تین ہزار روپے

September 12, 2018
 

حنا صدف

وہ بہت دیر سے نمائش چورنگی پر کھڑا بس کا انتظار کر رہا تھا۔ ٹریفک تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا لیکن بس تھی کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی، کچھ رکشہ و ٹیکسی ڈرائیور اپنی اپنی سواریاں سڑک پر کھڑی کر کے قریب ہی لگے ایک خیراتی ادارے کے دسترخوان پر بیٹھے کھانا کھانے میں مگن تھے۔بکرے کے گوشت کا سالن پراتوں میں ڈال کر اُن کے سامنے چُن دیا گیا تھا۔ مزمل نے ایک نظر دسترخوان پر ڈالی اور اپنے خشک لبوں کو زبان پھیر کر تر کیا۔ بھوک تو اس وقت اُسے بھی بہت لگی تھی، مگر ابّا جی نے ساری عمر خود داری کا جو درس دیتے آئے تھے وہ آج پھر آڑے آگیا تھا۔ روز جب کام سے فارغ ہو کر وہ بس کے انتظار میں یہاں آکر کھڑا ہوتا تو سالن کی خوشبو اُسے بار بار متوجہ کرتی، وہ پلٹ کر ایک نظر دسترخوان پر ڈالتا اور واپس مُڑ کر پھر سے سڑک کی جانب متوجہ ہوجاتا، بظاہر تو اس کی نظریں سامنے سے آتی گاڑیوں کو تک رہی تھیں، مگر اس کا ذہن تو گزشتہ کئی گھنٹوں سے کہیں اور اُلجھا ہوا تھا۔ بیسیوں فکریں مسلسل اس کے ذہن کا طواف کر رہی تھیں۔ مہینے کا یہ آخری ہفتہ زندگی کے بُرے دنوں کی طرح گزرنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا، اس پر ابا جی کی بیماری سر پر آن پڑی تھی جو ان سات دنوں کو روکنے کی کوشش میں اُس کی ٹانگوں سے لپٹے ہوئے گھسٹتی ہی چلی جا رہی تھی، بالکل اس چھوٹے ضدی بچے کی مانند جو اپنی ماں کا دامن پکڑے،اُسے روکنے کی کوشش میں زور آزمائی کرتے ہوئے زمین پر گرتا پڑتا ہے اور ماں کے ساتھ گھسٹتا چلا جاتا ہے۔

سیٹھ سے ابھی پچھلے مہینے ہی تو ادھار لیا تھا، اب ادھار دوبارہ ملنے کی توقع کرنا تو دور کی بات، پیسوں کا ذکر بھی کرتا تو پچھلے قرض کی واپسی کا مطالبہ ہو جاتا۔ سوچیں اعصاب کی تاروں کو پکڑ کر زور زور سے کھینچ رہی تھیں، دماغ میں ٹیسیں اُٹھ رہی تھیں کہ اتنے میں اُسے اپنی مطلوبہ بس آتی ہوئی دکھائی دی۔ بس کے منتظر تمام مسافروں کی طرح وہ بھی دوڑ کر بس کے استقبال کے لیے سڑک کے وسط میں جا پہنچا، سب ہی کو جلدی تھی، ہر کوئی پہلے سوار ہونے کا خواہش مند تھا، سب دھکم پیل میں لگے تھے، جبکہ بس کے دروازے کے ساتھ کھڑا کنڈیکٹر کسی ٹیپ ریکارڈر کی طرح مستقل بجے جا رہا تھا اور بار بار بس کے روٹ میں پڑنے والے علاقوں کے نام دُہرا رہا تھا۔ وہ نام جو اب اس بس میں سفر کرنے والے تقریباً تمام ہی مسافروں کو حفظ ہو چکے تھے۔ آخر کار جب سب مسافر بس میں اچھی طرح نصب ہو گئے اور کسی کے ہلنے تک کی جگہ نہ رہی تو کنڈیکٹر نے ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کیا۔ بس کے چلتے ہی سر پر لگے اسپیکر زور زور سے چنگھاڑنے لگے، پڑوسی ملک کے نغموں کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ تمام مسافر بس کی ہر ہر حرکت کے ساتھ جھوم رہے تھے کہ کنڈیکٹر کمال مہارت سے رش کو چیرتا ہوا ٹکٹ کی وصولی کے لیے آن پہنچا۔ اس کے آتے ہی مسافروں میں ہلچل بڑھ گئی،کچھ تو احتجاجاً بول اُٹھے،“ہلنے کی تو جگہ ہے نہیں، پیسے کہاں سے نکالوں؟” “بھائی آخری سٹاپ تک جانا ہے۔“ارے میاں ہم کوئی تمہارے دس روپے لے کر بھاگے جا رہے ہیں؟‘‘ طرح طرح کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں اور ساتھ ساتھ کچھ نے ہمت کر کے اپنے بٹوؤں اور جیبوں سے کرایہ نکالنا شروع کر دیا تھا، اسی اثناء میں مزمل کی نظر ساتھ کھڑے بڑے میاں کے بٹوے پر پڑی، جسے کھولے وہ کرایہ نکال رہے تھے۔ ہزار ہزار کے چند نوٹ دیکھ کر مزمل کی ساری ضرورتیں اس کے سامنے آکھڑی ہوئیں، ابا جی کی دوائیاں، گھر کے خرچے،سیٹھ کا قرض ‘اتنے پیسے مل جائیں تو یہ مہینہ آرام سے گزر جائے اور اگلے مہینے کی تنخواہ سے سیٹھ کا قرضہ بھی اُتر جائے’۔ شیطان نے ورغلایا۔ ‘خبردار!’ ضمیر نے سرزنش کی، مگر شیطان کے پاس تو بہت توجیہات تھیں کہ ضرورتیں ہیں، مجبوریاں ہیں، لہٰذا ضمیر کو ہار مانتے ہی بنی۔ ابا کی تربیت پر اُن کی بیماری سبقت لے گئی اور خودداری کو حالات و مجبوریاں لے بیٹھیں۔ چند لمحے ہی گزرے تھے کہ مزمل نے بس رکوانےکی آواز بلند کی، لعنت ملامت کرتے ڈرائیور نے جب تک بس روکی، وہ دیگر مسافروں کے ہجوم سے نکل کر دروازے تک آپہنچا تھا، بس کے رُکتے ہی اُس نے بس سے چھلانگ لگائی اور دائیں بائیں دیکھے بغیر تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا سامنے نظر آتی گلیوں میں داخل ہو گیا، نہ جانے کون سا علاقہ تھا اور وہ کہاں جا رہا تھا؟ اس کا ذہن بالکل ماؤف ہو چکا تھا، بس یہ خوف تھا کہ کوئی دیکھ نہ لے، اُس نے پہلے کبھی ایسا کام نہیں کیا تھا، ڈر اور شرمندگی کے مارے پسینے سے شرابور و ہ تقریباً بھاگتے ہوئے جب بہت دور نکل آیا تو اسے کچھ اطمینان ہوا۔ حواس بحال ہوئے اور یہ تسلی کر کے کہ کوئی دیکھ نہیں رہا تو اس نے ہاتھ میں پکڑا بٹوہ کھولا، اُس میں ہزار کے تین نوٹ اور دو سو روپے تھے۔ پیسے جیب میں اڑستے ہوئے مزمل نے خالی بٹوہ وہیں پھینکا اور اب قدرے اطمینان سے واپس بس اسٹاپ کا رُخ کیا۔

