Advertisement

پہلا جاب انٹرویو کیا آپ تیار ہیں؟

May 26, 2019
 

ملازمتوں کےا نٹرویو اور ان سے متعلق بہت سے لطیفے اور پُر مزاح واقعات آپ نے سنے ہونگے، جیسے کہ ایک انٹرویوکے دوران ایک امیدوار سے پوچھا گیا کہ ٹائی ٹینک کب ڈوبا تھا۔ اس نے فوراً جواب دیا کہ1912ء میں، اس کو شاباش دے کر دوسرے امیدوار (جس کو نہیںرکھناتھا )اس سے پوچھا گیاکہ اس حادثے میں ڈوبنے والوںکے نام بتائو۔ یہ سوال سن کر دوسرا امیدوار ہکا بکا رہ گیا۔ اگر آپ کارپوریٹ سیکٹر میںپہلی بار جاب انٹرویو کے لیے جارہے ہیںتو آپ کا نروس ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ ساتھ ہی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی کہ انٹرویو کرنے والا لازمی وہی سوالات پوچھے، جن کی آپ نے تیاری کر رکھی ہے۔ ایک بات اور دھیان میںرکھیں کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ سے روایتی سوالات کیے جائیں، آپ سے یہ بھی پوچھا جاسکتاہے کہ مین ہول کا ڈھکن گول کیوںہوتاہے؟ یا ایک دن میں منٹ کی سوئی کتنی بار گھنٹے کی سوئی کے اوپر آتی ہے؟ اس قسم کےسوالات سے آپ کی حاضر دماغی یاحس مزاح کو جانچا جاتاہے ۔پھر بھی آپ کو اپنے پہلے انٹرویو کےلیے کچھ سوالات تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ آئیںجانتے ہیں کہ روایتی سوالات اور ان کے جوابات کیا ہو سکتے ہیں۔

سوال :آپ کو ملازمت کی ضرورت کیوںہے ؟

جواب :ملازمت حاصل کرنے کا ایک مقصد پیسے کمانا بھی ہےلیکن اس سے زیادہ مجھے تجربہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہائی اسکول کے بعد میں نے ایم بی اے اس لیے کیا کہ مارکیٹنگ میں اپنا کیریئر بنا سکوں۔ اس ملازمت سے مجھے جو تجربہ حاصل ہوگا، وہ میرے لیے ہی نہیں آپ کی کمپنی کےکام بھی آئےگا۔ (اگر آپ کے پاس ملازمت کا تجربہ موجود ہےتو اس کو بھی آپ اپنے جواب میں شامل کر سکتے ہیں۔)

سوال :ملازمت تو آپ کو کہیںبھی مل سکتی ہے لیکن ہماری ہی کمپنی کیوں؟

جواب :سب سے پہلی بات کہ آپ کی کمپنی کا ایک نام ہے، جس کی عمدہ ساکھ ہے۔ میںنے ریسرچ کی ہے کہ گذشتہ برس آپ کی کمپنی نےمالیاتی لحاظ سے اور ہماری مقامی کمیونٹی کے لیے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ آپ کی کمپنی تیزی سے ترقی کررہی ہے اور آگے بڑھ رہی ہے، ایسی کمپنی کا حصہ بن کر کام کرنے میںمجھے فخر ہوگا۔

( اس جواب کیلئے آپ کو کمپنی پروفائل پڑھ کر جانا چاہئے یا اس کمپنی کی آفیشل ویب سائٹ وزٹ کرنی چاہیے۔ ان کے مشن اور وژن کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ کمپنی ان دنوںخبروں میںہے یا نہیں۔ کمپنی میںکس کا کیا کردار ہے اور کمپنی کیسے کام کرتی ہے۔ )

سوال :آپ کے تعلیمی ادارے نے آپ کو اس ملازمت کیلئے کیسے تیار کیا ہے؟

جواب :میں نے اسکول کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ یونیورسٹی میں مشکل کورس کے علاوہ میں باسکٹ بال ٹیم کاکپتان بھی تھا، کپتانی بھی ایک قسم کی مینجمنٹ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ میں اسٹوڈنٹ کونسل کیلئے بھی کام کرتا رہا ہوں، جس کے دوران میں نے سیکھا کہ وقت کا بہترین استعمال کیسے کیا جاتاہے ، آ پ تو جانتے ہیں کہ آج کل ٹائم مینجمنٹ کتنی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ میںدیگر لوگوںکے ساتھ کام کرنے، اپنے ٹیچرز، کوچز اور اتالیق سے ہدایات لینے سے کبھی نہیں ہچکچایا۔

(پہلی بارجاب انٹرویو دینے والوںمیں اکثر کے پاس تجربہ نہیںہوتا ، تو اسکول میںحاصل کیے جانے والے تجربے کو اپنےجواب میں شامل کرسکتے ہیں۔ اس سے طلبا میں کام کی اخلاقیات اور شخصیت میںتوازن پید کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی صلاحیتوں اور ترجیحات معلوم کرنے میںمدد ملتی ہے۔ )

سوال: تعلیم حاصل کرنے کے دوران آپ کو سب سے زیادہ کہاں مشکل پیش آئی اور آپ نے اس کو کیسے ہینڈل کیا ؟

جواب : میرے لئے سب سے بڑا مسئلہ اسکول کے کام ،ہوم ورک اور غیرنصابی سرگرمیوںکے درمیان توازن لانا تھا۔ گذشتہ کچھ برسوں سے میںنے ورک لوڈ اور ٹائم کو مینیج کرنا سیکھا ہے۔ میں نے اپنا ہفتہ وار کیلنڈر بنایا اور وقت کو اس میںتقسیم کردیا۔ میں اپنے اساتذہ اور اتالیق کے ساتھ کام کرتا تھا تاکہ میںان سے سیکھوںاور میری کارکردگی تسلی بخش ہو۔

( یہ تو عام جوابات ہیں ، اگر آپ نے اپنے تعلیمی سال میں کچھ خاص کیا ہوتو ا س کا ذکر کریں، کسی خاص حکمت عملی کے اپنانے سے آپ کو بہت فائدہ ہوا ہو تو اس کو فخرسے بتائیں۔ )

سوال :تنقید کو کیسے لیتے ہیں اور سپروائزرکی ہدایات پر کس قدر عمل کرتے ہیں؟

جواب : میں اسکول کی ایتھلیٹک ٹیم میں تھا اور کم عمری سے ہی سیکھا کہ اپنے سپروائزر کی ہدایات پر کیسے عمل کرنا ہے اور آگے بڑھنے کیلئے ان سے کیسے مدد لینی ہے۔ میں تنقید کو مثبت انداز میں لیتا ہوں اور اسے ہینڈل کرنا جانتا ہوں۔ اگر ہدایات سمجھ نہ آئیںتو بار بار پوچھتا ہوں اور اپنی غلطیوںسے سیکھتا ہوں۔ جس وجہ سے تنقید ہوتی ہے اس وجہ کو ختم یا کم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

(اگر آپ کے پاس ا س حوالے سے پارٹ ٹائم جاب کا تجربہ ہے تو آپ اس کاذکر کرسکتے ہیں۔ آپ کو صرف جواب ہی نہیں دینا بلکہ پورے اعتماد کے ساتھ انٹرویو کرنے والے کو مطمئن بھی کرنا ہے۔ )


مکمل خبر پڑھیں