جگہ جگہ سیوریج کا پانی، کچرے کے ڈھیر، متعدد علاقے تالاب بن گئے،شہری اذیت میں مبتلا

September 12, 2018
 

حیدرآباد ( بیورو رپورٹ) شہر کے متعدد علاقوں میں تاحال سیوریج کا پانی اور کچرے کے ڈھیر جمع، فقیر کا پڑ میں کچرے کے ڈھیر سے تعفن اٹھنے کے باعث قریبی اسکول کی متعدد طالبات بے ہوش جبکہ عشرہ محرم الحرام کے دوران ماتمی جلوسوں اور امام بارگاہوں کے مرکزی علاقے سیوریج کے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، بلدیہ اور واسا انتظامیہ کی نااہلی اور بے حسی نے شہریوں کو اذیت میں مبتلا کردیا ہے، گذشتہ دو ہفتے سے شہر کے متعدد علاقوں میں سیوریج کا پانی تالاب کی صورت میں جمع ہے، جس کی وجہ سے شہری اپنے گھروں تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں، گڈز ناکہ گذشتہ ایک ماہ سے سیوریج کے پانی میں ڈوبا ہوا ہے جس کی نکاسی کے لئے انتظامیہ لا تعلق بنی ہوئی ہے، اسی طرح فقیر کا پڑ میں ایس کے رحیم اسکول کے برابر گذشتہ کئی ماہ سے کچرے کا ڈھیر جمع ہے جس سے تعفن اٹھنے کے باعث اسکول کی متعدد طالبات بے ہوش ہوچکی ہیں، اسی طرح ٹنڈو ولی محمد، جانی شاہ محلہ، ٹنڈو میر محمود، تین نمبر تالاب سمیت ماتمی جلوسوں کے مرکزی علاقوں قدم گاہ اور گاڑی کھاتہ میں سیوریج کا پانی جمع اور گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، جبکہ ماتمی جلوسوں کے مرکزی علاقوں میں روشنی کے انتظامات بھی نہیں کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اولڈ سٹی ایریاز کے نکاسی آب کے تمام بڑے نالوں پر تجاوزات قائم اور نالے بند ہونے کی وجہ سے سیوریج کے پانی کی نکاسی تقریباً بند ہے، جس کی وجہ سے سیوریج کا پانی سڑکوں، گلیوں اور گھروں میں جمع ہے۔


مکمل خبر پڑھیں