بس کے لیے پھر اُسے طویل انتظار کرنا پڑا لیکن اب وہ مضطرب نہیں تھا، اُس کی ساری فکروں اور پریشانیوں کا حل اُسے مل چکا تھا ، اسی لیے وہ مطمئن تھا کہ مہینے کا یہ آخری ہفتہ اب بہت آرام سے گزرنے والا تھا۔ کوئی دس منٹ کے انتظار کے بعد اُسے اپنی مطلوبہ بس آتی ہوئی دکھائی دی۔ پچھلی بس کی نسبت اس میں مسافروں کی تعداد کم تھی لہٰذا اُسے بیٹھنے کی جگہ بھی با آسانی مل گئی، مگر یہ کیا؟ بیٹھنے کی دیر تھی کہ ضمیر اُٹھ کھڑا ہوا اور لعن طعن شروع کر دی، “حرام کے مال سے ابّا کا علاج کروائے گا؟ بچوں کو کھلائے گا یہ چوری کا پیسہ؟ کسی نے نہ دیکھا ہو پر اللہ تو سب دیکھ رہا ہے۔” وہ کوئی پیشہ ور چور تو تھا نہیں اور نہ ہی کبھی پہلے اُس نے ایسا کوئی کام کیا تھا۔ ضمیر کی گالیاں اس قدر ناگوار گزریں کہ خود سے نفرت ہونے لگی، پھر سے پسینے میں نہا گیا اور یوں محسوس ہوا کہ کندھوں پر کسی نے منوں وزن لاد دیا ہو۔ ذہن نے ایک بار پھر کام کرنے سے انکار کر دیا۔ ساتھ بیٹھا شخص جو بہت دیر سے مزمل کو دیکھ رہا تھا آخر بول اُٹھا، “کیا ہوا بھائی؟طبیعت تو ٹھیک ہے؟” اس کی بات سُن کر مزمل اپنے گرد و پیش میں واپس آیا۔ کھڑکی سے باہر دیکھا تو علم ہوا کہ وہ اپنے اسٹاپ سے آگے نکل آیا ہے۔

سوچوں سے بیدار ہوتے ہی وہ ہڑبڑا کر اُٹھ کھڑا ہوا اور دروازے کی جانب لپکا، اسی دوران بس میں کھڑا ایک نوجوان اس سے ٹکرا گیا۔ غلطی تو نہ جانے کس کی تھی؟ اُسے کچھ سمجھ نہیں آیا، مگر اُس نوجوان نے ایک لمحے کی دیر کیے بغیر مزمل سے معافی مانگی اور کوئی رد عمل ظاہر کیے بغیر بس سے اُتر گیا۔ اسٹاپ سے گھر تک کا سفر یوں تو روز ہی مشکل لگتا تھا، آج تو ویسے بھی وہ کچھ آگے نکل آیا تھا۔ قدموں کو با مشکل گھسیٹتے ہوئے وہ گھر کی جانب روانہ ہوا۔ اس دوران ضمیر اور ضرورت بارہا آپس میں جنگ کرتے رہے، بالآخر جب گھر میں داخل ہوا تو گناہ اور ثواب کے خیالات کو جھٹک کر وہ اس فیصلے پر پہنچ چکا تھا کہ ایسے حالات میں چوری کر نا کوئی غلط اقدام ہر گز نہیں۔ گھر میں قدم رکھتے ہی اُس نے اپنی بیوی کو آواز دی، تاکہ اُسے یہ بتا سکے کہ پیسوں کا انتظام ہو گیا ہے۔ آواز دیتے ہوئے اُس نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو اس کی انگلیاں جیب سے آر پار ہوئیں تو مزمل کو احساس ہوا اس کی تو جیب ہی کٹ چکی ہے۔ وہ پیسے جو اُس نے کسی اور کی جیب سے چرائے تھے وہ پھر سے چوری ہو گئے ہیں، بس اتنا معلوم ہونے کی دیر تھی کہ اس کا چہرہ فق ہو گیا۔ شعور نے ضمیر کو شرمندگی کی گہری کھائی میں دھکیل دیا۔


مکمل خبر پڑھیں