Advertisement

آئی ایم ایف سے معاہدہ: معاشی حالات بہتر ہونے کی توقع؟

March 28, 2019
 

وزیراعظم عمران خان نے اگرچہ بعض معاملات میں یو ٹرن لیا ہے مگر چھوٹی موٹی تحریک سے انہیں جھکایا نہیں جا سکتا بالخصوص کرپشن کے حوالے سے وہ اپنے موقف سے ایک انچ ہٹنے کے لئے تیار نہیں مسلم لیگ ن نے اسمبلی کے اندر اور باہر حکومت پر بہت پریشر ڈالا کئی دن اسمبلی چلنے نہیں دی مگر وزیراعظم عمران خان ٹس سے مس نہ ہوئے ہمیں یقین ہے کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے انہیں فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے کیونکہ کرپشن نے ملک کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہےکرپشن کا قلع قمع نہ ہوا تو یہ ملک نہیں چل سکے گا۔ بلاول بھٹو نے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا جو رسک لیا ہے اسکا انجام کیا ہو گا یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ سندھ سے تو وہ لوگ اکٹھے کر سکتے ہیں مگر پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں انکی جڑیں اتنی مضبوط نہیں ہوئیں کہ وہ لاکھوں لوگوں کو باہر نکال سکیں باالخصوص پنجاب میں عوام کی بڑی تعداد پیپلز پارٹی کے ساتھ نہیں اور یقیناً اس بات کا ادراک آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کو بھی ہو گا آصف علی زرداری نے مشکل ترین حالات میں پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا تھا جس کو زبردست پذیرائی ملی تھی اور قومی و فوجی حلقوں میں بھی اسے اچھی نظر سے دیکھا گیا تھا اور اب بلاول بھٹو نے انتہا پسند تنظیموں کے وزراء سے تعلق جو لائن لی ہے اسکو بھارتی میڈیا پر بہت پذیرائی ہوئی بلاول بھٹو نے بے شک درست کیا ہو گا مگر ایسے حالات اور موقع پر بات کی بھارت کو موقع ملا کہ حکومت پاکستان اور اسکے وزیروں کا انتہا پسند مذہبی تنظیموں سے تعلق ہے اور ہمارا موقف درست ثابت ہوا ہے جو بات ہم کہتے تھے اسکی پاکستان کی بڑی پارٹی نے تصدیق کر دی۔ بلاول نے اس بیان کو عوامی اور فوجی سطح پراچھا نہیں سمجھا جا رہا ہے بلاول آصف زرداری اس لائن کو درست سمجھتے ہونگے مگر یہ پاپولر لائن نہیں پیپلز پارٹی اپنے خلاف کیسوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے مگر مستقبل قریب میں پیپلز پارٹی کے لیڈروں کی جان چھوٹتی نظر نہیں آ رہی اگر نواز شریف کو این آر او نہیں مل رہا تو آصف زرداری کو بھی نہیں مل سکتا۔ آنے والے دنوں میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی مشکلات میں مزید اضافہ بھی ہو گا کمی نہیں ہو سکتی مسلم لیگ ن کے دودھ پینے والے مجنوں منظر سے غائب ہیں دونوں پارٹیوں کے مزید رہنمائوں اور انکے ساتھ چلنے والے بیورو کریٹس کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ وفاقی وزیر شیخ رشید احمد تو مخالفت میں بہت آگے بڑھ گئے ہیں کہ جون تک جھاڑو پھر جائے گا۔ شیخ رشید نے پہلے بھی اس حوالے سے بہت تاریخیں دی ہیں دیکھیں نئی تاریخ کہاں تک درست ثابت ہو گی۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر سینئر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو کس قانون کے تحت ملک سے باہر بھیجیں ہم اس سلسلے میں قانون میں تبدیلی نہیں لائیں گے۔ این آر او نہیں ملے گا ہم نے 126 دن دھرنا دیا دیکھیں اپوزیشن کتنے دن دھرنا دیتی ہے ہم اپوزیشن والوں کو کنٹینر فراہم کر سکتے ہیں اپوزیشن کی بلیک میلنگ نہیں چلے گی۔ ادھر وفاقی وزیر شیخ رشید نے دعویٰ کیا ہے کہ میاں شہباز شریف نے جہاں این آر او مانگا تھا وہاں میں موجود تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں نواز شریف کو دولت کی واپسی کی صورت میں این آر او مل سکتا ہے ایک اطلاع کے مطابق میاں نواز شریف جیل کی سلاخوں کے اندر بہت تنگ ہیں اور وہ قید تنہائی سے بہت پریشان ہیں یہی وجہ ہے کہ انکی تکالیف میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ گذشتہ تین چار ماہ کی نسبت حکومت کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے۔ چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سے پیسہ آنا شروع ہو گیا ہے جبکہ آئی ایم ایف کے ساتھ بھی آئندہ ماہ معاہدہ ہونے کا امکان ہے اگرچہ حکومت اقتدار میں آنے سے اب تک عوام کو کوئی بڑا ریلیف دینے میں کامیاب نہیں ہوئی اور نہ ہی مہنگائی میں کمی ہوئی ہے مگر آئندہ حالات بہتر ہونے کی توقعات پیدا ہو گئی ہیں وزیراعظم عمران خان غریبوں کے لئے مکانات کی تعمیر کا افتتاح کرنے والے ہیں جبکہ آئندہ چند دنوں میں پاکستان میں وسیع پیمانے پر تیل و گیس نکلنے کی بھی خوشخبری قوم کو سنائیں گے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو سمندر سے تیل کے وسیع ذخائر ملے ہیں جبکہ سندھ اور کے پی کے مختلف علاقوں میں گیس کے ذخائر بھی ملے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان پر مہربانی کردی ہے بھارت کی طرف سے پانی کی بندش کے اقدامات کے بعد بارشوں سے جل تھل کر دی اور برفباری بھی اتنی زیادہ ہوئیں ہیں کہ آئندہ گرمیوں میں پانی کی قلت کا امکان نہیں کاش ہمارے پاس ایک دو مزید ڈیم ہوتے تو ہمارا ملک سبزہ زار بن جاتا اور فصلوں کی پیداوار میں زبردست اضافہ ہو جاتا۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اس سال نومبر میں اپنی مدت پوری ہونے کے بعد ریٹائر ہو رہے ہیں جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملک و قوم کے دفاع کے لئے زبردست خدمات انجام دی ہیں دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان انکی مدت میںتوسیع کرتے ہیں یا جرنیلوں کی فہرست میں سینئر ترین جرنیلوں لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا اور لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر میں سے کسی کا انتخاب کرتے ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں