Advertisement

تھانہ کلچر میں تبدیلی

June 02, 2019
 

تھانہ کلچر کی تبدیلی اور عوام اور پولیس کے درمیان رابطوں کو فروغ دے کر دوریاں ختم کرنے کے لئے سکھر پولیس حکام کی جانب سے کمیونٹی پولیسنگ کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔آئی جی سندھ سید کلیم امام کے احکامات پر مختلف مقامات پر نئی چوکیاں قائم کردی گئی ہیں، جنہیں شہدائے پولیس کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ جدید طرز پربننے والی ان چوکیوں میں پبلک بوتھ بنائے گئے ہیں، جہاں پر 24گھنٹے عملہ تعینات رہتا ہے، چلتی پھرتی ان پولیس چوکیوں کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی میں پولیس کو کافی مدد مل رہی ہے، جب کہ کسی روڈ حادثے، آگ لگنے سمیت دیگر ناگہانی آفت کی صورت میں بھی پولیس کی جانب سے بروقت کارروائی کرکے عوام کو ریلیف فراہم کیا جارہا ہے۔

سکھر پولیس کی جانب سے جہاں امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانے، ڈاکوئوں، جرائم پیشہ و سماج دشمن عناصر کو گرفتار کرنے کے لئے بھرپور انداز سے کریک ڈائون جاری ہے تو وہیں دوسری جانب پولیس نے عوام کے اندر اعتماد بڑھانے، پولیس اور عوام کے درمیان موجود دوریاں ختم کرنے، تھانہ کلچر کی تبدیلی میں بھی اہم پیش رفت کی جارہی ہے، جس کا واضح ثبوت سکھر کے نصف درجن سے زائد مختلف مقامات پر نئی چوکیوں کا قیام عمل میں لانا ہے۔ آئی جی سندھ سید کلیم امام کی جانب سے ملنے والے احکامات کی روشنی میں سکھر پولیس نے کمیونٹی پولیسنگ کے تحت جرائم کی روک تھام اور کسی حادثے و ناگہانی آفت کی صورت میں شہریوں کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے شہر کے مختلف تھانوں کی حدود میں پکٹ بوتھ قائم کئے ہیں، جنہیں نئی چوکیاں قرار دیا جارہا ہے۔ ان بوتھ کو شہدائے پولیس کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ نئے قائم کئے گئے پکٹ بوتھ یا پولیس چوکیاں جرائم کی روک تھام اور شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے، پولیس اور عوام کے درمیان حائل فاصلوں میں کمی کے لیےاپنا اہم کردار ادا کررہی ہیں۔

ان چوکیوں کے قیام کا مقصد کسی بھی علاقے میں ہونے والی واردات کی فوری اطلاع پولیس تک پہنچانا ہے، چوکیوں پر تعینات پولیس اہلکار اسلحے اور واکی ٹاکی سیٹ سمیت دیگر سہولتوں سے لیس ہیں، جہاں کسی بھی واردات، چوری، ڈکیتی، حادثے یا پولیس کی مدد کے حوالے سے کوئی بھی ضرورت کی فوری اطلاع اس کمپلینٹ بوتھ پر دی جاتی ہے، جہاں پر تعینات عملہ ایس ایس پی سکھر کے کنٹرول روم، علاقے میں موجود گشت پر تعینات پولیس اہلکاروں اور متعلقہ تھانے کو دیتا ہے، جس پر متعلقہ تھانے اور علاقے میں گشت کرنے والے پولیس اہل کارموقع پر پہنچتے ہیں۔ کسی بھی حادثے، چوری، لوٹ مار، جھگڑے کے حوالے سے بروقت اطلاع ان کمپلین بوتھ میں دی جاتی ہے اس کی ابتدائی رپورٹ بھی پولیس اپنے طور پر درج کرتی ہے جو متعلقہ تھانے کے سپرد کی جاتی ہے۔

ایڈیشنل آئی جی سکھر ڈاکٹر جمیل احمد کی جانب سے مختلف علاقوں میں موجود، شہدائے پولیس کے نام سے موسوم ،چوکیوں کا دورہ کرکے معائنہ کیا ۔ اس موقع پر ایس ایس پی سکھر عرفان علی سموں نے ایڈیشنل آئی جی کو چوکیوں کے قیام کے حوالے سے بریفنگ دی اور بتایا کہ ان چوکیوں کے قیام کے بعد پولیس اور عوام کے درمیان حائل فاصلے ختم ہوئے ہیں اور دوستانہ ماحول بھی پروان چڑھا ہے۔ لوگ کسی بھی جرائم پیشہ یا مشکوک شخص کے متعلق چوکی پر آکر خاموشی سے اطلاع دیتے ہیں جس پر پولیس بروقت کارروائی کرتی ہے اور متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر اس کے خلاف فوری کارروائی کی جاتی ہے۔ٹریفک حادثات کی صورت میں ان چوکیوں کے قیام کے باعث لوگوں کو بروقت امداد و ریلیف ملا ہے۔

ایس ایس پی سکھر عرفان علی سموں نے جنگ کو بتایا کہ پولیس اور عوام کے مابین رابطہ بڑھانے اور جرائم کی روک تھام کے لئے شہروگردنواح کے مختلف پوائنٹس پر نئی چوکیاں قائم کردی گئی ہیں۔ پولیس چوکیوں کو شہدائے پولیس سکھر کے نام سے منسوب کرنا مرحوم اہل کاروںکی عوام کے جان و مال کے تحفظ کی خاطر لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھنا ہے۔ سکھر شہر کے 6 مختلف مقامات پر یہ شہدائے پولیس چوکیاں جدید طرز پر استوار ہیںجو ایک طرح سے موبائل پولیس چوکیاں ہیں۔ تھوڑے تھوڑے عرصے بعد ان کی لوکیشن تبدیل ہوتی رہے گی جب کہ ان چوکیوں کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے۔ سکھر کے بعد اس طرح کی چوکیاں روہڑی، پنوعاقل، صالح پٹ سمیت دیگر علاقوں میں بھی قائم کی جائیں گی تاکہ تمام علاقوں کے عوام ان سے استفادہ حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خودوقتاً فوقتاً ان پولیس چوکیوں کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ اور وہاں تعینات اہل کاروں سے معلومات حاصل کرتے رہیں گے۔ ان پولیس چوکیوں کے قیام سے پولیس کو جرائم پیشہ، مشتبہ و مشکوک افراد کی گرفتاری میں کافی مدد ملی ہے اور جن علاقوں میں یہ پولیس چوکیاں قائم کی گئی ہیں ان علاقوں میں جرائم کی شرح تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ ابتدائی طور پر ان پولیس چوکیوں کی تعداد صرف 6رکھی گئی ہیں تاہم ان کی تعداد میں مزید اضافہ بھی کیا جائیگا، ان پولیس چوکیوں کے قیام کے بعد عوام و پولیس کے درمیان بھی رابطے مزیدمضبوط و مستحکم ہوئے ہیں اور لوگوں کا پولیس پر اعتماد بھی بڑھا ہے، لوگ اپنے مسائل کے حل، مشتبہ و مشکوک افراد کی اطلاع، سماجی برائیوں کے اڈے چلنے سمیت دیگر حوالے سے تمام تر معلومات و شکایات کو پولیس چوکیوں پر تعینات عملے کے علم میں لاتے ہیں جس کے بعد عملہ فوری طو رپر کارروائی کرکے شکایات کے ازالے کو یقینی بناتا ہے۔

شہری و عوامی حلقوں کی جانب سے شہدائے پولیس کے نام سے نئی پولیس چوکیاں قائم کئے جانے، عوام کی شکایات پر بروقت کارروائی کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہاگیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے پولیس اور عوام کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ ملے گا، رابطے مضبوط ہوںگے، پولیس عوام کے ساتھ مل جرائم کی سرکوبی اور معاشرتی برائیوں کے خاتمے میں مزید بہتر انداز سے اپنا کردار ادا کرسکے گی۔


مکمل خبر پڑھیں