رہائشی علاقوں میں قائم ٹی وی چینلز کو دفاتر خالی کرنے کیلئے 4ہفتے کی مہلت

September 12, 2018
 

اسلام آباد (نمائندہ جنگ )عدالت عظمیٰ نے اے آر وائی اور بول ٹیلی ویژن نیٹ ورک سمیت رہائشی علاقوں میں قائم تما م ٹی وی چینلز کو اپنے اپنے دفاتر خالی کرانے کے لئے کیلئے چار ہفتوں کی آخر ی مہلت دیتے ہوئے وہاں کے رہائشیوں کو تکلیف سے بچانے کے لئے وہاں پر ان کے ڈی ایس این جی گاڑیاں کھڑی کرنے پر پابندی عائد کردی ہے ،عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر چار ہفتوں میں یہ دفاتر یہاں سے منتقل نہ کئے گئے تو اسے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی تصور کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی، دوران سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ کسی بھی ہائی کورٹ کو کسی قسم کا بھی از خود نوٹس لینے کا کوئی اختیار نہیں ہے ،لیکن ہم خود بھی یہ نہیں چاہتے کہ رہائشی علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں کرکے وہاں کے مکینوں کا امن و سکون تباہ کیا جائے ،یا ٹیلی ویژن چینلز بڑی بڑی گاڑیاں ( ڈی ایس این جی ) کھڑی کرکے ٹریفک کا مسئلہ کھڑا کریں، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے منگل کے روز اے آر وائی اور بول ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی ، اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے رہائشی علاقوں میں قائم ٹی وی چینلز کو دفاتر خالی کرانے کے لئے از خود نوٹس کے تحت کارروائی کرنے کے مبینہ اقدام کے الزام میں دائر کی گئی آئینی درخواستوں کی سماعت کی توجسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیوں کے خاتمہ سے متعلق سپریم کورٹ کا حکمنامہ موجود ہے، پھراچانک ہی حکم آ گیا کہ دو گھنٹے میں عملدرآمد کیا جائے، جس پر سی ڈی اے کے وکیل منیر پراچہ نے کہا کہ رہائشی علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں کے خاتمہ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے حکم پر سی ڈی اے کارروائی کررہا تھا تو انہی درخواست گزاروں نے سی ڈی اے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں جس پر،اے آر وائی، بول اورکیپٹل ٹی وی کے علاوہ بھی کچھ دیگر ٹی وی اور اخبارات کی انتظامیہ نے ہائی کورٹ میں بیان حلفی جمع کروائے تھے کہ 30اگست تک ان کے دفاتر رہائشی علاقوں سے منتقل کر دیئے جائیں گے،جس پر فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ ٹی وی چینلز والوں نے توʼʼ آبیل مجھے مار ʼʼوالا کام کیا ہے ،جب یہ اس مقدمہ میں فریق ہی نہیں تھے تو انہیں ہائیکورٹ میں جاکر فریق بننے کا کس نے کہا تھا؟ یہ سی ڈی اے کے خلاف سول کورٹ بھی جاسکتے تھے، ہائیکورٹ میں ہی فریق کیوں بنے ہیں، جس پر اے آر وائی کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ جس طرح یہاں پر کسی بھی ادارے کے رپورٹر کو روسٹرم پر بلا کر کوئی حکم جاری کردیا جاتاہے اسی طرح ہائیکورٹ نے بھی متعلقہ رپورٹرز کے ذریعے ہی ٹی وی چینلز کو فریق بنایا ہے ،جس پر جسٹس اعجا ز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہائیکورٹ نے اپنا دائرہ اختیار کیسے بڑھالیا ہے ؟ چیف جسٹس نے کہا کہ رہائشی علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں کے خاتمہ کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ برقرار ہے اور درخواست گزاروں کو اپنے دفاتر منتقل کرنے کے لئے کچھ مہلت دی جاسکتی ہے ،جس پر فیصل چوہدری نے کہا کہ ہمیں 8ماہ کی مہلت دی جائے ،تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کو 6ہفتوں کی مہلت دے دیتے ہیں ، اگر بہت ہی مسئلہ ہے تو فی الحال اپنا سیٹ اپ اسلام آباد کی بجائے کسی دوسرے سٹیشن پر منتقل کردیں ، ابھی انہوں نے اس حوالے سے حکم لکھوانا ہی شروع کیا تھا کہ فیصل چوہدری نے عدالت سے 3ماہ تک مہلت دینے پر اصرار کیا ،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر ایمانداری کی بات کی جائے تو میں تو چھ ہفتے کا وقت دینے پر بھی خوش نہیں ہوں، درخواست گزاروں کے ٹیلی ویژن چینل ہونے کی وجہ سے امتیازی سکول کرتے ہوئے قانون میں رعایت نہیں دی جا سکتی ہے ،جس چیف جسٹس نے کہا کہ میری غلطی ہے کہ میں نے آرڈر لکھوانے سے قبل اپنے برادر ججوں سے مشاورت نہیں کی ،انہوں نے دونوں فاضل ججوں سے مشاورت کے بعد 6ہفتوں کی مہلت کا حکم واپس لیتے ہوئے اپنے ئے حکمنامہ میں رہائشی علاقوں میں قائم تما م ٹی وی چینلوں کو ایک ماہ کے اندر اندر اپنے دفاتر منتقل کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ ٹیلی ویژن چینلز اس عرصہ کے دوران اپنے دفاتر کے باہر اپنی ڈی ایس این جی گاڑیاں بھی کھڑی نہیں کریں گے ،بعد ازاں فاضل عدالت نے درخواستیں نمٹا دیں۔


مکمل خبر پڑھیں