Advertisement

’’زمین کا تنازعہ‘‘ تین انسانی زندگیاں نگل گیا

May 26, 2019
 

گلاب علی سہتو،ٹھری میرواہ

سندھ کی دھرتی کسی زمانے میں امن و سلامتی کی وجہ سے مشہور تھی اور اپنی منفرد ثقافت اور تہذیب و تمدن کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ لیکن اب قبائل کے درمیان جنگ و جدل ، معمولی بات پر قتل و غارت گری نے اس وادی کا خوش نما چہرہ مسخ کردیا ہے اور یہ لڑائیاں صوبہ سندھ کی ثقافت پر بدنما داغ لگا رہی ہیں ۔ جہاں ان قبائلی تنازعات میں انسانی جانیں موت کی بھینٹ چڑھتی ہیں، وہیں لوگوں کا کاروباراور بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہوتی ہے۔رہی ہے شہروں میں رہنے والے باشعور لوگوں کا کہنا ہے کہ چھوٹی چھوٹی بات کو اپنی عزت غیرت اور انا کا مسئلہ بناکر انسانی خون کی ہولی کھیلنا اور معمولی غلطی کی پاداش میں کسی شخص کو بھی زندگی سےمحروم کرنا ان کے لیے بڑی بات نہیں ہے۔

حال ہی میںٹھری میرواہ اور فیض گنج میں زمین کے تنازع اورشوہر کے مبینہ تشدد سے ایک خاتون سمیت چار افرادکی ہلاکت اور راضی کے تنازعات کی وجہ سے امن و امان کی صورت حال اس قدر تشویش ناک صورت اختیار کررہی ہے کہ پولیس کے لیے امن امان بحال رکھنا اب چیلنج بن چکا ہے جس پر پورا اترنے، شہر میں امن امان بحال کرنے اور حکومت کی عملداری قائم کرنے اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔جنگ کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق 10 مئی کو زمین کے تنازع پر فیض گنج میں تین افراد موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔مقتولین اور ملزمان آپس میں چچا اور بھتیجے ہیں ۔واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا اب بھی قائم ہے۔

جنگ کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ،ضلع خیرپور کی تحصیل فیض گنج کے گائوں بہادر لاشاری میں 10 مئی کی علی الصباح زمین کے تنازع پر لاشاری برادری کے دو گروپوں میں تصادم ہوگیا، جس میں آتشیں اسلحے کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔مسلح تصادم کے نتیجے میں چچا سمیت دو بھتیجوں کو ملزمان نے فائرنگ کرکے قتل کردیا جبکہ چار افراد زخمی ہوگئے ۔واقعہ فجر کی نماز کے بعد زرعی پانی چھوڑنے پر پیش آیاجس کے بعد دو بھائیوں میں جھگڑا ہوگیا جس کے باعث دونوں فریقین مورچہ بند ہوگئےاور ایک دوسرے پر فائرنگ شروع کردی ۔گولیاں لگنے سے شاہنواز لاشاری اوراس کے دو بھتیجے کاشف اور الہبچایو لاشاری، موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ چار افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک زخمی عابد حسین لاشاری کو تشویش ناک حالت میں نواب شاہ اسپتال منتقل کردیا گیا۔مرنے والےتین افراد کی لاشیں شدید فائرنگ کی وجہ سے تین گھٹنے تک جائے وقوعہ پر پڑی رہیں ۔ پولیس حسب روایت اطلاع ملنے کے باوجود تاخیر سے پہنچی جس کے بعد اس نے صورت حال کو قابو میں کرکے لاشیں ورثاء کے حوالے کیں جب کہ زخمیوں کو اسپتال پہنچایا گیا۔ ورثاء نے لاشوں کے ہمراہ مہران نیشنل ہائی وےاکری چودگی اسٹاپ پر ملزمان کی گرفتاری کے لیے احتجاجی دھرنا دیا جس کے باعث سکھرسے نواب شاہ اکی طرف آنے اور جانے والی ٹریفک معطل رہی۔ جھگڑے میں تین افراد قتل اور چار افراد کے زخمی کرنے کا مقدمہ مقتولین کے بھائی زاہد لاشاری کی مدعیت میں 12 ملزمان کیے خلاف پی پی سی کے دفعات 302،324،114،148،149، کے تحت درج کرلیا گیا۔ مدعی نے مقدمہ میںموقف اختیار کیا ہے کہ ملزمان اور مقتولین آپس میں رشتہ دار ہیں، جن کے درمیان ٹھری میرواہ تحصیل کی دیھ کلرو میں 28 ایکڑ زرعی زمین پر کافی عرصے سے تنازع چل رہا تھا جس نے خونی جھگڑے کی شکل اختیار کرلی۔ پولیس نے مزید تصادم کے خطرے کے پیش نظر علاقے میں چوکی قائم کرلی ہے۔

زرعی اراضی کے تنازعے پر قتل و غارت گری یہاں معمول کی بات ہے اور اب تک سیکڑوں افراد اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔دسمبر 2012میںبزدار وڈہ میں زمین کے تنازعے پر مخالف گروپ کے افراد نے نے 7سال کے بچے پر تیزاب پھینک دیاتھا، جس سے مذکورہ بچہ بری طرح جھلس گیا تھا۔

ایک دوسرے واقعے میں ٹھری میرواہ تھانے کی حدود گائوں گل محمد سنجرانی میں شوہر کے مبینہ تشدد سےخاتون ہلاک ہوگئی ۔ملزم نے اپنی بیوی بھانل سنجرانی پر مبینہ طور پر سخت تشدد کیا تھا جس کی وجہ سے خاتون شدید زخمی ہوگئی ، اسے تشویشناک حالت میں گمبٹ اسپتال لے جایا گیا جہاں علاج معالجے کے لیے داخل کرلیا گیا، جہاں اس کی حالت مزید بگڑگئی اور وہ دم توڑ گئی ۔قاتل نے متوفیہ کی لاش اس کے ورثاء کے سپر دکرنے سے انکار کردیا جس کے بعدمقتولہ کے رشتہ دار وں نےٹھری میرواہ تھانے پہنچ کر واقعے کے متعلق پولیس کو آگاہ کیا۔ لیکن پولیس کی جانب کوئی بھی کارر وائی نہ کیے جانےاور واقعے کامقدمہ درج نہ کرنے پر خاتون کے ورثاء نے ٹھری میرواہ ٹو سکھر روڈ پر ٹائروں کو آگ لگا کر احتجاجی مظاہر کرکے دھرنا دیا جس کے باعث دو گھنٹے تک ٹریفک معطل رہی۔ ڈی ایس پی ٹھری میرواہ نے وہاںپہنچ کر مظاہرین سے مذاکرات کیے اور انہیں انصاف کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد مظاہرین نے دھرنا ختم کردیا۔


مکمل خبر پڑھیں