نواز شریف نے جیل میں آج کون سا شعر سنایا؟

January 24, 2019

کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملاقات کے لیے آنے والے لیگی رہنماؤں نے جب آج ان کی طبیعت کا احوال دریافت کیا تو انہوں نے غالب کا شعر’ اُن کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پر رونق، وہ سمجھتے ہیں کے بیمار کا حال اچھا ہے‘ سنادیا۔

کوٹ لکھپت جیل میں جمعرات کا دن سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کادن ہوتا ہے ۔ نواز شریف اپنے ملنے والوں سے شاعری میں اپنے دل کی باتیں کرتے ہیں۔

نواز شریف کی آج کل طبیعت خرابی کی خبریں گردش کر رہی ہیں ، دو روز قبل ان کے مختلف ٹیسٹ ہوئے جن کی رپورٹ آںے پر ان کے ذاتی معالج نے انہیں غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔

نواز شریف کا اپنی صحت کے حوالے سے کہنا تھا کہ صحت بالکل ٹھیک ہے اور حوصلے بلند ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی رہنما یا کارکن سے ملاقات کے لیے مجھے کوئی لسٹ دکھائی نہیں جاتی، ملنے کے لیے جو بھی آتا ہے اسے خوش آمدید کہتا ہوں۔

انہوں نے سانحہ ساہیوال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تصدیق کیے بنا بےگناہوں کا خون نہیں بہانہ چاہیے تھا، چاہتا ہوں سانحہ ساہیوال کی شفاف تحقیقات ہوں۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کو سن کر افسوس ہوتا ہے۔حکومت کو چاہیے وہ عوامی مشکلات کے پیش نظر ملتان موٹروے فوری طور پر کھول دے۔

انہوں نے کہا کہملک میں معاشی ترقی و خوشحالی کے لیے اقدامات کیے لیکن اب حالات دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، سی پیک کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائی تاکہ ملک خوشحال ہو، اگر اسے روکا جاتا ہے تو ملک کو بہت نقصان ہوگا۔