تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال صورتحال سنگین ہو گئی

September 12, 2018
 

اسلام آباد(نمائندہ جنگ) سیکرٹری نارکوٹکس کنٹرول نے اعتراف کیاہے کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال سنگین صورتحال اختیار کرچکا ہے لیکن سول سوسائٹی اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اے این ایف سے موثر تعاون نہیں کرتی ،دنیا بھر میں رابطوں کا نظام آئی ٹی کے ذریعے چلایا جاتا ہےمگراے این ایف کے پاس آئی ٹی ماہرین کی سہولت ہی نہیں،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسداد منشیات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹرکہدہ بابر کی زیر صدارت ہوا جس میں وزارت انسداد منشیات اور اس کے ماتحت اداروں کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی ،وزارتی حکام نے بتایا کہ ہمارا مقصد زیادہ سے زیادہ منشیات روک تھام کے حوالے سے آگاہی پھیلانا ہے لیکن ادارے کو حکومت کی طرف سے تعاون کی ہمیشہ سے کمی رہی ہے ، اقوام متحدہ کی جانب سے 2001 میں پاکستان کو پوپی فری درجہ دیا گیا ، ایسے علاقے جہاں پوست کی کاشت ہوتی ہے وہاں پر غیر ملکی امداد سے متبادل کاشت کی سہولیات میں مدد کی گئی،منشیات کے استعمال کو کنڑول کرنے کے حوالے سے پاکستان یو این سی این ڈی کا اجلاس اکتوبر میں پاکستان میں ہوگا، چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ ایچ ای سی کوتعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام اوروزارت انسداد منشیات کنڑول کے عملے کے ساتھ تعاون کرنے کے حوالے سے خط لکھا جائے گا ،کمیٹی کو ادارے کے حوالے سے درپیش مسائل بارے تفصیلی آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ ادارے کی استعداد کار منشیات کنڑو ل کے حوالے سے نا کافی ہے ،بین الصوبائی رابطہ ایک اہم مسئلہ ہے ،باربار چیف سیکرٹریز سے منطوری لینی پڑتی ہے جو تاخیر کا سبب بنتی ہے،ادارے کے پاس آئی ٹی ماہرین کی کوئی سہولت نہیں ہے ، چیئرمین کمیٹی نےآئندہ اجلاس میں چاروں صوبائی چیف سیکرٹریز کو بریفنگ کیلئے طلب کر لیا،ڈی جی اے این ایف نے بتایا کہ ہمارا ادارہ صرف بیرون ممالک سے ہونیوالی منشیات کی اسمگلنگ کو روکتا ہے لیکن ملک کے اندر ہونے والی اسمگلنگ کو کنڑول کرنے کیلئے عملہ نہ کافی ہے ،تین ہیلی کاپٹر مرمت نہ ہونے کی وجہ سے ناقابل استعمال ہیں، چیئرمین کمیٹی نے سزا یافتہ اسمگلروں کے منجمند اثاثوں کی تفصیل طلب کر لی ،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہمارا مقصد آنے والی نسلوں کو نشے کی لعنت سے بچانا ہے ، اجلاس میں بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر فاتحہ خوانی بھی کی گئی ۔


مکمل خبر پڑھیں