پاک ماحول اورسبزہ ہی شہروں کو گرمی کی شدت کم کرنے اورپانی کے درپیش بحران سے بچانے میں مدد دے سکے گا۔گزشتہ عشروں کے دوران بارہا تجاوزات کے خلاف آپریشن بھی کئے گئے لیکن اثرورسوخ یاعدالتوں سے حاصل کئے جانے والے امتناعی احکامات سے تجاوزات اورناجائز قبضے کے رجحانات کو مہمیز ملی اور اب شاید کوئی شہر ایسا نہیں جہاں سرکاری اراضی پرنجی مارکیٹیں،پلازے اورٹرانسپورٹ کے اڈے قائم نہ ہوں۔اس صورتحال کی مکمل بیخ کنی کیلئے حالات سازگار ہیں سپریم کورٹ کی طرف سے متعلقہ عدالتوں کوحکم امتناعی جاری کرنے کی ممانعت کے ساتھ ساتھ موجودہ صوبائی حکومتیں اس بارے میں سنجیدہ دکھائی دیتی ہیں۔اسلام آباد میں جمعرات کے روز شروع کئے جانے والے آپریشن کے بعد جلد ہی کراچی اورلاہور میں بھی بڑی کارروائیاں متوقع ہیں اس حوالے سے قبضہ گروپوں اور تجاوزات کے خلاف آپریشن کے لئے فہرستیں تیار کر لی گئی ہیں پہلے مرحلے میں سرکاری اراضی پرقابضین کے خلاف کارروائی ہوگی۔اس ضمن میں یہ بات بھی ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے کہ آپریشن کے دوران کوئی بھی ایسا ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہونے پائے جس سے شرپسندی کوہواملنے کا احتمال ہو ۔ریلوے کے وفاقی وزیر بھی اپنے محکمے کی وسیع اراضی قبضہ مافیا سے آزادکرانے کااعلان کرچکے ہیں اسی طرح دیگر گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس جیسے سرکاری ادارے جو اب بند ہوچکے ہیں ان کی قابض سے بھی زمینیں واگزار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ آپریشن ملک کے ہر شہر اور آبادی میں بلاامتیازکیا جانا چاہئے اوراسے تجاوزات اورناجائز قبضے کی مکمل بیخ کنی تک جاری رہنا چاہئے۔


اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998


مکمل خبر پڑھیں