Advertisement

ناسا کے لیے نئے پلوٹونیم کی تیاری

April 22, 2019
 

اسے بہتر بنانے کے لیے ماہرین نےایک خاص قسم کا روبوٹ بنایا ہے

امریکا میں قائم خلائی ادارے، ناسا،کو اُمید ہے کہ انسان کا تیار کردہ نیاتاب کار عنصر،پلوٹو نیم ۔238 (plutonium-238) ناسا کے سب سے طویل آپریٹنگ اور دُور تک پرواز کرنے والے خلائی جہاز کے لیے کار آمد ثابت ہو گا ۔اگر چہ تقریباً تمام پلوٹونیم ۔238 سرد جنگ کے دوران بنائےگئے تھے ،لیکن اب امریکی ڈپارٹمنٹ آف انرجی کے ماہرین مزیدنئے پلوٹونیم بنا رہےہیں۔ اس نئے پلوٹو نیم کو بہتر کرنے کے لیے سائنس دانوں نے ٹینیسی (Tennessee)نامی ایک روبوٹ بنایا ہے۔ امریکا میں قائم اوک ریج نیشنل لیباریٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نیا روبوٹ پلوٹونیم کی پیداوارکے ضمن میںاہم قدم ہےاوریہ ناسا کو درکار پلوٹونیم کی ضروریات بہ خوبی پورا کرسکے گا ۔ماہرین کے مطابق یہ نیا روبوٹ پلوٹونیم کی قابل اعتماد اورطویل عرصے تک برقرار رہنے والی سپلائی چین تیار کرنے میں بھی مدد فراہم کرے گا۔ واضح رہے کہ ناسا کو گہری خلاء کو دریافت کرنے کے لیے تاب کار مواد کی ضرورت ہے ۔ناسا پلوٹو نیم -238کی مددسےاپنے خلائی مشنز کومزید مستحکم کرےگا ،جن میں نیو ہورائزن ، ووئیجرز (voyagers) اور انٹر اسٹیلر اسپیس شامل ہیں۔یہ پلوٹونیم جو تاب کار توانائی خارج کرتا ہے، اس میں سے کچھ توانائی بجلی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ یادرہے کہ پلوٹونیم ۔238 کو ٹھنڈا ہونے میں کافی عرصہ لگتا ہے ۔

انسان کا تیار کردہ پلوٹو نیم ۔238 بہت اہمیت کا حامل موادہے۔تاہم 1990 ء میں اس کی سپلائی کم ہو گئی تھی اور اس کمی کا سلسلہ 2012ء تک جاری رہا ،کیوں کہ ایجنسی اور اس کے پاٹنرز کے پاس پلوٹونیم کو دوبارہ تیار کرنے کے لیے فنڈنگ نہیں تھی ۔ بعدازاں ماہرین نے اس کے لیے سالانہ 20 ملین ڈالرزکے فنڈز حاصل کیے۔ پھر ماہرین نے باقاعدہ طور پر اس کی پروڈکشن کا سلسلہ شروع کیا ۔ اب ڈپارٹمنٹ آف انرجی کو اُمید ہے کہ 2025ء تک ناسا کی سالانہ 3.3پونڈز (1500 گرامز) کی ضرورت پوری ہوجائیں گی۔اوک ریج نیشنل لیباریٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ نئے خود کارروبوٹ کی مدد سے پلوٹو نیم- 238 کی دوسال قبل کی پیداوارکے مقابلے میں8گنا اضافہ ہو جا ئے گا ۔یاد رہے کہ اس لیباریٹری نے ناسا کے لیے پہلا پلوٹو نیم دسمبر 2015ء میں بنایا تھا۔لیکن وہ صرف1.8اونس (50گرام) تھا ،جو بہت کم مقدار تھی۔مگر اس پرانے طریقےنے زیادہ عر صے تک کام نہیں کیا۔اسی وجہ سےسائنس دانوں کو مزید پلوٹو نیم بنانے کے لیے نیا طریقہ متعارف کرانا پڑا ۔اوک ریج نیشنل لیباریٹری کے ماہر ،جیسن ایلسن کا کہنا ہے کہ یہ بہت بڑا قدم ہے، جس کا مقصد پلوٹونیم کی پیداوار کو 14 اونس (400 گرام ) سالانہ تک بڑھانا ہے۔یہ ایک موثر عمل بھی ہے ۔ان کے مطابق پلوٹو نیم -238 کا ایک بیچ شروع ہونے میں 28 سے36ماہ لگتے ہیں اور یہ عمل نیپٹو نیم -237 نامی ایک ابتدائی مواد کی ضرورت ہوتا ہے ۔ پلو ٹونیم بننے کے عمل کے دوران نیپٹونیم ۔237کے چھوٹے چھوٹے حصوں کو ایلومینیم کے اندر ڈالا جاتاہے،پھر اسے اوک ریج نیشنل لیباریٹری میں موجود خصوصی نیوکلیر ری ایکٹر میں داخل کیاجا تا ہے۔اسے ’’ہائی فلیکس آئسوٹوپ ری ایکٹر‘‘ کہا جاتا ہے ۔ماہرین کے مطابق اس ری ایکٹر میں چند ماہ تک عمل ہونے کے بعد کچھ نیپٹونیم -237 سےپلوٹونیم -238 میں تبدیل ہوجائیںگے ۔تاہم انہیںجوہری ہتھیاروں میں استعمال نہیں کیا جا تا ۔ اپناہدف مکمل کرنے کے بعد کئی ماہ تک تالا ب میں رہ کریہ ٹھنڈا ہوجاتاہے ۔اس کے بعد ماہرین اسے کیمیکل میں حل کرکے کیمیائی طورپرپلوٹو نیم اور نیپٹونیم کو الگ کرکےان دونوں میں موجود آلودگی کو صاف کرتے ہیں۔ سائنس دانوں نےصاف اور شفاف پلوٹونیم کو ناسا کے استعمال کے لیے مخصوص کیا ہےاور نیپٹونیم کودیگر اہداف کے لیے علیحدہ کر دیا گیا ہے ۔

