اکیس……

September 11, 2018
 

’داکیس اکیس اکیس۔‘‘

ایک دیوانہ جشن ریختہ کے باہر کھڑا آواز لگا رہا تھا۔

میں اور ڈوڈو اسے دیکھ کر ٹھٹھک گئے۔

پھر اسے نظر انداز کر کے باتیں کرنے لگے۔

’’آج میری تصنیف حیدر سے ملاقات ہوئی۔

وہ انڈیا کا پبلشر ہے۔

اس نے میری کتابیں ہندی میں چھاپنے کا وعدہ کیا ہے۔

اس کے مطالبے پر میں نے اسے پچاس ہزار روپے دے دیئے ہیں۔‘‘

میں نے بتایا۔

’’وہ کتابیں چھاپے گا بھی یا نہیں۔

پیسے لے کر کہیں غائب نہ ہو جائے۔‘‘

ڈوڈو نے خدشہ ظاہر کیا۔

دیوانے نے دوبارہ آواز لگانا شروع کی،

’’بائیس بائیس بائیس!‘‘

(کہانی نویس کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں