ای او بی آئی اورعدالتی نوٹس

September 12, 2018
 

یہ کہنا بےجانہ ہوگاکہ ای او بی آئی کے پنشنرز وطن عزیزکے مظلوم ترین افراد میں شامل ہیں جن کےلئے اس معمولی سی رقم کا حصول جوئے شیر لانے کےمترادف ہوتا ہے جووہ دوران ملازمت اپنی تنخواہ سے منہا کرواتے ہیں۔ اول تو پنشن کے اجرا کیلئے انہیں دفتری بابوئوں کے دربار میں درجنوں حاضریاں دینا پڑتی ہیں، اخبارات میںشائع ہونیوالے پنشنروں کے مراسلات درحقیقت ظلم و زیادتی کی داستانیں ہوتے ہیں۔ پنشن کا حصول بھی دن بھر لائن میں کھڑے افراد کیلئے اذیت ناک ہے۔ افسوس کہ حکومتی توجہ بھی اس طرف کم ہی رہی۔ ان حالات میں بھی اس ادارے کےمعاملات نیک نیتی اور دیانتداری سے نہ چلائے گئے تو اس سے زیادہ ظلم کیا ہوگا۔ انہی بے ضابطگیوں کو دیکھتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن اور مراعات کے محافظ ادارے ’’دی ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیٹیوشن‘‘ (ای اوبی آئی) کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے دور ِ حکومت کے چیئرمین اور نیب کے مختلف ریفرنسز کے ملزم ظفر اقبال گوندل کے خلاف درج مقدمات میں دفاع کیلئے ای او بی آئی فنڈز سے مختلف پرائیویٹ وکلا کو 5کروڑ روپے کی رقم بطور فیس ادا کرنےکیخلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران خلاف ضابطہ بھاری فیسیں وصول کرنیوالے وکلا کو ایک بار پھر اپنی پوزیشن واضح کرنے اور اٹارنی جنرل کو فیسوںکے نوٹیفکیشن کی کاپی فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جس وقت یہ فیسیں ادا کی گئیں ای او بی آئی تباہ حال تھا ۔ غریب پنشنرز کا پیسہ انتہائی بےپروائی سے بانٹا گیا۔ بادی النظر میں پرائیویٹ وکلا کو خطیر رقم کی خلاف ِ ضابطہ ادائیگی خیانت دکھائی دیتی ہے۔ اس ظلم پرعدالت ِعظمیٰ کا ازخود نوٹس اور بلاامتیاز کارروائی کا عندیہ خوش آئند ہے کہ عدل تو ہے ہی یہی کہ جس کا جو حق ہے اس تک باعزت طریقے سے پہنچایاجائے۔ امید ہے عدلیہ کے نوٹس کے بعد نہ صرف ای اوبی آئی کے معاملات درست ہوںگے بلکہ پنشنرز کی مشکلات کا بھی خاتمہ ہوگا۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998


مکمل خبر پڑھیں