اقوام متحدہ کے میکنزم کا پابند کوفی عنان

September 12, 2018
 

اقوام متحدہ کے ساتویں سیکرٹری جنرل (1997تا 2006) کوفی عنان کا 80 سال کی عمر میں 18اگست کو سوئٹزرلینڈکے شہر برن میں انتقال ہوا اور کوفی عنان فائونڈیشن سے اس کا اعلان بھی فوراً کردیا۔ عالمی شخصیات اور سربراہان مملکت و حکومت نے اپنے تعزیتی پیغامات بھی جاری کردیئے۔ اقوام متحدہ کا پرچم بھی سرنگوںہوا لیکن تادم تحریر ان کی تدفین اس کالم کی اشاعت کے بعد 13 ستمبر کو ہوگی۔ موت اور تدفین کے درمیان 25 روز کا طویل وقفہ جستجو اور فکر و تدبر کی دعوت بھی دیتا ہے۔ وہ اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلے افریقی نژاد سیاہ فام سیکرٹری جنرل تھے اور دو مرتبہ سیکرٹری جنرل کے عہدے پر یکے بعد دیگرے منتخب بھی ہوئے۔ وہ اس لحاظ سے بھی تاریخ کے پہلے ایسے سیکرٹری جنرل تھے جو اقوام متحدہ کے نظام میں ہی مختلف عہدوںپر ترقی پاتے ہوئے سیکرٹری منتخب ہوئے۔ مگر اپنے تمام تر انتظامی تجربہ اور مذکورہ تمام تاریخی پہلوئوں کےباوجود مختلف حلقوں کی جانب سے ان پر سخت تنقید، الزامات بلکہ ایک موڑ پر استعفیٰ کا مطالبہ بھی سننے کو ملا۔ تنازع کشمیر پر انہوںنے ماضی سے مختلف ایسا موقف اختیار کیا کہ جو نہ تو تنازع کی صورتحال تبدیل کرسکا اور نہ ہی بھارت یا پاکستان ناراض ہوسکے اور وہ اقوام متحدہ کی اس معاملے میں عالمی ذمہ داریوں کو بھی سائیڈلائن کرکےنکل گئے۔ ان کی سیکرٹری جنرل شپ کے دوران امن و جنگ اور دیگر عالمی امور کی صورتحال اتنی پریشان کن اور کنفیوژن کا شکار رہی کہ بعض حلقے انہیں برتر عالمی طاقتوں کا معاون اور ان کے ایجنڈے میں مددگار ہونے کا الزام دیتے جبکہ کوفی عنان کے مداح اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ اقوام متحدہ انٹرنیشنل برادری کا ادارہ ہے اور یہاںوہی کچھ ہوتا ہے جو اقوام متحدہ کے میکنزم میںموجود عالمی برادری کی خواہش ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل عالمی برادری کے فیصلوں کا پابند ہے۔ کوفی عنان سے پہلے بھی یہ اصول کارفرما رہا ہے اور ان کے بعد آنے والے سیکرٹری جنرل بھی اسی اصول کے پابند ہیں۔ اس کے باوجود کوفی عنان ایک عالمی مدبر، ڈپلومیٹ اورعالمی شخصیت تھے جو انتہائی بحران اور دشوار حالات میں بھی نہ صرف امن کیلئے سرگرم رہے بلکہ انہوں نے اقوام متحدہ کی تاریخ میں اپنا تاثر چھوڑا ہے۔

کوفی عنان افریقی ملک گھانا کے شہری اور سپوت تھے۔ انہوں نے تعلیم کی تکمیل کے بعد اقوام متحدہ جنیوا میں ایک نوجوان افسر کے طور پر ذیلی ادارہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن میں سروس کا آغاز کیا اور ساتھ ہی ساتھ مزید تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز نیویارک میں بھی مختلف عہدوںپر خدمات انجام دیں اور ممتاز امریکی تعلیمی اداروںسے بھی ایوارڈز حاصل کئے اور اقوام متحدہ کے پیس کیپنگ آپریشنز کے امور کے انڈر سیکریٹری جنرل کے عہدے تک جاپہنچے۔ کشمیر میں پاک۔بھارت کنٹرول لائن پر متعین اقوام متحدہ کے مبصرین کا مشن بھی کوفی عنان کی نگرانی میں تھا۔ اسی دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بطرس غالی کی سبکدوشی سے قبل نئے سیکرٹری جنرل کی تلاش شروع ہوئی اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے درمیان اثر و رسوخاور حکمت عملی کی ابتدائی پنجہ آزمائی کے بعد پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کے نظام کے اندر سے سیکرٹری جنرل کے عہدے پر کوفی عنان کو نامزد اور پھر منتخب کرلیا گیا۔ اقوام متحدہ میں مختلف عہدوںپر سروس کے دوران کوفی عنان بڑی سادگی کے ساتھ یو این کے انٹرنیشنل سرونٹکے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے لیکن سیکرٹری جنرل بنے تو فرنٹلائن پر آکر عالمی طاقتوں کے کھیل اور ایجنڈے کا سامنا کرنا پڑا۔ سوویت یونین کی مملکت ٹوٹکر چھوٹے آزاد ملکوںمیںتقسیم ہوچکی تھی اور عالمی صورتحال پر اس کے اور دیوار برلن کے ٹوٹجانے کے اثرات موجود تھے۔ سابق یوگوسلاویہ کے علاقوں میںنسلی و مذہبی منافرت کو بنیاد بناکر بوسنیا ہرزوگوینا اور دیگر علاقوں میں مسلمانوں کا خون کھل کر بہایا جاچکا تھا۔ خلیج کی جنگ اور کویت کی تباہی کے منفی اثرات عالمی سطحپر مرتب ہوچکے تھے۔ بارود اور خون کی فراوانی پر ہر سمت اور ہر سطح پر غیریقینی کا دور دورہ تھا۔ 1997 میں کوفی عنان نے عہدہ سنبھالا اور عالمی برادری کے فیصلے کے مطابق عراق کے تمام ہتھیار تباہ کرکے اسے غیر مسلحکرنے کا اعلان کردیا گیا۔ عراق پر پابندیوں اور غیرمسلحکئے جانے کے ایام میں مغربی ملکوں کی کمپنیوں نے عراق کے تیل اور دیگر اثاثوں کی جو بے دردی کے ساتھ لوٹمار کی وہ انسانی تاریخ کا المناک حصہ ہے۔ پھر ’’آئل فار فوڈ‘‘ کے عنوان سے جو پروگرام شروع کیا گیا اس کا بنیادی مقصد عراق کے تباہ شدہ عوام کو تیل کے بدلے خوراک اور دیگر لازمی ضروریات کی اشیاء فراہم کرنا تھا اس کیلئے اقوام متحدہ کی قرارداد اور میکنزم کی آڑ میں بھی ایسی کرپشن ہوئی کہ کوفی عنان اور اقوام متحدہ کے متعدد اہم عہدیداروں کو بھی الزامات کی لپیٹمیں لے لیا گیا جبکہ اس گیم کے اہم پلیئر بچ نکلے۔ کوفی عنان سے استعفیٰکا مطالبہ بھی ہوا اور ان کے چیف آف اسٹاف (شیف دی کیبنٹ) پاکستانی اقبال رضا بھی محضفروعی الزامات کے تحت مستعفیہونے پر مجبور کردیئے گئے۔ اقوام متحدہ کا ہیڈکوارٹرز سفارتی و الزامی جنگ کا ایسا محاذنظر آتا تھا کہ جس میںہر طرف سے یلغار کوفی عنان اور ان کے معاونین و مداحین پر کی جارہی تھی۔ اس کی اصل وجہ میرے مشاہدے کے مطابق یہ تھی کہ کوفی عنان عراق کے خلاف جنگ اور پابندیوں کے حق میں نہ تھے۔ وہ اقوام متحدہ کے چیف انسپکٹر سویڈش نژاد ہانس بلکس کی اس رپورٹ کے حامی تھے کہ عراق کے پاس انسانی تباہی کے بائیولوجیکل یا کیمیائی ہتھیار نہیں ہیں لہٰذا عراق پر حملے کی ضرورت نہیں۔ ہانس بلکس کو اس رپورٹکے باعثجس انداز سے یو این او سے فارغکیا گیا وہ مناظر اور لمحے مجھے آج بھی یاد ہیں کہ ہانس بلکس اقوام متحدہ کی عمارت میں میرے کمرے کے سامنے سے گزرتے ہوئے آخری بار جو جملے ادا کررہے تھے وہ بعد میںکتنے سچے ثابت ہوئے۔ ان حقائق کو بیان کرنے کا مقصد یہ واضحکرنا ہے کہ افریقی ملک گھانا کے کوفی عنان افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے ممالک کے مسائل کو سمجھتے تھے اور اقوام متحدہ کے میکنزم سے بھی واقف ضرور تھے مگر بڑی طاقتوں کی اقوام متحدہ پر اجارہ داری اور اقوام متحدہ کے میکنزم میںاپنی بے اختیاری سے بھی واقف تھے۔ اسی لئے جب کبھی میںنے ان سے کسی پریس کانفرنس یا بریفنگ میں تنازع کشمیر حل کرانے میں رول ادا کرنے کے بارےمیں سوال کیا تو انہوںنے اپنے ذہین بھارتی نژاد معاون ششی تھرور کے مشورے پر یہ موقف اختیار کرلیا کہ ہاںمیں بطور سیکرٹری جنرل مسئلہ کشمیر میں اپنا رول ادا کرنے کو تیار ہوںبشرطیکہ بھارت اور پاکستان دونوںمجھے ایسا رول ادا کرنے کو کہیں۔ جب کشمیر بارے سلامتی کونسل کی قراردادوں کا حوالہ دیا جاتا تو جواب ملتا کہ عالمی برادری مجھے حکم دے، میںتعمیل کیلئے اپنی ذمہ داریاںادا کرنے کو تیار ہوں۔

مجھے کوفی عنان کے نو سالہ دور میں ان کا قریب سے مشاہدہ، گفتگو اور شخصیت سمجھنے کے مواقع ملے۔ اقوام متحدہ میںگزشتہ 70 سال سے قائم اور اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ صحافیوںکی عالمی تنظیم ’’یو این کارسپانڈنس ایسوسی ایشن کے فنانس سیکرٹری تین مرتبہ سیکرٹری جنرل منتخب ہوکر صحافیوںکے مسائل و مراعات بارے بھی ذمہ داریاںادا کرتے ہوئے کئی مراحل سے گزرنا پڑا لیکن اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرز میں متعین دنیا بھر سے صحافیوں کی اس تنظیم کے معاملات میںکوفی عنان اور ان کے معاونین کو ہمیشہ مفید اور ہمدرد پایا۔ سانحہ ورلڈٹریڈ سینٹر 11ستمبر 2001کے بعد کے مشکل حالات کے باوجود جب میںاپنے انتخابی حریف امریکی صحافی کو الیکشن میںشکست دیکر عالمی صحافیوںکی تنظیم کا صدر منتخب ہوگیا تو اسی روز کوفی عنان نے اپنے معاون برائے میڈیا کے ذریعے جو ہمت افزا پیغام دیا وہ مسلمانوں کیلئے سخت کشیدہ حالات کے اس دور میں ایک پاکستانی مسلمان صحافی کیلئے بڑی ہمت افزائی اور اعزاز کا باعثتھا۔ کوفی عنان اقوام متحدہ کے میکنزم اور اپنے عہدہ کے دائرہ اختیار کی حدود کی پاسداری پر مجبور تھے۔ اسی لئے جب ان کیخلاف عراق کیلئے آئل برائے خوراک کے پروگرام کے حوالے سے الزامات کی مہم چلائی گئی تو وہ انتہائی تحمل اور وقار کے ساتھ وضاحت اور اپنا موقف بیان کرنے پر اکتفا کرتے۔ ایک بار کوفی عنان پاکستان کے دورے پر آئے، میرے محترم ریاض محمد خان سیکرٹری خارجہ تھے اور میں ذاتی مصروفیات کے سلسلے میں پاکستان اسلام آباد میں موجود تھا۔ ریاض محمد خان مجھے اپنے ہمراہ ایئرپورٹلے گئے، سیکرٹری جنرل کوفی عنان کے ترجمان فریڈاکہارڈ نے مجھے دیکھا اور سیکرٹری جنرل کو بھی مطلع کردیا۔ میں ان دنوںخدا کے فضل سے عالمی صحافیوں کی تنظیم کا صدر تھا۔ ترجمان فریڈ اکہارڈ نے اسلام آباد میں میزبانوںکو مطلع کردیاکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل جو پریس کانفرنس کرنیوالے ہیںاسکا آغاز یو این کی صحافتی تنظیم کا صدر کرے گا۔ ابتدائی گفت و شنید اور فریڈاکہارڈکے سخت موقف کے بعد مسئلہ طے پایا۔ کوفی عنان کی پریس کانفرنس کے آغاز پر وزارت اطلاعات کے افسر محترم ندیم کیانی (موجودہ پوسٹنگ اوٹاوا کینیڈا) نے اعلان کرتے ہوئے مجھے پریس کانفرنس کا آغاز اپنے خیرمقدمی کلمات اور سوال سے کرنے کو کہا۔ نیویارک واپسی کے بعد ترجمان فریڈاکہارڈنے اسلام آباد کے واقعہ کی جو تفصیل مجھے بتائی وہ بطور پاکستانی میرے لئے خفگی کا باعثاور کوفی عنان کا دلی شکریہ ادا کرنے کا باعثبنی۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں