Advertisement

عید الفطر.... انعامِ الہٰی کا دن

June 02, 2019
 

یومِ عید ،ماہِ صیام کی تکمیل پر اللہ تعالیٰ سے انعامات پانے کا دن ہے، تو اس سے زیادہ خوشی و مسرّت کا موقع کیا ہوسکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ اُمّتِ مسلمہ میں اِس دن کو ایک خاص مقام اور اہمیت حاصل ہے۔ علمائے کرام نے لکھا ہے کہ’’ عید کا لفظ ”عود“ سے مشتق ہے، جس کے معنیٰ”لَوٹنا“ کے ہیں، یعنی عید ہر سال لَوٹتی ہے، اس کے لَوٹ کے آنے کی خواہش کی جاتی ہے۔ اور ”فطر“ کے معنیٰ ”روزہ توڑنے یا ختم کرنے“ کے ہیں۔ چوں کہ عید الفطر کے روز، روزوں کا سلسلہ ختم ہوتا ہے اور اس روز اللہ تعالیٰ بندوں کو عباداتِ رمضان کا ثواب عطا فرماتے ہیں، تو اِسی مناسبت سے اسے ”عید الفطر“ قرار دیا گیا۔حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اہلِ مدینہ دو دن بہ طورِ تہوار مناتے اور اُن میں کھیل تماشے کیا کرتے تھے۔ رسولِ کریمﷺ نے اُن سے دریافت فرمایا’’ یہ دو دن، جو تم مناتے ہو، ان کی حقیقت اور حیثیت کیا ہے؟‘‘ تو اُنہوں نے کہا’’ ہم عہدِ جاہلیت میں (یعنی اسلام سے پہلے) یہ تہوار اِسی طرح منایا کرتے تھے۔‘‘ یہ سُن کر نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا’’ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ان دونوں تہواروں کے بدلے میں ان سے بہتر دو دن مقرّر فرما دیے ہیں،یوم عیدالاضحٰی اور یوم عیدالفطر۔‘‘( ابو داؤد)نبی کریمﷺ نے عیدین کے موقعے پر شرعی حدود میں رہتے ہوئے خوشیاں منانے کی اجازت دینے کے ساتھ، دوسروں کو بھی ان خوشیوں میں شامل کرنے کی ترغیب دی۔ نیز، ان مواقع پر عبادات کی بھی تاکید فرمائی کہ بندۂ مومن کسی بھی حال میں اپنے ربّ کو نہیں بھولتا۔احادیثِ مبارکہؐ میں شبِ عید اور یومِ عید کی بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا’’ جب عیدالفطر کی رات ہوتی ہے، تو اُسے آسمانوں پر’’ لیلۃ الجائزہ‘‘یعنی’’ انعام کی رات‘‘ کے عنوان سے پکارا جاتا ہے اور جب صبحِ عید طلوع ہوتی ہے، تو حق تعالیٰ جل شانہ فرشتوں کو تمام بستیوں میں بھیجتا ہے اور وہ راستوں کے کونوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے، جسے جنّات اور انسانوں کے سِوا ہر مخلوق سُنتی ہے، پکارتے ہیں کہ’’ اے اُمّتِ محمّدیہﷺ اس کریم ربّ کی بارگاہِ کرم میں چلو، جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں، تو اللہ ربّ العزّت فرشتوں سے فرماتا ہے’’ اُس مزدور کا کیا بدلہ ہے، جو اپنا کام پورا کرچُکا ہو؟‘‘ وہ عرض کرتے ہیں’’ اے ہمارے معبود! اس کا بدلہ یہی ہے کہ اُس کی مزدوری اور اُجرت پوری پوری عطا کردی جائے‘‘، تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں’’ اے فرشتو! تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ مَیں نے اُنہیں رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلے میں اپنی رضا اور مغفرت عطا فرمادی‘‘ اور پھر بندوں سے ارشاد ہوتا ہے کہ’’ اے میرے بندو! مجھ سے مانگو، میری عزّت و جلال اور بلندی کی قسم! آج کے دن آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے، عطا کروں گا۔دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے، اُس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروں گا۔ میرے عزّوجلال کی قسم! مَیں تمہیں مجرموں اور کافروں کے سامنے رُسوا نہ کروں گا۔ مَیں تم سے راضی ہوگیا۔‘‘(الترغیب والترہیب)

کس کی عید…؟؟

بلاشبہ وہ افراد نہایت خوش قسمت ہیں کہ جنھوں نے ماہِ صیام پایا اور اپنے اوقات کو عبادات سے منور رکھا۔پورے ماہ تقویٰ کی روش اختیار کیے رکھی اور بارگاہِ ربّ العزّت میں مغفرت کے لیے دامن پھیلائے رکھا۔یہ عید ایسے ہی خوش بخت افراد کے لیے ہے اور اب اُنھیں مزدوری ملنے کا وقت ہے۔تاہم، صحابہ کرامؓ اور بزرگانِ دین اپنی عبادات پر اِترانے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی دُعائیں کیا کرتے تھے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا قول ہے کہ’’ عید اُن کی نہیں، جنھوں نے عمدہ لباس سے اپنے آپ کو آراستہ کیا، بلکہ عید تو اُن کی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچ گئے اور اُس کے عذاب و عتاب سے ڈر گئے۔ عید اُن کی نہیں، جنھوں نے بہت زیادہ خوشیاں منائیں، بلکہ عید تو اُن کی ہے، جنھوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور اُس پر قائم رہے۔ عید اُن کی نہیں، جنھوں نے بڑی بڑی دیگیں چڑھائیں اور دسترخوان آراستہ کیے، بلکہ عید تو اُن کی ہے، جنھوں نے نیک بننے کی کوشش کی اور سعادت حاصل کی۔ عید اُن کی نہیں، جو دنیاوی زیب و زینت اور آرایش و زیبایش کے ساتھ گھر سے نکلے، بلکہ عید تو اُن کی ہے، جنھوں نے تقویٰ، پرہیزگاری اورخوفِ خدا اختیار کیا۔ عید اُن کی نہیں، جنھوں نے اپنے گھروں میں چراغاں کیا، بلکہ عید تو اُن کی ہے، جو دوزخ کے پُل سے گزر گئے۔‘‘حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عید کی مبارک باد دینے کے لیے آنے والوں سے فرمایا’’’’ عید تو اُن کی ہے، جو عذابِ آخرت اور مرنے کے بعد کی سزا سے نجات پاچُکے ہیں۔‘‘اِسی طرح ایک دفعہ حضرت عُمر ؓبن خطاب کے دَورِ خلافت میں لوگ عید کے روز آپؓ کے پاس آئے، تو دیکھا کہ وہ گھر کا دروازہ بند کیے زارو قطار رورہے ہیں۔ لوگوں نے عرض کیا’’ امیرالمومنین! آج تو عید کا دن ہے اور آپؓ رو رہے ہیں؟ حضرت عُمرؓ نے جواب دیا’’لوگو! یہ دن عید کا بھی ہے اور وعید کا بھی۔ آج جس کے نماز، روزے اور دیگر عبادات قبول ہوگئیں، بلاشبہ اُس کی آج عید ہے اور جس کی عبادات قبول نہیں ہوئیں، اُس کے لیے وعید کا دن۔ مَیں اِس خوف سے رو رہا ہوں کہ نہیں معلوم میری عبادات قبول ہوئیں یا اُنہیں رَد کردیا گیا۔‘‘

چاند رات

کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں’’ چاند رات‘‘ کو ایک لحاظ سے شرعی پابندیوں سے فرار کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے، حالاں کہ چاند رات کو حدیث شریف میں ’’لیلۃ الجائزہ‘‘ یعنی’’ انعام والی رات‘‘ کہا گیا ہے ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا’’رمضان المبارک کی آخری رات میں اُمّتِ محمّدﷺکی مغفرت کردی جاتی ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا’’ یارسول اللہﷺ! کیا وہ شبِ قدر ہے؟ آپﷺ نے فرمایا’’ نہیں۔ کام کرنے والے کو مزدوری اُس وقت دی جاتی ہے، جب وہ کام پورا کرلیتا ہے اور وہ آخری شب میں پورا ہوتا ہے، لہٰذا بخشش ہوجاتی ہے۔‘‘ (مسند احمد) جو لوگ پورے ماہِ مقدّس میں تقویٰ و پرہیزگاری کی راہ پر کاربند رہے، اُن میں سے بھی بہت سے اس رات لہو ولعب میں مشغول ہوکر اپنی ساری محنت اکارت کر بیٹھتے ہیں۔دراصل، شیطان آزاد ہوتے ہی خلقِ خدا کو تقویٰ و پرہیزگاری کے راستے سے ہٹا کر فسق وفجور کی طرف مائل کرنے کی کوششوں میں لگ جاتا ہے اور بدقسمتی سے بہت سے لوگ اُس کے پُرفریب جال میں پھنس جاتے ہیں۔نبی کریمﷺ کا ارشادِ گرامی ہے’’ جب یومِ عید آتا ہے، تو شیطان چِلَّا چِلَّا کر روتا ہے،اُس کی ناکامی اور رونا دیکھ کر تمام شیاطین اُس کے گرد جمع ہوجاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ’’ تجھے کس چیز نے غم ناک اور اُداس کردیا؟‘‘شیطان کہتا ہے کہ’’ہائےافسوس!اللہ تعالیٰ نے آج کے دن اُمّتِ محمّدیہﷺکی بخشش فرمادی ہے،لہٰذا تم اُنہیں پھر سے لذّتوں اور خواہشاتِ نفسانی میں مشغول کردو۔‘‘ ہم چاند رات بازاروں اور غل غپاڑے میں گزار دیتے ہیں، جب کہ احادیثِ مبارکہؐ میں اس رات میں عبادت کی تاکید کی گئی ہے۔ حضرت ابو امامہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا’’جو شخص عید الفطر اور عید الاضحی کی راتوں میں عبادت کی نیّت سے قیام کرتا ہے، اُس کا دِل اُس دن بھی فوت نہیں ہوگا جس دن تمام دِل فوت ہو جائیں گے۔‘‘( ابنِ ماجہ) مولانا محمّد زکریا کاندھلویؒ فرماتے ہیں کہ’’دِل کے مردہ ہونے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ فتنہ و فساد کے وقت جب لوگوں کے قلوب پر مردنی چھاتی ہے، اِ س کا دِل زندہ رہے گا ۔( اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ) ممکن ہے کہ صور پھونکے جانے کا دن (اِس سے) مراد ہو کہ اِس کی رُوح بے ہوش نہ ہوگی۔ ‘‘ (فضائلِ رمضان)۔اسی طرح حضرت معاذ بن جبلؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا’’جو شخص پانچ راتیں عبادت کرے، اُس کے لیے جنّت واجب ہوجاتی ہے۔وہ راتیں یہ ہیں، ذوالحجہ کی10,9,8ویں رات،شبِ برات،اور عید الفطر کی رات۔‘‘(الترغیب والترہیب)لہٰذا، ہمیں چاہیے کہ اس رات بے مقصد گھومنے پِھرنے اور گناہ کے کاموں میں گزارنے کی بجائے نوافل، نمازِ تہجّد، تلاوتِ قرآن اور دیگر عبادات میں مشغول رہیں تاکہ اس کی برکات حاصل کر سکیں۔

غریبوں کی مدد

عید کے اس پُرمسرّت موقعے پر ہمارا ایک کام یہ بھی ہونا چاہیے کہ آس پڑوس اور رشتے داروں پر نظر دوڑائیں کہ کہیں اُن میں سے کوئی ایسا تو نہیں، جو اپنی غربت اور تنگ دستی کے سبب عید کی خوشیوں میں شامل ہونے سے محروم ہے۔ اگر ایسا ہے، تو یقین جانیے، ہم خواہ کتنے ہی اچھے کپڑے پہن لیں، طویل دسترخوان سجا لیں، عیدیاں بانٹتے پِھریں، ہماری عید پھر بھی پھیکی ہی رہے گی، بلکہ ایسی عید، عید کہلانے کے قابل ہی نہیں، جس میں دیگر افراد شامل نہ ہوں۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو زمانۂ خلافت میں لوگ عید کی مبارک باد دینے گئے، تو دیکھا کہ امیر المومنین خشک روٹی کے ٹکڑے تناول فرمارہے ہیں۔ کسی نے کہا’’ آج تو عید کا دن ہے؟‘‘ یہ سُن کر آپؓ نے ایک سرد آہ بھری اور فرمایا’’ جب دنیا میں ایسے بہت سے لوگ موجود ہوں، جنھیں یہ ٹکڑے بھی میّسر نہیں، تو ہمیں عید منانے کا حق کیوں کر حاصل ہے؟‘‘ روایت ہے کہ آقائے دوجہاںﷺنمازِ عید سے فارغ ہوکر واپس تشریف لے جارہے تھے کہ راستے میں آپؐ کی نظرایک بچّے پر پڑی، جو میدان کے ایک کونے میں بیٹھا رو رہا تھا۔ نبی کریمﷺ اُس کے پاس تشریف لے گئے اور پیار سے اُس کے سَر پر دستِ شفقت رکھا، پھر پوچھا’’ کیوں رو رہے ہو؟ ‘‘بچّے نے کہا’’ میرا باپ مرچُکا ہے، ماں نے دوسری شادی کرلی ہے، سوتیلے باپ نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے، میرے پاس کھانے کو کوئی چیز ہے، نہ پہننے کو کپڑا۔‘‘یتیموں کے ملجاﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے،فرمایا کہ’’ اگر میں تمہارا باپ، عائشہؓ تمہاری ماں اور فاطمہؓ تمہاری بہن ہو، تو خوش ہو جائو گے؟‘‘ کہنے لگا’’ یارسول اللہﷺ! اس پر مَیں کیسے راضی نہیں ہو سکتا۔‘‘حضورِ اکرمﷺبچّے کو گھر لے گئے۔(بعض روایات میں یہ واقعہ کچھ اور الفاظ میں بھی بیان کیا گیا ہے) حضرت معروف کرخیؒ اکابر صوفیاء میں شامل ہیں، ایک عید پر نخلستان میں گری کھجوریں چُن رہے تھے۔ایک شخص نے پوچھا ’’ایسا کیوں کر رہے ہیں؟‘‘ تو فرمایا’’مَیں نے ایک لڑکے کو روتے دیکھا، تو اُس سے پوچھا’’ تم کیوں رو رہے ہو؟‘‘لڑکا بولا’’ مَیں یتیم ہوں۔ یہ لڑکے اخروٹوں سے کھیل رہے ہیں اور میر ے پاس اتنے پیسے نہیں کہ اخروٹ خرید کراُن کے ساتھ کھیل سکوں۔‘‘ اس لیے مَیں کھجوریں چُن رہا ہوں تاکہ اُنہیں فروخت کرکے اُس یتیم بچّے کو اخروٹ لے دوں۔‘‘(اِحیاء العلوم )

صدقۂ فطر

صدقۂ فطر ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر واجب ہے، اس ضمن میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ’’رسول اللہﷺ نے صدقۂ فطر واجب کیا تاکہ روزہ لغو اور بے ہودہ باتوں سے پاک ہوجائے اور مساکین کے لیے کھانے کا بندوبست بھی ہو جائے۔‘‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر صدقۂ فطر کا فلسفہ یہی ہے کہ عید الفطر کی خوشیوں میں غریب مسلمان بھی بھرپور طریقے سے شریک ہو سکیں۔اسی طرح ایک اور حدیث شریف ہے کہ’’ عید الفطر کے دن محتاجوں کو خوش حال بنا دو۔‘‘گو کہ صدقۂ فطر کبھی بھی دیا جا سکتا ہے، تاہم عام طور پر ماہِ رمضان کے آخری دنوں میں ادا کیا جاتا ہے، جب کہ بہت سے لوگ نمازِ عید کے لیے جاتے ہوئے راہ میں بیٹھے بھکاریوں کو فطرانہ دیتے جاتے ہیں، جو کہ مناسب طریقہ نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ عید سے قبل ہی فطرانہ ادا کردیا جائے تاکہ ضرورت مند افراد بھی عید کی تیاری کرسکیں۔ اس ضمن میں ایک اہم بات یہ بھی ذہن نشین رہے کہ عام طور پر گندم کی قیمت کے لحاظ سے فطرانہ ادا کیا جاتا ہے، جو جائز ہے، تاہم امیروں کے لیے مستحب یہی ہے کہ وہ کھجور یا پھر کشمش وغیرہ کے حساب سے فطرانہ دیں تاکہ غریبوں کی اچھے طریقے سے مدد ہو سکے، اسی طرح صاحبِ حیثیت افراد کو فطرانے کے علاوہ بھی عید کے موقعے پر صدقہ خیرات کرنا چاہیے کہ اس سے غریبوں کو عید کی خوشیاں نصیب ہوں گی اور ہوسکتا ہے کہ کسی کی دُعا آپ کی زندگی میں بھی مزید خوشیاں بھر دے۔

عید الفطر کی سُنتّیں

کُتبِ احادیث میں عید کے دِن کی متعدّد سنتیں مرکوز ہیں (1) صبح سویرے اُٹھنا:صحابہ کرام ؓ کا معمول تھا کہ وہ نمازِ فجر کے وقت ہی نمازِ عید کی تیاری کر لیتے تھے ۔ حضرت ابنِ عُمرؓ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ مسجدِ نبویؐ میں فجر کی نماز پڑھتے اور پھر اسی حال میں عیدگاہ کی طرف نکل پڑتے۔(2)غسل کرنا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’ اے مسلمانوں کی جماعت!اللہ تعالی نے اِس دن کو مسلمانوں کے لیے عید کا دن بنایا ہے، لہٰذا تم اِس دن غسل کرو۔‘‘(3) مسواک کرنا(4) نئے یا جو بہتر کپڑے موجود ہوں، پہننا:حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں کہ’’ہمیں نبی کریمﷺ نے حکم فرمایا کہ ہم اپنی حیثیت کے مطابق اچھا لباس پہنیں۔‘‘(طبرانی)خود رسول اللہﷺ عید کے دن خُوب صورت اور عمدہ لباس زیبِ تن فرماتے۔ کبھی سبز و سُرخ دھاری دار چادر اوڑھتے، جو یمن کی ہوتی جسے’’ بُرد یمانی‘‘ کہا جاتا ہے۔(مدارج النبوۃ)(5) خوش بُو لگانا(6) شریعت کے مطابق اپنی آرائش کرنا(7) عید گاہ جلد پہنچنا(8) عید گاہ جانے سے پہلے کوئی میٹھی چیز کھانا(9) عید گاہ جانے سے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنا(10) عید کی نماز (مسجد کی بجائے) عید گاہ یا کُھلے میدان میں پڑھنا(11) ایک راستے سے عیدگاہ جانا اور دوسرے سے واپس آنا(12)’’ اللہ اکبر اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ واللہ اکبر، اللہ اکبر وللہ الحمد‘‘ آہستہ آہستہ کہتے ہوئے عید گاہ کی طرف جانا(13) نمازِ عید کے لیے پیدل جانا، تاہم اگر عیدگاہ زیادہ دُور ہو یا کم زوری کے باعث پیدل نہ جا سکتے ہوں، تو سواری پر بھی جانے میں مضائقہ نہیں۔

تفریح، مگر حدود کے اندر…

یومِ عید اپنی اصل میں ایک مذہبی تہوار ہے، اس لیے اِس روز ہونے والی تمام سرگرمیوں کو اسی تناظر میں ترتیب دیا جانا چاہیے۔تاہم،یہ بھی ذہن میں رہے کہ اسلام نے خوشی کے اظہار سے منع نہیں کیا اور نہ ہی اسلام کے نزدیک تقویٰ وپرہیزگاری کا مطلب خشک مزاجی اور رُوکھا پن ہے۔البتہ، اسلام نے تہواروں اور تفریحات کو کچھ حدود وقیود کا پابند ضرور بنایا ہے تاکہ بے لگام خواہشات اور نفس پرستی کی راہ روکی جا سکے۔عید کا آغاز، دو رکعت نماز سے ہوتا ہے، جو اس بات کا اظہار ہے کہ کوئی بھی مسلمان اپنی مذہبی اور تہذیبی روایات میںاللہ تعالیٰ کی ہدایات سے لاپروا نہیں ہوسکتا۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ ’’ عید کا دن تھا اور حضور نبی کریمﷺ کے حجرے کے سامنے حبشہ کے کچھ لوگ نیزوں اور ڈھالوں کے ساتھ کرتب دِکھا رہے تھے، آپﷺ دروازے میں سے اُنہیں دیکھ کر خوشی کا اظہار فرما رہے تھے اور مَیں بھی حضورِ اقدسﷺ کی چادر مبارک کی پیچھے چُھپ کر یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔آپﷺ بہت دیر تک مجھے چادر کی اوٹ میں چھپائے اُن غلاموں کا کھیل دِکھاتے رہے۔جب میرا جی بھر گیا، تو آپﷺ نے فرمایا’’ بس!‘‘مَیں نے عرض کیا’’ جی ہاں،‘‘فرمایا’’ تو جائو۔‘‘( بخاری ومسلم )اسی طرح حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ عید کے دن ہمارے گھر میں کچھ بچیاں جنگِ بعاث سے متعلق کچھ اشعار گنگنا رہی تھیں، اسی دَوران حضرت ابو بکرؓ تشریف لائے اور کہنے لگے’’ اللہ کے رسولﷺ کے گھر میں یہ ہے؟‘‘ آپﷺ حضرت ابوبکرؓ کی طرف متوجّہ ہوئے اور فرمایا’’اے ابوبکرؓ! انہیں رہنے دو، ہر قوم کے لیے تہوار کا ایک دن ہوتا ہے، آج ہمارے لیے عید کا دن ہے۔‘‘ (بخاری)

شوال کے چھے روزے

رمضان المبارک کے بعد ماہِ شوال میں چھے روزے رکھنا مستحب ہیں اور احادیثِ مبارکہؐ میں ان کی بہت فضیلت اور ترغیب آئی ہے۔نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے’’ جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھے اور اُس کے بعد ماہِ شوال میں چھے نفلی روزے رکھے، تو اُس کا یہ عمل ہمیشہ روزے رکھنے کے برابر ہو گا۔‘‘حضرت ابو ایّوب انصاریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا’’ جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھے روزے رکھے، تو یہ ایسا ہے ،جیسے پورے سال کے روزے ہوں۔‘‘( صحیح مسلم)یہ روزے مسلسل بھی رکھے جا سکتے ہیں اور وقفہ دے کر بھی، یعنی اپنی سہولت کے مطابق شیڈول ترتیب دیا جا سکتا ہے۔


مکمل خبر پڑھیں