امریکی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے، انٹرنیشنل کرمنل کورٹ

September 12, 2018
 

لندن(جنگ نیوز)انٹرنیشنل کرمنل کورٹ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی ڈونلڈ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے ججوں پر پابندیوں کی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہو گی اور جنگی جرائم (وار کرائمز) کی تخقیقات جاری رکھے گی۔ امریکی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر جان بولٹن کی جارحانہ تقریر کا جواب دیتے ہوئے ہیگ میں قائم آرگنائزیشن نے کہا کہ وہ ایسی دھمکیوں کی وجہ سے گلوبل مشن سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ مختصر بیان میں آئی سی سی نے کہا کہ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ ایک آزاد اور غیر جانب دار انسٹی ٹیوشن ہے اور اس کا کام جرائم کے الزامات کی تحقیقات کرنا اور متاثرہ کمیونیٹز کو انصاف فراہم کرنا ہے۔ ان الزامات کی تحقیقات اسی صورت میں ہوتی ہے، جب ریاست متاثرہ کمیونٹیز کو انصاف فراہم کرنےمیں ناکام رہتی ہیں یا انہیں انصاف دینے سے انکار کرتی ہیں ۔ بیان میں کہا گیا کہ آئی سی سی کورٹ آف لا کے طور پر بلا خوف و خطر اپنا کام جاری رکھے گی اور مظالم کے شکار افراد کو انصاف کی فراہمی اور جنگی جرائم کی تحقیقات کا کام کرتی رہے گی۔ یہ ادارہ انصاف کی بالادستی کے اصولوں پر کاربند ہے۔ امریکی ایڈوائزر جان بولٹن کے اس جارحانہ بیان پر کئی قانونی ماہرین نے بھی رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ لندن میں قائم انٹر نیشنل بار ایسوسی ایشن (آئی اے بی) کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مارک ایلیس نے کہا کہ جان بولٹن کی جانب سے آئی سی سی پر غیر معمولی حملہ ناصرف جنگی جرائم کے احتساب کے اصولوں سے سراسر متصادم اور منافی ہے بلکہ یہ بیان امریکی صدر ٹرمپ کی استثنائی پالیسی کی توثیق کرتا ہے۔امریکہ دوسروں کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا درس دیتا ہے لیکن خود اس سے انحراف کر رہا ہے۔امریکن سول لبریشن یونین ہیومن رائٹس پروگرام کے ڈائریکٹر جمیل ڈاکار نے کہا کہ آئی سی سی کا قیام جنگی جرائم ناانصافیوں قتل عام انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات کیلئے عمل میں لایا گیا تھا۔ یہ ادارہ اس وقت کام کرتا ہے جب ریاستیں خود تخقیقات کرنے سے انکار کرتی ہیں۔ امریکی ایڈمنسٹریشن کی یہ دھمکی تاریک دور کی یاد تازہ کرتی ہے۔افغانستان میں ہیومن رائٹس کمیشن کی سیما ثمر نے کہا کہ میرے ملک میں انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات کی تحقیقات انتہائی اہم ہیں۔انہوں نے کہا کہ مظلوموں کو انصاف کی فراہمی سے میرے ملک افغانستان میں امن کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی لیکن جنگی جرائم کی تحقیقات کے حوالے سے امریکی رویہ انتہائی غلط اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کوئی لگژری نہیں بلکہ بنیادی انسانی حق ہے۔ فلسطین اتھارٹی نے کہا کہ وہ امریکہ کی جانب سے واشنگٹن میں پی ایل او آفس بند کرنے کے فیصلے پر اپنے اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات کے اصول سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔


مکمل خبر پڑھیں