Advertisement

وزیراعظم قومی معاملات میں اپوزیشن کو اعتماد میں لیں

April 11, 2019
 

رانا غلام قادر، اسلام آباد

موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی ملک میں سیاسی درجہ حرارت بھی بلند ہوگیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نہ صرف خلیج بڑھ رہی ہے بلکہ لہجوں میں تلخی آرہی ہے۔ دونوں جانب سے الزامات کی ایک دوسرے پر بوچھاڑ ہے۔ لب و لہجہ جارحانہ ہے۔ کل سے قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس شروع ہورہا ہے۔ جوں جوں دن گزریں گے یوں لگتا ہے کہ محاز آرائی بڑھتی جائے گی۔ سوال البتہ یہ ہے کہ کیا اپوزیشن جماعتیں حکومت مخالف تحریک چلانے کیلئے نکتہ پر متفق ہوں گی یا نہیں۔ مولانا فضل الرحمان چاہتے ہیں کہ تمام اپوزیشن جماعتیں ملین مارچ کیلئے ایک نکتے پر جمع جائیں تاکہ پی ٹی آئی حکومت کو گرایا جاسکے اب ان کیخلاف اس ہدف میں رکاوٹ مسلم لیگ (ن) تذبذب کا شکار ہے۔ نواز شریف کو سپریم کورٹ اور شہباز شریف کو ہائیکورٹ سے ریلیف ملا تو اسے ڈیل سے تعبیر کیا گیا لیکن اس کے فوری بعد نیب زیادہ متحرک ہوگیا۔ نیب نے شاہد خاقان عباسی، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کردی۔ کابینہ نے اجلاس کا انتظار کرنے کی بجائے سرکولیشن کے ذریعے ان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دی۔ حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کو اب منی لانڈرنگ کیس کا سامنا ہے۔ نیب نے ان کی گرفتاری کیلئے چھاپہ مار کر اس تاثر کو زائل کر دیا ہے کہ شریف خاندان کی ڈیل ہوگئی ہے۔ دوسری جانب آصف علی زرداری کو بھی منی لانڈرنگ کے کیس کا سامنا ہے اور ان کی گرفتاری بھی کسی وقت متوقع ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا لب و لہجہ بھی جارحانہ ہے لیکن پیپلزپارٹی کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا ووٹ بنک سندھ تک محدود ہوگیا ہے۔ جب تک مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی دونوں اکٹھے نہ ہوں تو حکومت کو دبائو میں نہیں دیا جاسکتا۔ نیشنل ایکشن پلان کی وجہ سے دینی مدارس کا رجسٹریشن اور ان کے حسابات کو دائرہ کار میں لانے کیلئے حکومت دوبارہ سرگرم ہوگئی ہے۔ نیشنل ایکشن ٹاسک فورس کے تقاضے پورا کرنا لازمی ہے۔ اتحاد تنظیمات دینی مدارس بھی متحرک ہوگئی ہے۔ اگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے دینی جماعتوں کو ساتھ ملایا جس کیلئے مولانا فضل الرحمان پہلے ہی سرگرم ہیں تو حکومت کیلئے مشکلات بڑھ جائیں گی۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت کو کئی محاذوں پر چیلنجز کا سامنا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج تو معاشی ہے۔ معیشت کی بحالی کیلئے حکومت کی کارکردگی مایوس کن نظر آئی ہے۔ بتدریج یہ تاثر تقویت حاصل کررہا ہے کہ اسد عمر کا بطور وزیر خزانہ انتخاب درست فیصلہ نہیں تھا۔ اب تک حکومت کا صرف ایک کریڈٹ ہے کہ اس نے ادائیگیوں کا توازن قائم رکھنے اور زر مبادلہ کے ذخائر بہتر کرنے کیلئے سعودی عرب، متحدہ امارات اور چین سے عبوری انتظام کر لیا مگر یہ وزیر خزانہ کا کمال نہیں ہے بلکہ وزیراعظم عمران خان کی ساکھ کے باعث ہوا اور دوسرے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس کیلئے خاموش لابنگ کی تاکہ ملک دیوالیہ پن سے محفوظ رہے۔ اصل بات یہ ہے کہ معاشی اعشارئیے اچھے نہیں ہیں۔ ایف بی آر ٹیکس وصولوں کے اہداف میں300ارب روپے پیچھے ہے اور جون تک یہ شارٹ فال400 ارب تک جانے کا امکان ہے۔ عوام وزیراعظم سے یہ سوال کرنے میں تو حق بجانب ہیں کہ انہوں نے یہ کہا تھا کہ روزانہ اربوں کی ٹیکس چوری ہوتی ہے ہم اسے روکیں گے۔ جب حکومت کا سربراہ ایماندار ہوگا تو لوگ ٹیکس زیادہ دینگے۔ اگر ایف بی آر کی کارکردگی ناقص ہے تو بہر حال اس کی ذمہ داری حکومت پر جائے گی۔ یہ بھی سوال کیا جارہا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کس طاقتور بیورو کریٹ کے رشتہ دار ہیں۔ دوسرا معاشی اعشاریہ سٹا ک مارکیٹ ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے دور میں سٹاک مارکیٹ نے 53 ہزار کی حد عبور کی تھی۔ پی ٹی آئی کے دور میں یہ گر کر37 ہزار پر آگئی۔ درمیان میں سٹاک مارکیٹ40 ہزار تک گئی مگر ابتر معاشی حالات کی وجہ سے دوبارہ 37 ہزار پر آگئی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ روپے کی قدر میں تیزی سے کمی کی گئی ہے اوپن مارکیٹ میں ڈالر 147 روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا ہے اور یہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ150 روپے تک جاسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ ڈالر ذخیرہ کرنا شروع کر دیا گیا ہے اور حکوت کارروائی کرنا پڑرہی ہے۔ حکومت کی معاشی پالیسی واضح نہ ہونے اور استحکام کی بجائے تنزلی آنے کے نتیجے میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہو گیا ہے جی ڈی پی کی شرح نمو میں کمی آ رہی ہے مہنگائی کی شرح اس وقت 9.41 فیصد ہے جو 5 سال کی بلند ترین شرح ہے ایشیائی ترقیاتی بنک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق جی ڈی پی کی شرح 3.9 فیصد ہے حالانکہ ن لیگ کے دور میں یہ شرح 5.8 فیصد پر تھی۔ 18 اگست کو جب موجودہ حکومت آئی تو ڈالر 123 روپے کا تھا روپے کی قدر میں کمی سے قرضوں میں اضافہ ہو رہا ہے رواں مالی سال کے 8 ماہ میں ملکی اور غیر ملکی قرضوں میں 3362 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے یہ جولائی تا فروری تک کے اعداد و شمار ہیں ملکی قرضوں میں 1926 ارب روپے اور غیر ملکی قرضوں میں 1436 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی حکومت کے مجموعی قرضے 27574 ارب روپے ہو گئے ہیں۔ معاشی چیلنجز کے علاوہ دو اہم ایشوز حکومت کو درپیش ہیں ان میں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع اہم مسئلہ ہے آئینی ترمیم کے لئے حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے الیکشن کمیشن میں سندھ اور بلوچستان کے ممبران کی نشستیں دو ماہ سے خالی ہیں وزیراعظم کا اصرار ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ملاقات نہیں کریں گے وزیراعظم نے پہلے شاہ محمود قریشی کو ٹاسک دیا جنہوں نے وزارت خارجہ کی ایڈیشنل سیکرٹری سے خط لکھوایا اپوزیشن لیڈر نے آئین کا حوالہ دے کر اعتراض کیا تو وزیراعظم کے سیکرٹری اعظم خان نے خط لکھا اس پر بھی اعتراض کیا گیا تو وزیراعظم نے خود خط لکھا عملی طور پر یہ آئینی معاملہ ڈیڈ لاک کا شکار ہے وزیراعظم کو اہم قومی معاملات میں لچک دکھانی چاہئے اور اپوزیشن لیڈر سے کم از کم ورکنگ ریلیشن شپ رکھنی چاہئے تا ہم ریاست کے امور خوش اسلوبی سے چلتے رہیں جہاں تک احتساب کا تعلق ہے تو اس پر بے شک سمجھوتہ نہ کیا جائے احتساب صرف سیاستدانوں سے نہ کیا جائے سرکاری محکموں سے بھی کرپشن کے خاتمہ کے لئے اقدامات کئے جائیں حکومت نے 18ویں ترمیم پر نظرثانی کی بات کر کے حساس بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ چھوٹے صوبوں سے طویل جدوجہد کے بعد مرکز سے اختیارات لئے ہیں یہ اختیارات واپس لینے کی کوشش کی گئی تو شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے اس وقت مہنگائی میں ہونے والے اضافہ کی وجہ سے پی ٹی آئی کی مقبولیت کا گراف بھی متاثر ہوا ہے اور خود پارٹی کارکن عمران خان سے مایوس نظر آتے ہیں۔ بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔


مکمل خبر پڑھیں