Advertisement

ٹرین مارچ: بلاول کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرے گا؟

March 28, 2019
 

کامیاب پی ایس ایل کی خوشی جاری تھی کہ کراچی میں ممتاز عالم دین شیخ السلام مفتی تقی عثمانی پر اس وقت قاتلانہ حملہ کیا گیاجب وہ اپنی اہلیہ، پوتے اور پوتی کے ہمراہ معمول کے مطابق مسجد بیت المکرم میں جمعہ پڑھانے جارہے تھے مفتی تقی عثمانی حملے میں بال بال بچ گئے جبکہ قاتلانہ حملے میں ایک پولیس اہلکار فاروق دارلعلوم کراچی کے گارڈصنوبر خان شہید جبکہ دو افرادشدید زخمی ہوگئے حملے کی خبر شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی مدارس کے طلبہ اشتعال میں آگئے تاہم علماء کرام نے طلبہ کو مشتعل ہونے سے روکا انہیں صبر کی تلقین کی وزیراعلیٰ سندھ سیدمرادعلی شاہ،گورنرسندھ عمران اسماعیل، صوبائی وزیر سعیدغنی، وقار مہدی، راشدربانی سمیت علماء کرام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے مفتی تقی عثمانی سے دارلعلوم کراچی میں ملاقات کرکے ان کی خیریت دریافت کی اور ان کے ساتھ اظہاریکجہتی کیا مفتی تقی عثمانی کا شمار پاکستان کے بڑے علماء میں ہوتا ہے انہیں ناصرف پاکستان بلکہ بیرون ممالک میں بھی عزت وتکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ان کے لاکھوں شاگرد ناصرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں صرف ان کے مدرسے میں سترہ ہزار طلبہ زیرتعلیم ہے انہیں ایک ایسے وقت نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی جب ملیشیاکے وزیراعظم پاکستان میں تھے اور کچھ روز بعداوآئی سی کا اجلاس بھی ہونے والا تھا کہاجارہا ہے کہ ان پر قاتلانہ حملے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔ کہاجارہا ہے کہ اگرخدانخوستہ مفتی تقی عثمانی کو کوئی گزندپہنچتی تو کراچی کا امن تہہ وبالا ہوجاتا اور ملک بھر میں ان کے لاکھوں شاگردوں کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا یہ بھی کہاجارہاہے کہ کراچی جیسے حساس شہر میں حکومت سندھ نے علماء سے سیکیورٹی واپس لے کر دانشمندانہ فیصلہ نہیں کیا ہے سیکیورٹی کی واپسی پر کئی علماء نے حکومت سے احتجاج بھی کیا تاہم حکومت نے اس حساس مسئلےپرکوئی توجہ نہیں دی۔ علماء کے مطابق ایک جانب وزراء اور افسران کے ساتھ کئی کئی پولیس موبائلیں سیکیورٹی کے لیے چل رہی ہے تو دوسری جانب علماء سے سیکیورٹی واپس لینا کسی طرح بھی مناسب نہیں حکومت کو شہر میں امن کی خاطر تمام مکاتب فکر کے جیدعلماء کو سیکیورٹی فراہم کرنی چاہیئے مفتی تقی عثمانی پر حملہ کرنے والوں کی گرفتاری انتہائی ضروری ہے تاکہ اس نیٹ ورک کا پتہ چل سکیں جو شہر کے حالات ایک بار پھر خراب کرنے کے درپے ہیں دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی احتجاجی سیاست کی جانب بڑھ رہی ہے ، پی پی پی کے بانی چیئرمینذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر بلال بھٹو زرداری کا بھرپور ٹرین مارچ جاری ہے تاہم اس ضمن میں پی پی پی کے صوبائی صدر نثارکھوڑونے وضاحت کی یہ احتجاجی مارچ نہں ہے اگر احتجاجی مارچ ہی ہوگا تو راولپنڈی کی طرز پر ہوگا اس وضاحت کے باوجود بعض حلقوں کے مطابق ٹرین کے ذریعے لاڑکانہ جانا اور جگہ جگہ خطاب کرنے کا مقصد سندھ کے عوام کو احتجاجی تحریک کے لیے تیار کرنا ہے۔ نیب کی جانب سے پی پی پی کی قیادت پر مقدمات کے بعد پی پی پی کی قیادت کے لہجے میں ناصرف تلخی آئی ہے بلکہ انہوںنے دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ بھی روابط استوار کئے ہیں تاکہ حکومت کے خلاف بڑاسیاسی محاذ بنایاجاسکے نیب مقدمات میں نیب نے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کو دوہفتوں میں جوابات جمع کروانے کی ہدایت کی ہے۔پارک لین کمپنی سمیت دیگر دوکیسز میں بھی انہیں سوالنامے جاری کئے گئے ہیں اور انہیں جوابات دس دن کے اندر فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔پی پی پی احتجاج کا آپشن اپناکر نیب کو دباؤ میں لانے میں کسی حدتک کامیاب ہوگی یہ آنے والے دنوں میں معلوم ہوجائے گا بعض حلقوں کے مطابق یہ لڑائی اگر بڑھی تو پھر بلاول کی سیاست کے لیے فیصلہ کن موڑ ہوگا۔ اس لڑائی میں اگرعوام نے پیپلزپارٹی کی آواز پر کان نہ دھرے تو پھر بلاول کی مستقبل کی سیاست کمزورپڑجائے گی اور اگرعوام نے زمین پر بلاول کا ساتھ دیا تو پھر بلاول سیاست کے اس امتحان میں سرخروہوجائے گا اب زرداری کا سیاست میں مستقبل بلاول بھٹو ہی ہیں تو دیکھنا یہ ہوگا کہ اب بلاول میں ایک جانب عوام کو بیدار کرنے کی صلاحیت کتنی ہے یہ صرف زرداری اور نیب کا نہیں پس پردہ چھپے قوتوں کا بھی ٹیسٹ کیس ہے۔ جہاں تک بلاول کے سیاسی مستقبل کا سوال ہے تو انہوں نے ڈرائنگ روم کی سیاست کے بجائے عوامی سیاست کرنے کا فیصلہ کیا ہے ان کے اس کردار کو پذیرائی تو ملے گی لیکن بلاول کو اپنی والدہ بے نظیرکے انجام سے بھی خبرداررہنا پڑے گا۔ کیونکہ بی بی شہید بعض ایسی قوتوں سے الجھ بیٹھی تھیں جن سے الجھ کر انہیں ایک قیمت ادا کرنا پڑی۔وزیراعظم عمران خان 30 مارچ کو گھوٹکی میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے عمران خان 29 مارچ کو کراچی پہنچیں گے اور رات بھر قیام کریں گے۔ کراچی میں قیام کے دوران وزیراعظم کراچی پیکیج، شہری مسائل اور دیگر امور کا جائزہ لیں گے انہیں کراچی میں پی ایس ایل کے کامیاب انعقاد پر بریفنگ بھی دی جائے گی خصوصی اجلاس میں کراچی کے امن سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا وہ حیدرآباد میں یونیورسٹی کا سنگ بنیاد پر بھی رکھیں گے یادرہے کہ مہر برادران نے وزیراعظم کو گھوٹکی کے دورے کی دعوت دی تھی اس دورے میں عمران خان سندھ کی بڑی سیاسی شخصیات سے بھی ملیں گے سندھ میں چند روز ہ قیام کے علاوہ وزیراعظم کا گوادر اور کوئٹہ کا دورہ بھی متوقع ہے ان دوروں میں وہ ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ نئے ترقیاتی پیکچیزکا اعلان بھی کریں گے۔ادھرتحریک انصاف انتہائی محتاط انداز مین سندھ میں سیاسی پیش رفت کررہی ہے آئندہ کی سیاست میں سندھ میں پی ٹی آئی کا کیاکردار ہوگا یہ پی ٹی آئی کی کارکردگی اور سندھ کے مسائل کے حل کرنے پر منحصر ہے جہاں عوام پی پی پی کے متبادل قوت کے منتظر ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں