Advertisement

داخلی سلامتی کے استحکام کیلئے نئی سکیورٹی پالیسی کامسودہ تیار

June 12, 2019
 

اسلام آباد(طاہر خلیل) ملک میں داخلی سلامتی کو مستحکم بنانے کےلئے ایک نئی سکیورٹی پالیسی کامسودہ تیار کرلیاگیا ہے۔ قومی اور بین الاقوامی ایشوز شامل، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی سفارشات پر نمایاں پیشرفت ہوگئی، تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے نئی سکیورٹی پالیسی میں تمام قومی اور بین الاقوامی ایشوز کو شامل کیاگیا ہے۔ نئے مالی سال کی سرکاری دستاویزات میں بتایا گیا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی سفارشات کے مطابق منی لانڈرنگ، ٹیررسٹ فنانسنگ سے نمٹنے کی حکمت عملی پر نمایاں پیشرفت کی گئی ہے ۔ملک سے کرپشن کے خاتمے کےلئے نیب کو مستحکم بنایا گیا ہے،اسلام آباد کے سات پولیس سٹیشنز کو ماڈل پولیس تھانوں میں بدلا جائے گا، بلوچستان میں امن و امان کی بہتری کےلئے بلوچستان کا نسٹیبلری کے نام سے ایک نئی فورس قائم ہوگی۔ سرحد پار دہشت گردی روکنے کےلئے افغان سرحد پر باڑلگانے کا کام جلد مکمل کرلیا جائے گا۔ وزارت داخلہ کے نئے منصوبوں میں ارکان پارلیمنٹ کےلئے اضافی فیملی سوٹس کے ساتھ پارلیمنٹ لاجز میں 500 سرونٹ کوارٹرز بھی تعمیر ہوں گے۔ چینی انجینئرز کی سکیورٹی کےلئے پاکستان رینجرز سندھ کے سکیورٹی اہلکاروں کےلئے رہائش گاہیں تعمیر ہوں گی جس پر28 کروڑ 72لاکھ روپےخرچ ہوں گے۔ ڈپلو میٹک انکلیو اسلام آباد میں پولیس سیکورٹی ایڈمن بلاک، کوارٹر گارڈ، بیرکس، گھوڑوں کے اصطبل اور پریڈ گرائونڈ تعمیر ہوں گے۔منڈی بہائو الدین ، ایبٹ آباد، بنوں میں ریجنل پاسپورٹ آفس تعمیر ہوں گے۔ سوشل میڈیا پر نظر رکھنے کےلئے ایک نیا سائبر پٹرولنگ یونٹ قائم ہوگا۔ اس کے ساتھ نیشنل رسپانس سینٹر برائے سائبر کرائمز کے تیسرے مرحلے کے قیام کےلئے چالیس کروڑ روپےرکھے گئے۔ سوات، مالاکنڈ، وزیرستان اور خیبرپختونخواہ کے دیگر متاثرہ علاقوں میں سکیورٹی کو مستحکم بنانے کےلئے خصوصی منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔چینی باشندوں کی سکیورٹی کےلئے چکری راولپنڈی اور رحیم یار خان میں سپیشل سکیورٹی ونگز بنانے کا بھی فیصلہ ہوا ہے۔ایف سی ہیڈ کوارٹر کو قلعہ بالا حصار سے حیات آباد پشاور میں منتقل کیا جائے گا۔اسلام آباد ایکسپریس وے کو کورال سے روات تک توسیع دی جائے گی۔ پارلیمنٹ ہائوس میں سکیورٹی انتظامات بڑھانے کا فیصلہ کیاگیا ہے اس منصوبے پر دوکروڑ چھتیس لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔


مکمل خبر پڑھیں