سیاسی منظر نامہ، نشیب و فراز کی شکار کلثوم نواز شوہر کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں

September 12, 2018
 

اسلام آباد( طاہر خلیل)تین بارخاتون اول رہنے والی بیگم کلثوم نواز کی زندگی پاکستان کےسیاسی نظام کی طرح نشیب و فراز کا شکار رہی لیکن وہ ڈٹ کر اپنے شوہر میاں نواز شریف کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں۔بیگم نصرت بھٹو کے بعد وہ پاکستان کی دوسری خاتون اول تھیں جو قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ سانحات کے حوالے سے بھٹو اور شریف خاندانوں میں کئی مماثلث پائی جاتی ہیں، جب ذوالفقار علی بھٹو کو جنر ل ضیاء کی فوجی حکومت نے پابند سلاسل کیا تو بیگم بھٹو میدان میں آگئیں اور بہادری سے حالات کا مقابلہ کیا۔ اسی طرح جب میاں نواز شریف کواقتدار سے الگ کرکے جیل بھیجا گیا تو بیگم کلثوم نے ایک نڈر او ردلیری سے مزاحمتی تحریک کی قیادت کی جس وجہ سے پرویز مشرف حکومت انہیں جلا وطن کرنے اور رہا کرنے پر مجبور ہوئی۔ پاکستان کی تاریخ میں جتنی خواتین اول آئیں ان سب میں وہ زیادہ پڑھی لکھی خاتون اول قرار پائی تھیں اردو ادب میں ان کا وسیع مطالعہ تھا۔ ایک اورمماثلت جو بھٹو اور شریف خاندان کا حصہ بنی 1979میں جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہوئی تو ان کے دونوں بیٹے مرتضی اور شاہنواز لندن میں تھے،وہ اپنے مرحوم والد کے جنازے میں شریک نہیں ہوسکے تھے اس وقت ماں بیٹی(نصرت بھٹو اور بے نظیر)سہالہ ریسٹ ہائوس میں قید تھیں اب بھی بیگم کلثوم کے دونوں صاحبزادے حسین اور حسن کو اپنی والدہ کی تدفین میں شرکت کا موقع نہیں ملے گا کیونکہ احتساب عدالت نے انہیں مفرور قرار دے رکھا ہے۔آج بیٹی اور والد جیل میں ہیں، بیگم کلثوم نواز کی زندگی کے بعض یادگار پہلو اندھیروں میں جگنو بن کر چمکیں گے۔1994 میں جب مسلم لیگ (ن) نے پی پی پی حکومت کے خلاف تحریک نجات شروع کی تو نوازشریف کے جیل جانے کی صورت میں بیگم کلثوم نوازقیادت کی ذمہ داری سونپنے کی تجویز سامنے آئی تھی۔سینیٹرمشاہدحسین کی دلیل یہ تھی کہ ایک تو بیگم کلثوم نواز دبنگ، نڈر اور مضبوط اعصاب کی مالک ہیں۔ دوسرا یہ کہ وہ میاں نوازشریف کی سوچ کی بہترین عکاس ہیں اور ان میں قائدانہ صلاحیتیں موجود ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں