ڈار کی وطن واپسی کا طریقہ کار ایک ماہ میں طے کیا جائے، سپریم کورٹ

September 12, 2018
 

اسلام آباد(نمائندہ جنگ، نیوز ایجنسیاں )سپریم کورٹ نے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی مشاورت سے اسحق ڈار کی وطن واپسی کیلئے ایک ہفتہ میں طریقہ کار طے کرنے کی ہدایت کردی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ سفری دستاویزات منسوخ اور مفرور قرار دیئے جانے کے باوجود کیا اب بھی ریاست اسحق ڈار کو واپس نہیں لا سکتی؟۔سپریم کورٹ میں اسحق ڈار کی وطن واپسی سے متعلق کیس کی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسحق ڈار کا سفارتی اور عام پاسپورٹ منسوخ کیا جا چکا ہے۔ نیب کی درخواست پر وزارت داخلہ نے ان کو بلیک لسٹ کردیا، اس وقت اسحق ڈار کے پاس کوئی سفری دستاویز نہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا اسحق ڈار کیسے واپس آئے گا، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا اسحق ڈار کو وطن واپس لانے کیلئے طریقہ کار موجود ہے۔ چیف جسٹس نے انور منصور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا اٹارنی جنرل کیا آپ نے یہ معاملہ دیکھا ہے ؟ اسحق ڈار کو مفرور قرار دینے کا آپ کو علم ہوگا، اب بھی ریاست اسحق ڈار کو واپس نہیں لاسکتی ؟۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا برطانیہ سے تحویل ملزمان کا معاہدہ موجود ہے۔اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے پر متعلقہ حکام سے بات کی ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا ہمارا برطانیہ سے ملزمان کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں، اٹارنی جنرل نے کہا اس کیلئے وہاں کی عدالتوں میں جانا پڑیگا۔


مکمل خبر پڑھیں