نیپٹونیم بننے کا عمل انسانی جانوں کے لیے کافی خطرناک ہوتا ہے، کیوں کہ اس عمل کے دوران تاب کار عنصر کاچھوٹا سا حصہ پروٹیکٹیم نامی تاب بکار مواد میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ان ریڈیو آئسوٹوپس کو اپنا آدھا سفر طے کرنے میں تقریباً 27دن لگتے ہیں اوراس عمل میں طاقت ور گاما شعائیں بھی خارج ہوتی ہیں جو انسانی جانوں کے لیے مضر ہیں۔

ناسا کے لیے پلوٹو نیم -238 کی پیداوار ہر سال 20 سے 25ہزار pellets (چھوٹی سی گول شے ) تک ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق بار بار ہونے والا یہ عمل پروٹیکٹ ورکنگ یونٹ ،ہاٹ سیل کی وجہ سے عمل پذیر ہوتا ہے ۔ ہر سال دو سے زاید جوڑے تیار کرنے کے لیے اس پروجیکٹ کے سربراہ وام اور ان کی ٹیم نےانرجی ڈپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر ایک خود کار مشین تیار کی ہے ،جسےہاٹ سیل کے اندر نصب کیا گیا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ انہیںاس خود کارمشین کی زیادہ ضرورت نہیں ہے ،مگر عمل کو دہرانے کے لیے یہ کافی کار آمد ثابت ہوگی ۔

مذکورہ روبوٹ میں کثیر المقاصد بازو نصب کیے گئے ہیں جو عمل کوبار بارآسانی سے دہراسکتے ہیں ۔یہ بازو انسانوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ طریقےسے اور تیزی سے کام کرتے ہیں ۔ یہ روبوٹ چمنی (funnel) ، نیپٹونیم ۔237، ایلومینیم اورpellets پر دبائو ڈال کر ٹرے میں ڈال دیتاہے۔ بعدازاں ماہرین انہیں ٹیوبزمیں ڈال کر ری ایکٹرمیں ڈال دیتےہیں ۔ ناسا کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیےوام کی ٹیم کو پیداوار میں چار گنا اضافہ کرنا ہو گا۔لیکن انہیںاُمید ہے کہ یہ پروجیکٹ بالکل صحیح مراحل میں ہے۔تاہم اس پروجیکٹ میں پلوٹونیم بنانے کے لیے جو پائپ لائن نصب کی گئی ہے وہ اُس طر ح تیزی سے کام نہیں کررہی ہے ،جس تیزی سے اسےکام کرنا چاہیے۔ ماہرین ا س بات کو یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں کہ کوئی بھی عمل کرنے سے پہلے اسے اچھی طر ح سمجھا جائے ۔ماہرین کے مطابق فی الحال اس پروجیکٹ میں تاب کار مواد کو صحیح طریقے سے عمل میں استعمال کرنے کے لیے مزیداشیاکی ضرورت ہے ۔

اوک ریج نیشنل لیباریٹری اس کی پیدا وار میں رفتہ رفتہ اضافہ کرے گی ۔اس سلسلے میں جنوب مشرق کے صنعتی اور تجارتی شہر pocatelloمیںقائم اڈاہو نیشنل لیبار یٹر ی(idaho national university) سے بھی مدد لی جائے گی۔واضح رہے کہ اس لیب میں ایڈوانس ٹیسٹ ری ایکٹر کی سہو لت موجود ہے ،جس میں نیپٹونیم -237کو پلوٹونیم -238 میں بآسانی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔


مکمل خبر پڑھیں